بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکی دفاعی بل میں بھارت کے ساتھ فوجی اور ٹیکنالوجی تعاون میں توسیع، چین ہدف قرار

امریکہ کے تازہ دفاعی قانون میں بھارت کے ساتھ فوجی، دفاعی اور جدید ٹیکنالوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی شقیں شامل کی گئی ہیں، جن کا مقصد انڈو پیسفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

امریکی کانگریس سے منظور ہونے والے اس دفاعی بل میں بھارت کو واشنگٹن کی انڈو پیسفک حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے، جبکہ دفاعی منصوبہ بندی میں بھارت کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

بھارت کو اسٹریٹجک دفاعی شراکت دار کی حیثیت

دفاعی بل میں بھارت کو ایک بار پھر “میجر ڈیفنس پارٹنر” کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان فوجی ہم آہنگی، مشترکہ مشقوں اور دفاعی معیار میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

قانون سازوں کے مطابق، بھارت کے ساتھ قریبی دفاعی تعاون امریکہ کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ وہ ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں تعاون

بل میں اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں بھارت کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جن میں:

  • دفاعی مینوفیکچرنگ
  • سیمی کنڈکٹرز
  • مصنوعی ذہانت (AI)
  • خلائی اور سائبر ٹیکنالوجی

شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور بھارت کو دفاعی سپلائی چین میں چین پر انحصار کم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

بحری سلامتی اور انڈین اوشن

امریکی دفاعی بل میں بحری سلامتی کو ایک اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ انڈین اوشن میں معلومات کے تبادلے، مشترکہ نگرانی اور فوجی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  تائیوان بھی PL-15 میزائل کے ملبے کے جائزے اور انٹیلی جنس معلومات کے لیے سرگرم

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں کے پیشِ نظر بھارت کے ساتھ یہ تعاون خطے میں آزاد بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

عالمی اور علاقائی تناظر

یہ قانون سازی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اپنی عالمی فوجی حکمتِ عملی کو ازسرِ نو ترتیب دے رہا ہے اور چین کو سب سے بڑا اسٹریٹجک چیلنج قرار دے رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق، اس بل سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ بھارت کو محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایشیا کی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرنے والا اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔

آئندہ مراحل

امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کانگریس کو باقاعدگی سے رپورٹ کرے کہ بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں میں کس حد تک پیش رفت ہو رہی ہے۔

یہ دفاعی بل اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین