ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور خاص کر سب سے بڑے صوبے پنجاب کی تقسیم کے مطالبات کی تکرار بہت دیر سے سنائی دے رہی تھی تاہم اِس حوالہ سے لسانی و نسلی عصبیتوں سے لبریز چھوٹے گروہوں کی کمزور آوازیں صدائے بازگشت کی مانند ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی بے رحم خاموشی سے ٹکرا کر واپس پلٹ جاتی تھیں ، اس جمود کی اور بھی بہت سی وجوہات ہوں گی لیکن سب سے بڑی وجہ سرد جنگ کے دوران دفاعی مقتدرہ کو ایک طاقتور صوبائی عصبیت میں مربوط رکھنا مقصود تھا ، جس کے خلاف سوویت یونین سمیت پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ ایجنیسیاں ہمہ وقت سرگرم عمل رہتی تھیں ۔ سندھی، بلوچی اور پشتوں قومیتوں کے اذہان میں پنجاب کو استحصالی صوبہ کے طور پہ منقش کرنے والی تحریکوں کا ہدف بھی فی الاصل پاک فوج ہی تھی تاہم سرد جنگ کے اختتام اور یک قطبی دنیا کے سرعت پذیر انحطاط کے بعد موجزن ہونے والی پیراڈائم شفٹ کی لہروں نے ہماری ہیت مقتدرہ کو ناقابل تسخیر بنایا تو وہ مملکت کی ساخت اور حکمرانی کے مسائل سے نمٹنے کی خاطر سویلین اتھارٹی کی ازسرنو تشکیل کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹانے کی طرف مائل ہوا چاہتی ہے۔
اسی پس منظر میں وسطی پنجاب سے پہلی بار ”دنیا نیوز” کے مالک میاں عامر محمود کی طرف سے شائع کردہ کتابچہ میں پنجاب سمیت چاروں صوبوں کوکم وبیش بارہ نئے صوبوں میں منقسم کرنے کی سنجیدہ تجاویز نے ملک بھر کے فکری ماحول میں ارتعاش پیدا کر دیا ۔ اگر میاں عامرمحمود کی جانب سے پیش کردہ ابتدائی تجاویز کبھی عملی صورت میں ڈھل گئیں تو تاریخ میں انکا نام نامی نئے عہد کا چہرہ بن جائے گا ۔
Pakistan ! Why it continues to fail its people ? کے عنوان سے شائع کردہ کتابچہ کے کے پہلے باب میں جدید فلاحی ریاستوں کے 7 بنیادی افعال پیش کئے گئے , جن میں ” عوامی فلاح ، امن و امان کی بحالی ، سماجی بہبود ، عدل وانصاف کی فراہمی، اقتصادی ترقی کے یکساں مواقع ، سیاسی و فکری آزادیاں اور ریاست کے دفاع جیسی خصوصیات شامل ہیں ” اِن افعال کی توضیح میں بتایا گیا کہ ” ریاست کا فرض اپنے شہریوں کو ایسی پُرامن زندگی فراہم کرنا ہے جس میں حرکت ، سوچنے اور اظہار کی آزادیوں کے علاوہ اجتماعی قومی حیات کو ترقی کے ہموار عمل سے منسلک رکھنا مقصود ہوتا ہے ” ۔
دوسرے باب میں مذکورہ پیمانوں پر آزادی کے78 سالہ سفر کا مختصر الفاظ میں جائزہ لینے کے بعد آٹھ دہائیوں پہ محیط گورننس کی ناکامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ” اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں گورننس کا بحران روزافزوں رہا ، غربت ، آبادی کی صحت، انسانی ترقی، سماجی شعبے کی خدمات تک رسائی، شفافیت، خواندگی، تعلیم، قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی بارے بین الاقوامی سروے کے تمام اعداد و شمار میں پاکستان ہر شعبہ میں شرمناک حد تک پیچھے نظر آیا ،حتی کہ حکومت کے اپنے غیر جانبدارانہ سروے بھی تدریجی زوال اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کی توثیق کرتے ہیں ۔ قومی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانے والا زرعی شعبہ آبپاشی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے جمود کا شکار ، صنعت کے پہیے وقفے وقفے سے جام اور دائمی خسارے نے کرنسی کو کمزور کر دیا، ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ ، بنیادی پیداواری یونٹس جیسے بجلی ، پانی اور تیل کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ نے مجموعی اقتصادیات کو اپاہج بنا کر قومی خود مختاری کو مضمحل بنایا ۔ غیر دستاویزی معیشت اور بدانتظامی کی وجہ سے ٹیکس جمع کرنے کی استعداد گھٹتی گئی ، فرسودہ انفراسٹرکچر اور پیداواری عمل میں حصہ لینے والا انسانی سرمایا ناکارہ ہو جانے کے باعث سماجی شعبے کی خدمات ناقص اور بے روزگاری کا دائرہ پھیلتا گیا ، جس کے نتیجہ میں اقتصادی ارتقاء کا محرک متوسط طبقہ بتدریج سکڑ رہا ہے ۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ 78 سال بعد بھی غریبوں کی بڑی تعداد لنگر خانوں سے روٹی کھانے اور خیراتی پناہ گاہیں تلاش کرنے میں سرگرداں رہ کر عزت نفس کا احساس کھو رہی ہے”۔
اگر مجموعی قومی فضا کی صرف ایک جملہ میں وضاحت کی جائے تو فقط ریاست ہی نہیں بلکہ ہم سب بھی ناکام ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے لکھا ” بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہمارا معاملہ حکمرانی کی ناکامی سے متعلق ہے جو ریاست کی ساخت کا براہ راست نتیجہ ہے کیونکہ ہمارے اہم ادارے اور ان کے آپریٹنگ سسٹم فرسودہ و متروک ہو چکے ، بحالی کے لئے گہری جراحی اور پُرامن اصلاحات کی ضرورت پڑے گی گویا اچھی حکمرانی کے لئے ریاست کے کردار کا از سر نو تعین کرنے کے لئے تمام وفاقی اکائیوں کی تشکیلِ نو از بس ضروری ہے ”۔
اگلے باب میں دیگر ممالک کے جدید خطوط پہ استور کئے گئے انتظامی یونٹس کے حوالہ جات میں امریکہ سے لیکر پڑوسی ملک بھارت میں انتظامی، لسانی اور ثقافتی بنیادی پہ نئے صوبوں کی تشکیل کی خصوصیات پہ بحث کی گئی ۔ چوتھے باب میں ملک کی چاروں اکائیوں سمیت کراچی اور لاہور جیسے کثیر آبادی اور کم رقبہ اور مکران، خاران، خضدار جیسے وسیع علاقوں پہ محیط کم آبادی والے شہروں کی متنوع زندگیوں اور متضاد مسائل پہ سیر حاصل بحث کے ذریعے نئے انتظامی یونٹس کی تدوین کو گورننس کے بحران سے نمٹنے کا موثر وسیلہ ثابت کرنے کی خاطر مستقبل کے ڈیجٹل معاشروں کی ضروریات اور تقاضوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم آج ایسے غیر معمولی دور میں جی رہے ہیں جس کی تخلیق کردہ ٹیکنالوجیز نے ماضی کے برعکس معلومات تک رسائی کے دروازے کھول دیئے، اس عہد کا شہری جدید ریاست کے خد و خال ،اپنے انسانی و سیاسی حقوق اور حمکرانی کے مسائل سے واقف ہونے کی بدولت بااختیار شہری ہے۔ یہی وجہ ہے جو اس دور کا شہری اپنے اجداد کے برعکس ریاست سے غیر مطمئن ہے ، وہ بجا طور پر ریاست سے بہتر کارکردگی کے مظاہرہ کی توقعات رکھتا ہے ۔
امر واقعہ بھی یہی ہے کہ آج کے پاکستانی شہری کے پاس اپنی ریاست سے ناخوش ہونے کی معقول وجوہات موجود ہیں ۔ معتبر بین الاقوامی سروے باقاعدگی سے پاکستانی ریاست کو یاد دلا کر شرمندہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے دکھوں سے لاتعلق ہے ۔ صحت کی دیکھ بھال ہو ، تعلیم ، انصاف تک رسائی ہو یا قانون کی حکمرانی ، ہزاروی ترقیاتی اہداف (MDGs) ہوں یا پائیدار ترقی کے اہداف(SDGs) ، ہر لحاظ سے ہماری موجودہ ریاست ہر شعبہ زندگی میں زوال پذیر دکھائی دیتی ہے ۔ وہ تمام عوامل جو ایک مہذب معاشرے میں پیداواری اور صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ناگزیر ہیں،مفقود ہیں جبکہ جدید دور کی فلاحی ریاستیں ان اہداف کو بتدریج حاصل کر رہی ہیں ۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کو بین الاقوامی برادری نے 2015 تک پورا کر لیا تھا ”۔
وہ لکھتے ہیں کہ ” یہی وہ خواب ہیں جو آج کے شہری دیکھتے ہیں ، ہماری عمر کے شہریوں کے خواب تو چکنا چور ہوئے لیکن ہم موجودہ نسل کو زیادہ دیرتک دھوکہ میں نہیں رکھ سکتے ، گورننس کا بحران تیزی سے شہریوں کو مایوس کر رہا ہے ” ۔ انہوں نے لکھا ” اٹھارویں ترمیم کے بعد شہری کی روزمرہ زندگی میں صوبائی حکومتوں کا کردار بڑھ گیا ، خواہ وہ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال ہو ، اچھی پولیسنگ یا پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہو، پبلک ٹرانسپورٹ، ماحولیات، رہائش، صفائی ستھرائی، ذرائع معاش، تجارت، زراعت، صنعت یا انصاف تک رسائی کا معاملہ ہو ہر پہلو سے صوبائی حکومت کا اقتدار سایہ فگن نظر آتا ہے ۔ شہری ، صوبائی حکومت کو اپنی محرومیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں ، لوگ اس وقت تک غیر مطمعین رہیں گے جب تک صوبہ جات ان میں سے زیادہ تر ذمہ داریوں کو پورا نہ کر لیں ”۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ” منتخب لوکل کونسلوں کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناکافی اور اس کا دائرہ عمل الگ ہے وہ صوبوں کی طرف سے پورے کئے جانے والے مقاصد کا متبادل نہیں بن سکتیں ، چنانچہ ہمارے پاس چھوٹے صوبے اور بااختیار مقامی حکومتیں دونوں ”صحیح” سائز کے ہونے چاہئیں تاکہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں شہریوں کے بہترین مفادات کو موثر انداز میں پورا کر سکیں تاہم صوبوں کی گورننس کو دو حوالوں سے فوری طور پر دوبارہ انجینئرنگ کی ضرورت پڑے گی۔ سب سے پہلے صوبہ جات کے سائز کو درست کرنا ہو گا کیونکہ موجودہ سائز اور بڑی آبادیوں کے حامل صوبے کئی دہائیوں کے تجربات کے بعد یہ ثابت کر چکے ہیں کہ اچھی اور موثر حمکرانی کے لیے غیر موزوں ہیں ، دوسرا بہتر گورننس یعنی ہر شعبے زندگی اور ہر قسم کی خدمات کے لیے آپریٹنگ سسٹمز میں بہتری لانا ضروری ہو گا ، خاص کر تاخیر سے بچنے کے لیے قوانین، پالیسیوں میں تسلسل اور طریقہ کار کا جامع جائزہ لینا لازمی ہے تاکہ موثر اور بہترین سروس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے ،اگرچہ یہ بنیادی ضروریات سے نمٹنے کی پہلی ترجیحی تھی جسے دہائیوں پہلے پورا کیا جانا چاہیے تھا تاہم اس میں مزید تاخیر ریاست کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ، حقیقت یہی کہ جو لوگ ریاست کو مرتا نہیں دیکھ سکتے انہیں نوشتہِ دیوار پڑھ لینا چاہئے ” ۔