طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے طالبان کے بانی ملا محمد عمر کی والدہ کے جنازے میں شرکت کے لیے قندھار کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نمازِ جمعہ کے بعد متعدد افراد سے ملاقاتیں کیں۔
سفر کے دوران سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد سراج الدین حقانی کے گرد جمع ہیں اور ان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ قندھار طالبان کا روایتی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہی شہر طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی رہائش گاہ بھی ہے، جس کے باعث حقانی کی موجودگی کو سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پس منظر: اندرونی اختلافات
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں طالبان قیادت کے اندر اختلافات کی خبریں مسلسل رپورٹ ہو رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے صوبہ خوست میں ایک خطاب کے دوران سراج الدین حقانی نے طالبان کی حکمرانی کے انداز پر تنقیدی ریمارکس دیے تھے، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ خوف اور جبر کے ذریعے حکومت مؤثر طور پر نہیں چلائی جا سکتی۔
مبصرین کے مطابق طالبان کی ایک اہم سیکیورٹی شخصیت کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات کو گروپ کے اندر اختلافات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہیبت اللہ اخوندزادہ کا مؤقف
طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ ماضی میں عوامی یا داخلی تنقید کو ناپسند کرتے رہے ہیں۔ طالبان قیادت کے بعض سابق اور موجودہ عہدیداروں کو اختلافِ رائے کے بعد تنظیمی ڈھانچے سے الگ کیا جا چکا ہے۔
ان میں طالبان کے سابق نائب وزیر خارجہ عباس ستانکزئی شامل ہیں، جو اختلافات کے بعد ملک سے باہر چلے گئے اور واپس نہیں آ سکے۔ اسی طرح توانائی اور پانی کی وزارت کے ایک سینئر مشیر فاروق اعظم کو بھی لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق پالیسی پر تنقید کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ سراج الدین حقانی کے معاملے میں یہ حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی، کیونکہ ان کے پاس مضبوط سیکیورٹی نیٹ ورک اور عسکری اثر و رسوخ موجود ہے۔
ردعمل اور داخلی بیانات
حقانی کے حالیہ بیانات کے بعد طالبان قیادت کے دیگر اہم رہنماؤں نے بھی بیانات دیے ہیں۔ طالبان کے نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر نے تنظیمی اتحاد اور داخلی ہم آہنگی پر زور دیا، جبکہ وزیر تعلیم ندا محمد ندیم نے اندرونی اختلافات کے ممکنہ نتائج سے خبردار کرتے ہوئے قیادت سے وفاداری کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں بھی طالبان کے اندر اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض طالبان رہنما بعض اوقات امیر کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتے۔
میڈیا سرگرمی اور طاقت کا اظہار
طالبان قیادت کے بعض رہنما، جن میں سراج الدین حقانی، عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور امیر خان متقی شامل ہیں، مسلسل اپنی سرگرمیوں کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کر رہے ہیں، جبکہ طالبان کے بعض دیگر عہدیدار حکومتی ہدایات کے بعد میڈیا سے مکمل اجتناب اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق سراج الدین حقانی کا قندھار اور اس سے قبل خوست میں عوامی سطح پر نمودار ہونا، ان کے سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ کو نمایاں کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آئندہ منظرنامہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قندھار کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان قیادت کے مستقبل، داخلی اتحاد اور عالمی سطح پر قبولیت کے حوالے سے سوالات بڑھ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں طالبان کے اندر وفاداری، اطاعت اور اتحاد پر زور دیا جانا تنظیم کے اندرونی خدشات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔




