جمعہ, 16 جنوری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

قندھار میں سراج الدین حقانی کی موجودگی: طالبان قیادت میں اختلافات کے تناظر میں اہم پیش رفت

طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے طالبان کے بانی ملا محمد عمر کی والدہ کے جنازے میں شرکت کے لیے قندھار کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نمازِ جمعہ کے بعد متعدد افراد سے ملاقاتیں کیں۔

سفر کے دوران سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد سراج الدین حقانی کے گرد جمع ہیں اور ان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ قندھار طالبان کا روایتی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہی شہر طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی رہائش گاہ بھی ہے، جس کے باعث حقانی کی موجودگی کو سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر: اندرونی اختلافات

یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں طالبان قیادت کے اندر اختلافات کی خبریں مسلسل رپورٹ ہو رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے صوبہ خوست میں ایک خطاب کے دوران سراج الدین حقانی نے طالبان کی حکمرانی کے انداز پر تنقیدی ریمارکس دیے تھے، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ خوف اور جبر کے ذریعے حکومت مؤثر طور پر نہیں چلائی جا سکتی۔

مبصرین کے مطابق طالبان کی ایک اہم سیکیورٹی شخصیت کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات کو گروپ کے اندر اختلافات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہیبت اللہ اخوندزادہ کا مؤقف

طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ ماضی میں عوامی یا داخلی تنقید کو ناپسند کرتے رہے ہیں۔ طالبان قیادت کے بعض سابق اور موجودہ عہدیداروں کو اختلافِ رائے کے بعد تنظیمی ڈھانچے سے الگ کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  افغانستان کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستانی طیاروں کی بمباری سے 46 افراد ہلاک ہوگئے، ترجمان افغان طالبان

ان میں طالبان کے سابق نائب وزیر خارجہ عباس ستانکزئی شامل ہیں، جو اختلافات کے بعد ملک سے باہر چلے گئے اور واپس نہیں آ سکے۔ اسی طرح توانائی اور پانی کی وزارت کے ایک سینئر مشیر فاروق اعظم کو بھی لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق پالیسی پر تنقید کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ سراج الدین حقانی کے معاملے میں یہ حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی، کیونکہ ان کے پاس مضبوط سیکیورٹی نیٹ ورک اور عسکری اثر و رسوخ موجود ہے۔

ردعمل اور داخلی بیانات

حقانی کے حالیہ بیانات کے بعد طالبان قیادت کے دیگر اہم رہنماؤں نے بھی بیانات دیے ہیں۔ طالبان کے نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر نے تنظیمی اتحاد اور داخلی ہم آہنگی پر زور دیا، جبکہ وزیر تعلیم ندا محمد ندیم نے اندرونی اختلافات کے ممکنہ نتائج سے خبردار کرتے ہوئے قیادت سے وفاداری کی ضرورت پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں بھی طالبان کے اندر اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض طالبان رہنما بعض اوقات امیر کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتے۔

میڈیا سرگرمی اور طاقت کا اظہار

طالبان قیادت کے بعض رہنما، جن میں سراج الدین حقانی، عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور امیر خان متقی شامل ہیں، مسلسل اپنی سرگرمیوں کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کر رہے ہیں، جبکہ طالبان کے بعض دیگر عہدیدار حکومتی ہدایات کے بعد میڈیا سے مکمل اجتناب اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق سراج الدین حقانی کا قندھار اور اس سے قبل خوست میں عوامی سطح پر نمودار ہونا، ان کے سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ کو نمایاں کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  معاشی بحران نے افغان طالبان میں میں پھوٹ ڈال دی، کیا افغان حکومت گر جائے گی؟

آئندہ منظرنامہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قندھار کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان قیادت کے مستقبل، داخلی اتحاد اور عالمی سطح پر قبولیت کے حوالے سے سوالات بڑھ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں طالبان کے اندر وفاداری، اطاعت اور اتحاد پر زور دیا جانا تنظیم کے اندرونی خدشات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین