بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ٹرمپ کا دعویٰ: یوکرین جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب، مگر علاقہ، نیٹو اور سکیورٹی ضمانتیں بڑی رکاوٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین شاید “کسی معاہدے کے بہت قریب” پہنچ چکے ہیں۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سب سے متنازع نکات—علاقائی تنازع، یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتیں اور نیٹو کا کردار—ابھی حل طلب ہیں۔

کئی ہفتوں کی شدید سفارتی سرگرمی کے باوجود یہ واضح ہے کہ جنگ کے بنیادی اسباب پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی نمایاں فرق موجود ہے۔

Image

علاقائی تنازع: سب سے بڑی رکاوٹ

روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 116 ہزار مربع کلومیٹر، یعنی لگ بھگ 19 فیصد رقبے پر قابض ہے۔ ان علاقوں میں کریمیا، ڈونیسک اور لوہانسک (ڈونباس)، زاپوریزیا اور خیرسون کے بڑے حصے شامل ہیں۔ یوکرینی اندازوں کے مطابق 2025 میں روسی افواج نے 2022 کے بعد سب سے تیز پیش قدمی کی ہے۔

ماسکو کا مؤقف ہے کہ یہ تمام علاقے قانونی طور پر روس کا حصہ ہیں، جبکہ یوکرین اور عالمی برادری کی اکثریت ان الحاق کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ روس نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ اگر یوکرین امن چاہتا ہے تو اسے ڈونیسک کے باقی ماندہ علاقوں سے بھی انخلا کرنا ہوگا۔ کریملن نے خبردار کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یوکرین مزید علاقہ کھو سکتا ہے۔

Image

اس کے برعکس، کیف نے کسی بھی قسم کی علاقائی قربانی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی موجودہ محاذوں پر ہونی چاہیے۔ ٹرمپ اور زیلنسکی دونوں نے تسلیم کیا کہ ڈونباس کا مستقبل تاحال طے نہیں ہوا، تاہم امریکی صدر کے مطابق بات چیت “درست سمت” میں آگے بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  JF-17 تھنڈر کا انجن انقلاب: پاکستان RD-93 چھوڑ کر WS-13E کیوں اپنا رہا ہے؟

سکیورٹی ضمانتیں: یوکرین کی سرخ لکیر

یوکرین کا کہنا ہے کہ ماضی کے ناکام وعدوں کے تجربے کے بعد اسے طویل المدتی اور مضبوط سکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں روسی حملے کو روکا جا سکے۔ زیلنسکی کے مطابق ابتدائی امن فریم ورک میں امریکا کی جانب سے کم از کم 15 سال کی سکیورٹی ضمانتیں شامل ہیں، جبکہ کیف ان ضمانتوں کو 50 سال تک بڑھانے کا خواہاں ہے۔

ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یورپی ممالک کو ان ضمانتوں کا بڑا بوجھ اٹھانا چاہیے، اگرچہ امریکی حمایت برقرار رہے گی۔ دوسری جانب روس واضح کر چکا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی تعیناتی اسے قبول نہیں۔

نیٹو کا سوال: اسٹریٹجک تصادم

روسی صدر Vladimir Putin کا ایک بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ نیٹو مشرق کی جانب مزید توسیع نہ کرے۔ ابتدائی امریکی تجاویز میں یوکرین کی نیٹو رکنیت پر مستقل پابندی اور آئینی غیر جانبداری کی شقیں شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یوکرین کی اپنی تجویز میں نیٹو کی شق پانچ کے مساوی سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے، چاہے باقاعدہ رکنیت نہ بھی دی جائے۔ یہی نکتہ اس وقت مذاکرات کا سب سے حساس پہلو بن چکا ہے۔

پیسہ، پابندیاں اور منجمد روسی اثاثے

امریکی امن تجاویز کے مطابق جنگ کے بعد روس کو دوبارہ عالمی معیشت میں شامل کیا جا سکتا ہے اور توانائی، انفراسٹرکچر اور آرکٹک وسائل میں تعاون پر غور ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین نے یوکرین کے دفاع کے لیے 90 ارب یورو کے قرض کی منظوری دی ہے، تاہم منجمد روسی اثاثے استعمال کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران پر امریکی پالیسی ، سعودی عرب نے واشنگٹن پر اثرانداز ہونے کی تردید کر دی

جوہری امور، انتخابات اور کاروباری مفادات

مذاکرات میں زاپوریزیا جوہری بجلی گھر کا مستقبل، امریکا۔روس جوہری ہتھیاروں پر دوبارہ بات چیت، اور یوکرین میں انتخابات جیسے حساس موضوعات بھی زیرِ غور ہیں۔ روس کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے دوران انتخابات نہ ہونے سے یوکرینی قیادت کی قانونی حیثیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ کیف کا کہنا ہے کہ مارشل لا میں ووٹنگ ممکن نہیں۔

Image

مجموعی منظرنامہ

اگرچہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے امن کی امید پیدا ہوئی ہے، مگر زمینی حقائق اور فریقین کے سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاہدہ اب بھی ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ جدید یورپی تاریخ کے سب سے مشکل اور دور رس امن معاہدوں میں شمار ہوگا—مگر فی الحال اس کی راہ میں رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین