جمعہ, 13 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

غزہ کے لیے بین الاقوامی مشن میں پاکستان کا کردار زیرِ غور، امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن سے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم کسی بھی ملک سے حتمی عزم حاصل کرنے سے قبل مشن کے دائرہ کار اور مینڈیٹ پر مزید وضاحت ضروری ہے۔

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی جانب سے اس مشن میں شمولیت پر غور کرنے کی پیشکش پر شکر گزار ہے۔

“ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ اس نے اس منصوبے کا حصہ بننے، یا کم از کم اس پر غور کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن ہم کسی بھی ملک سے حتمی وعدہ لینے سے پہلے انہیں مزید وضاحتیں دینے کے پابند ہیں،” روبیو نے کہا۔

غزہ جنگ اور آئندہ مراحل

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ میں جنگ اب پہلے جیسی شدت اور وسعت میں جاری نہیں، تاہم صورتحال کو مکمل طور پر مستحکم کرنے کے لیے طویل المدتی اقدامات درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے دوسرے اور تیسرے مراحل کی جانب پیش رفت ایک طویل عمل ہو گا اور اس کا کچھ حصہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی مدت سے آگے بھی جا سکتا ہے۔

روبیو کے مطابق، امریکہ نے جن ممالک سے غزہ میں فورس بھیجنے کے لیے رابطہ کیا ہے، بشمول پاکستان، وہ مشن کے واضح مینڈیٹ، اختیارات اور ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلات چاہتے ہیں۔

“ہم انہیں یہ جوابات فراہم کرنے کے پابند ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ ایسے کئی ممالک موجود ہیں جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہوں گے اور اس مشن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں،” انہوں نے کہا۔

یہ بھی پڑھیں  غزہ جنگ کی پہلی برسی پر حزب اللہ کا اسرائیلی شہر حیفہ پر راکٹ حملہ

فلسطینی انتظامیہ کا کردار

روبیو نے بتایا کہ اگلا اہم قدم فلسطینی ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کے قیام کا اعلان ہو گا، جو غزہ میں روزمرہ امور سنبھالے گی، اس کے بعد استحکامی فورس کی تعیناتی پر پیش رفت کی جائے گی۔

حماس اور حزب اللہ سے متعلق امریکی مؤقف

امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں حماس اسرائیل کو ہتھیاروں کے ذریعے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ خدشہ موجود ہو کہ چند برسوں میں ایک اور جنگ چھڑ سکتی ہے۔

لبنان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکہ ایک مضبوط لبنانی فوج کا حامی ہے جو پورے ملک پر کنٹرول رکھے، اور حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جانا خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کا مؤقف اور سفارتی پس منظر

پاکستان ماضی میں فلسطینی کاز کی کھل کر حمایت کرتا رہا ہے اور اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی مشن میں شمولیت واضح اقوام متحدہ کے مینڈیٹ اور تمام فریقین کی رضامندی سے مشروط ہو گی۔

امریکی حکام کے مطابق، غزہ کے مستقبل کے انتظامی اور سیکیورٹی فریم ورک سے متعلق مزید اعلانات آئندہ ہفتوں میں متوقع ہیں۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین