ہفتہ, 30 اگست, 2025

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

بھارت کی شکست نے مغرب کو لرزا دیا

پاکستان اور بھارت کے مابین چار روز تک جاری رہنے والی اُس مختصر ترین جنگ کا عالمی طاقتوں نے فی الحال بارہ دنوں کے لئے سیز فائر کرا دیا ، جس نے جنوبی ایشیا کی سٹرٹیجک حرکیات کو بدلنے کے علاوہ عالمی سطح پہ طاقت کا پیراڈائم تبدیل کر دیا ۔

چینی اسٹریٹیجک ماہر پروفیسر وکٹر گاؤ کہتے ہیں ” چین کو پاکستان اور پاکستانی فوج کا شکر گزار ہونا چاہئے جس نے دنیا پر چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی دھاک بیٹھا کر چین کے سپر پاور بننے کا دروازہ کھول دیا ” ۔ بھارت کے دفاعی ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ چینی وار ٹیکنالوجی کو خود چینی فوج اس قدر مہارت کے ساتھ بروکار نہ لا سکتی ، جتنی کامیابی سے پاکستانی فوج نے اُسے استعمال کیا ۔

مغرب کے دفاعی ماہرین حیرت زدہ ہیں کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی ہیکرز نے انتہائی دلیرانہ سائبر آپریشن کے ذریعے بھارت کے 2500 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کا کنٹرول حاصل کرکے بھارتی دفاعی ویب سائٹ کے اندر تک رسائی پا لی ، پاکستانی ہیکرز نے انڈین فضائیہ کے ڈیٹا بیس سسٹم میں داخل ہو کر ایک گولی چلائے بغیر بھارتی دفاعی ڈھانچہ کو ناکارہ بنا دیا۔ پاکستانی کی بورڈ واریئرز نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف فضائی، بحری یا بری میدان میں ہی نہیں بلکہ سائبر پاور کی جنگ میں بھی دنیا کو چونکا سکتے ہیں۔

بھارتی جارحیت کی ناکامی کی اور بھی بہت سی وجوہات ہوں گی لیکن اس دردناک شکست کی بنیادی وجہ پاکستان کی دفاعی قوت بارے بھارت کی ناقص معلومات تھیں بلکہ پاکستان کی جوابی صلاحیت بارے امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل کی لاعلمی نے مغربی ممالک کے انٹیلیجنس سسٹم کو لرزا کے رکھ دیا ، بھارتی شکست کے بعد اسرائیل ، امریکہ اور یورپ لڑکھڑا رہے ہیں کیونکہ چار دنوں پہ محیط اس مختصر سی جنگی سرگرمی نے وار ڈاکٹرئن کی پوری حدود علم (Episteme) کو بدل ڈالا ، بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا بیتابی سے منتظر امریکہ اور یوروپ کا اجتماعی ضمیر گھبراہٹ کے عالم میں اپنی خفت مٹانے کی خاطر اب شدت کے ساتھ پاکستان کی تعریف و ستائش کو اپنے سازشی منصوبوں کی ناکامیوں کا نقاب ابہام بنانے میں سرگرداں دیکھائی دیتا ہے کیونکہ سائبر وار فیئر میں بھارت کی حتمی شکست ، جو طویل عرصہ تک اُسے دوبارہ کھڑا نہیں ہونے دے گی ، کے اصل ذمہ دار امریکہ و اسرائیل ہیں جن کی فراہم کردہ غلط معلومات پہ انحصار نے نریندر مودی کو پاکستان کے خلاف مہم جوئی میں جھونک کر اسے ان دیکھی تباہی سے دوچار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں  کیا چین نے پاکستان کو PL-15 میزائل فراہم کر دیے؟

اس غیرمعمولی ہزیمت نے بھارت کی پوری متاع غرور لوٹ لی ، نریندر مودی جس کے شخصی وقار کی اساس خوف اور تشدد پہ رکھی تھی،شکست کے باعث ڈیٹرنس ختم ہونے کے بعد اسکی پوری شخصیت راکھ کے ڈھیر کی مانند بکھر گئی، اب وہ اجڑے ہوئے دیوتا کی مانند موت کو مدد کے لئے پکارے گا ۔ یہ ہمہ جہت شکست بھارت کے داخلی دفاعی ڈھانچے اور سیاسی نظام کو دیر تک مضطرب رکھنے کے علاوہ اِسی ناکامی کی کھوکھ سے نمودار ہونے والاغیر متوقع سیاسی انتشار ہندوستان کی جغرافیائی وحدت اور قومی سلامتی کے لئے بھی مہلک ثابت ہو گا۔

 امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان ، 1921 میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ سے شروع ہونے والے بے رحم زوال کے سامنے ایسی آخری فصیل رہ گیا تھا ، جو اگر ٹوٹ جاتی تو کرہ ارض پہ مسلمانوں کا وجود مٹ سکتا تھا تاہم فطرت نے خفیہ تدبیر سے بظاہر اِس اجڑے ہوئے پاکستان کو بھارت جیسی دیو قامت جنگی طاقت پہ حتمی فتح دیکر امت مسلمہ کے تن مردہ میں نئی روح پھونک دی ، بیشک، اجتماعی زندگی میں تبدیلیاں ارادی نہیں بلکہ اچانک نمودار ہوتی ہیں، بھارتی مقتدرہ کی شرمناک شکست کے بعد ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کے چہرے کھل اٹھے ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے علاوہ بھوٹان ، مالدیپ اور نیپال جیسے بھارتی پنجہِ استبداد میں تڑپتے چھوٹے ممالک کو نجات کی راہیں نظر آنے لگیں ۔

بھارتی جارحیت کو چند لمحوں میں کند بنانے کے بعد ایٹمی پاکستان کے بارے میں مڈل ایسٹ کی مسلم ریاستوں کا رویہ یکسر بدلنے لگا ، مشرق وسطی کی چھوٹی چھوٹی امارات سے لیکر ترکی ، ایران ، سعودی عرب اور مصر تک پوری عرب دنیا میں طاقت کی ساری جہتیں بدلنے والی ہیں ۔ اگرچہ بظاہر یہ جنگ چین اور امریکہ کے مابین عالمی بالادستی کا شاخسانہ تھی لیکن اس کشمکش کے دوران بھارت پر پاکستان کی پہلی حتمی برتری نے امریکہ ، اسرائیل اور یورپ کی طرف سے مسلمانوں کو ہمیشہ مغلوب رکھنے کے منصوبے خاک میں مل گئے اور اس سے بھی بڑھ کر پاکستان نے اپنے دفاعی نظام کو امریکی پنجوں سے نکال کر چین اور ترکی کے ساتھ منسلک کرنے میں کامیابی پائی۔

یہ بھی پڑھیں  کیا امریکا نے شام میں اسد حکومت کا تخت الٹنے والے باغی دھڑوں کو مالی مدد فراہم کی؟

تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مملکت خداداد کی تخلیق کے ساتھ ہی امریکہ نے پاکستان کو اپنی سوقیانہ گود میں لیکر اِسے خودمختار مملکت پنپنے سے روکنے کے علاوہ مخصوص حکمت عملی کے تحت اسے ہمہ وقت شکست و ریخت کے بحران میں مبتلا رکھا ، پچھلے 78 سالوں میں امریکہ نے اپنے ” دفاعی اتحادی” پاکستان کو بھارت کے ساتھ الجھائے رکھنے کے باوجود 1948 سے لیکر 2001 کی  دہشتگردی کے خلاف جنگ تک ہر معرکہ میں دانستہ اِسے شکست کا مزہ چکھانے کے انتظامات کرکے بتدریج خطہ میں بھارتی بالادستی کی راہ ہموار بنائی ، 1965 کی جنگ کے دوران واشنگٹن نے پاکستان کی امداد روک لی،1971 میں امریکہ نے پاکستان کو دولخت کرنے کی خاطر درپردہ بنگالی نشنلزم کی حوصلہ افزائی اور بھارتی جارحیت کو تقویت پہنچا کر بنگلہ دیش بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لاریب ، تاریخ کا اہم ترین قانون یہی ہے کہ جو چیز ابھرتی ہے وہ گرتی ضرور ہے ، کابل سے امریکہ کے رسوا کن انخلاء کے بعد پہلی بار پاکستان نے امریکہ کی ” دوستانہ گرفت ” سے باہر نکل کر خود سے کئی گنا بڑے بھارت کو شکست سے دوچار کرکے امریکی دوستی کی مجرمانہ تاریخ کو بے نقاب کر دیا ، میرے خیال میں یہ سراسر امریکی تعلق سے نجات کا فیضان ہے ، جس نے سو سالہ تاریخ میں پہلی بار ہمیں فتح کے سنہرے دن دکھائے۔

 پچھلے 78 سالوں میں امریکی کے منحوس سایہ تلے ہم نے معاشی و سیاسی ناکامیوں، فوجی ہزیمتوں، انتشار، تشدد اور باہمی نفرتوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا تھا ۔ علی ہذالقیاس، بھارت پر پاکستان کی فتح نے صرف خارجی محاذ پر ہی ہماری قوت و سطوت کی دھاک نہیں بٹھائی بلکہ علاقائی بغاوتوں اور اندرونی شورشوں کی کمر توڑنے کے علاوہ پوری قوم کو عزت و وقار کا احساس دیکر متحد کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کی حمایت عمران خان کو کوئی فائدہ دے گی؟

پچھلے چالیس سال کے دوران ریاست کے خلاف پھیلائی گئی نفرتوں کی دھار اچانک کند ہونے لگی ، فتح کے نور سے قوم کے دل دماغ پہ چھائی مایوسی کی تیرگی چھٹ گئی ، صرف چار دنوں کی کشکمش کے نتیجہ میں معتوب فوج پوری قوم کے آنکھوں کا تارہ بن گئی ۔ اب بلوچستان کی علیحدگی کی گونج اور مذہبی تشدد سے آلودہ ٹی ٹی پی کی مذہبی یلغار دم توڑ جائے گی ، وہ مسلح جتھے جو اس ملک کو کمزور و ناکام ریاست سمجھ کر سرکشی پہ کمر بستہ تھے ، ان کی ہمتیں جواب دے گئیں ، سیاسی بغاوتوں کے جنون سے سرشار پی ٹی آئی کی سائبر بریگیڈ بے اثر اور خان کی زہر آلود مقبولیت کا طلسم ہوشربا ٹوٹ چکا۔

پاکستان کی قومی قیادت نے فتح کے باوجود غرور اور جذبہ انتقام میں مبتلا ہوئے بغیرسنجیدہ و باوقار رویہ اپنایا کر دنیا کو مثبت پیغام بھیجا ، عالمی افق پر پاکستان اب ایک ذمہ دار اور موثر ایٹمی طاقت بنکر نمودار ہوا چاہتا ہے ۔

اسلم اعوان
اسلم اعوانhttps://urdu.defencetalks.com/author/aslam-awan/
اسلم اعوان نے صحافت کے متحرک اور ابھرتے ہوئے میدان کے لیے متاثر کن تیس سال وقف کیے ہیں، جس کے دوران انھوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا آؤٹ لیٹس کی متنوع صفوں میں رپورٹنگ اور کالم نگاری دونوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اپنے وسیع کیریئر کے دوران انہوں نے بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا ہے، لیکن انہوں نے افغانستان پر خاص توجہ مرکوز کی ہے، ایک ایسا خطہ جو دہائیوں سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز ہے۔ افغانستان کے سیاسی منظر نامے، سماجی مسائل اور ثقافتی باریکیوں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اعوان کے عزم نے انہیں فیلڈ میں ایک قابل احترام آواز بنا دیا ہے۔ وہ نہ صرف موجودہ واقعات پر رپورٹ کرتے ہیں بلکہ بصیرت انگیز تجزیہ بھی فراہم کرتے ہیں جس سے قارئین کو خطے میں ہونے والی پیش رفت کے وسیع مضمرات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ افغانستان پر اپنے کام کے علاوہ، اعوان وسطی ایشیا اور روس کی جغرافیائی سیاسی حرکیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی امور میں ان کی مہارت انہیں مختلف عالمی واقعات کے درمیان کڑیوں کو جوڑنے کے قابل بناتی ہے، جس سے ایک جامع نقطہ نظر پیش کیا جاتا ہے کہ یہ خطے ایک دوسرے اور باقی دنیا کے ساتھ کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اپنی تحریر کے ذریعے، اسلم اعوان قوموں کے درمیان پیچیدہ تعلقات، عصری مسائل پر تاریخی واقعات کے اثرات اور بین الاقوامی سفارت کاری کی اہمیت کو روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صحافت کے تئیں ان کی لگن ان کی مکمل تحقیق، درستگی سے وابستگی اور کہانی سنانے کے جذبے سے عیاں ہے، یہ سب کچھ اس پیچیدہ دنیا کی گہری تفہیم میں معاون ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین