سنہ 2025 عالمی دفاع اور سلامتی کے حوالے سے ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوا۔ یہ وہ سال تھا جب علاقائی تنازعات محض الگ الگ جنگیں نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے سے جڑ کر ایک ہمہ گیر عالمی سکیورٹی بحران کی شکل اختیار کر گئے۔ جنگ، ڈیٹرنس، معاشی دباؤ، سائبر کارروائیاں اور سمندری طاقت—سب ایک ہی اسٹریٹجک نظام میں ضم ہو گئے، جہاں امن اور جنگ کے درمیان حدیں تیزی سے مٹتی چلی گئیں۔
یوکرین جنگ: طویل تنازع اور عالمی تقسیم
یوکرین کی جنگ 2025 میں اپنے چوتھے سال میں داخل ہوئی مگر کسی حتمی حل کے بغیر۔ روس نے مشرقی اور جنوبی یوکرین کے کچھ علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی، جبکہ کیف نے نیٹو کی حمایت سے ایک طویل المدتی دفاعی حکمتِ عملی اپنائی جس میں ڈرونز، میزائل حملے اور معاشی مزاحمت مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

روسی صدر Vladimir Putin نے اس جنگ کو مغرب کے خلاف وجودی جدوجہد قرار دیا، جبکہ امریکا میں Donald Trump کی واپسی نے سفارتی منظرنامہ بدل دیا۔ واشنگٹن نے ماسکو سے خاموش رابطے بحال کیے، جن میں ایسے امن فریم ورک زیرِ غور آئے جن میں علاقائی سمجھوتوں کے اشارے شامل تھے۔ اس نے یورپی اتحادیوں میں شدید بے چینی پیدا کی اور نیٹو کے اندر اختلافات کو نمایاں کر دیا۔
مشرقِ وسطیٰ: ایک جنگ، کئی محاذ
2025 میں مشرقِ وسطیٰ کسی ایک جنگ کا نہیں بلکہ جڑی ہوئی جنگوں کا میدان بن گیا۔ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں جاری رہیں، جن کے انسانی اثرات نے عالمی دباؤ میں اضافہ کیا۔ لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی مکمل جنگ سے ایک قدم دور رہی۔

ایران نے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھایا، جس کا سب سے نمایاں اظہار بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں کی صورت میں سامنے آیا۔ ان حملوں نے عالمی تجارت کی ایک اہم شاہراہ کو عسکری زون میں بدل دیا اور امریکا و اتحادی ممالک کو مسلسل بحری آپریشنز پر مجبور کر دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ایک غیر ریاستی قوت نے عالمی تجارت کو اس پیمانے پر متاثر کیا۔
انڈو پیسیفک: خاموش مگر فیصلہ کن عسکریت
اگرچہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں کھلی جنگ جاری رہی، مگر انڈو پیسیفک 2025 میں مستقبل کی سب سے بڑی جنگی تیاریوں کا مرکز بن گیا۔ چین نے تائیوان کے گرد فضائی اور بحری سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا، جو دراصل ناکہ بندی اور دباؤ کی مشقیں تھیں۔
![]()
People’s Liberation Army Navy نے جنوبی بحیرۂ چین سے لے کر بحرِ ہند تک اپنی موجودگی بڑھائی، جہاں آبدوزیں اور نگرانی کے جہاز باقاعدگی سے تعینات ہونے لگے۔ جواباً امریکا نے جاپان، آسٹریلیا، بھارت اور فلپائن کے ساتھ دفاعی تعاون کو عملی سطح پر لے آیا۔ AUKUS اور QUAD محض سفارتی فورمز نہیں رہے بلکہ فعال عسکری تعاون کے ڈھانچوں میں ڈھل گئے۔
بحری سلامتی: عالمی تجارت خطرے میں
2025 وہ سال تھا جب سمندری راستے عالمی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکز بن گئے۔ بحیرۂ احمر، آبنائے ملاکا اور تائیوان اسٹریٹ جیسے مقامات پر کشیدگی نے یہ واضح کر دیا کہ عالمی معیشت کا انحصار کس قدر نازک بحری راستوں پر ہے۔

بحری بیڑوں نے قافلوں کے تحفظ، میزائل دفاع اور بغیر پائلٹ بحری نظاموں پر توجہ مرکوز کی۔ انشورنس لاگت بڑھی، جہازوں کے راستے طویل ہوئے اور توانائی کی منڈیوں کو بار بار جھٹکے لگے۔
جدید ٹیکنالوجی اور جنگ کی نئی شکل
2025 میں جنگ کی نئی ٹیکنالوجیز معمول بن گئیں۔ ڈرونز یوکرین، غزہ اور دیگر محاذوں پر مرکزی ہتھیار بنے۔ مصنوعی ذہانت نے ہدف کے تعین، لاجسٹکس اور انٹیلی جنس کے عمل کو بدل دیا، جبکہ سائبر حملوں نے انفراسٹرکچر اور مالیاتی نظام کو خاموشی سے نشانہ بنایا۔
جنگ سستی، تیز اور زیادہ مبہم ہو گئی—جس سے تشدد کی دہلیز کم اور اس کی مدت طویل ہو گئی۔
اتحادی نظام دباؤ میں

نیٹو عسکری طور پر متحد رہا مگر سیاسی طور پر دباؤ کا شکار ہوا۔ یورپی ممالک نے تیزی سے دفاعی اخراجات بڑھائے، اس احساس کے ساتھ کہ امریکی سکیورٹی ضمانتیں اب غیر مشروط نہیں رہیں۔ دوسری جانب، گلوبل ساؤتھ کے کئی ممالک نے کسی ایک بلاک کے ساتھ مکمل وابستگی سے گریز کرتے ہوئے توازن کی پالیسی اپنائی۔
نتیجہ: 2025، واپسی کا نہ ہونے والا موڑ
2025 وہ سال ثابت ہوا جب دنیا کسی نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ نہیں رہی تھی بلکہ اس کے اندر داخل ہو چکی تھی۔ جنگیں ختم نہیں ہوئیں، بلکہ نئی شکل اختیار کر گئیں۔ ڈیٹرنس ٹوٹا نہیں، بلکہ بکھر گیا۔ سفارت کاری ختم نہیں ہوئی، مگر زیادہ محدود اور خاموش ہو گئی۔
2025 کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ عالمی سلامتی اب عارضی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ آئندہ چیلنج جنگ روکنے سے زیادہ، اس دنیا میں جینا سیکھنے کا ہے جہاں تنازع، دباؤ اور مسابقت معمول بن چکے ہیں۔




