بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

بھارت کا پرالے میزائل تجربہ، خطے میں سلامتی کے تناظر میں پیش رفت

بھارت نے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ Pralay missile کا ایک اور تجربہ کیا ہے۔ یہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والا، قریبی فاصلے تک مار کرنے والا قریباً بیلسٹک میزائل ہے، جس کے تجربے کو بھارتی حکام نے معمول کی تکنیکی جانچ کا حصہ قرار دیا ہے۔

یہ تجربہ بھارت کے مشرقی ساحل پر واقع ایک مخصوص ٹیسٹ رینج سے کیا گیا، جس کی نگرانی Defence Research and Development Organisation (ڈی آر ڈی او) نے کی۔ حکام کے مطابق میزائل نے طے شدہ راستہ اختیار کیا اور آزمائش کے بنیادی تکنیکی اہداف حاصل کیے، جن میں نظام کی کارکردگی اور درستگی شامل تھی۔

Image

پرالے میزائل کیا ہے؟

پرالے ایک سطح سے سطح تک مار کرنے والا میزائل ہے جسے روایتی (غیر جوہری) مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی بیلسٹک نما پرواز کی صلاحیت اسے دورانِ پرواز محدود حد تک سمت تبدیل کرنے کی اجازت دیتی ہے، تجربے کا مقصد فضائی دفاعی نظاموں سے بچاؤ کی صلاحیت جانچنا بتایا جاتا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق اس میزائل کی متوقع رینج تقریباً 150 سے 500 کلومیٹر کے درمیان بتائی جاتی ہے اور اسے روایتی وار ہیڈ کے ساتھ استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ بھارتی حکام ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ یہ نظام زمینی اہداف کے خلاف محدود نوعیت کی درست کارروائی کے لیے تصور کیا گیا ہے۔

تجربے کا پس منظر

یہ میزائل تجربہ بھارت کی اُس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس کے تحت وہ دفاعی شعبے میں مقامی پیداوار بڑھانے اور بیرونی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھارت نے متعدد مقامی میزائل اور دفاعی نظاموں کے تجربات کیے ہیں، جنہیں عموماً ترقیاتی مراحل کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  غزہ میں فوج بھیجنے کا سوال: واشنگٹن کے دباؤ میں پاکستان مشکل فیصلے کے دہانے پر

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے تجربات تکنیکی اعتبار سے معمول کا عمل ہوتے ہیں، تاہم جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں میزائل سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھی جاتی ہے، جہاں تاریخی کشیدگی اور اسلحے کی دوڑ کے خدشات موجود رہے ہیں۔

علاقائی تناظر

ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ پرالے میزائل کا تجربہ خطے کے جوہری توازن میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لاتا، کیونکہ اسے روایتی ہتھیار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، بھارت، پاکستان اور چین جیسے ممالک کے درمیان سلامتی سے متعلق اقدامات عموماً احتیاط اور اعتماد سازی کے تقاضوں کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے ہتھیار کے عملی استعمال، تعیناتی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے حوالے سے وضاحتیں ہی اس کے حقیقی اثرات کا تعین کر سکتی ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

ڈی آر ڈی او کے مطابق پرالے میزائل کے مزید تجربات متوقع ہیں، جن کے بعد اسے فوجی سطح پر استعمال کے لیے جانچنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ حتمی طور پر اس کی شمولیت یا بڑے پیمانے پر تعیناتی کا فیصلہ بھارت کی دفاعی پالیسی اور سلامتی ترجیحات سے مشروط ہوگا۔

فی الحال، دفاعی ماہرین اس تجربے کو بھارت کے میزائل ترقیاتی پروگرام کا ایک مرحلہ قرار دے رہے ہیں، نہ کہ خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے والا کوئی غیر معمولی قدم۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین