پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، جسے ماضی میں “سفارتی طور پر تنہا” قرار دیا جاتا تھا، اب عالمی سطح پر ایک فعال اور مؤثر ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران انڈیا کے “علاقائی بالادستی” اور خود کو نیٹ سکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پیش کرنے کے بیانیے کو شدید دھچکا لگا۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق حالیہ محدود مگر شدید پاک–بھارت عسکری تصادم میں پاکستان نے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا اور امن کے لیے اپنے عزم کو برقرار رکھا، جبکہ دفاعی تیاری اور اسٹریٹجک توازن نے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کی حقیقت واضح کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں اور آج پاکستان کا دفاع “مضبوط اور ناقابلِ تسخیر” ہے۔
کشمیر اور سندھ طاس معاہدہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو دوبارہ عالمی فورمز پر اجاگر کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو او آئی سی، مستقل ثالثی عدالت اور اقوامِ متحدہ میں بھرپور طریقے سے اٹھا رہا ہے اور اب تک آنے والی رپورٹس پاکستان کے مؤقف کے حق میں ہیں۔
امریکا، جنگ بندی اور ٹرمپ کا کردار
امریکا کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ ماضی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حالیہ عرصے میں تجارت، سرمایہ کاری اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو پاک–بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر سراہا اور کہا کہ پاکستان نے 11 جون کو ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔
ان کے مطابق امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارت 13.28 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور جنوبی ایشیا میں پاکستان پر عائد امریکی ٹیرف سب سے کم ہے۔
اقتصادی سفارت کاری اور علاقائی روابط
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حکومت کی توجہ پاکستان کو معاشی طاقت بنانے پر ہے۔ انہوں نے معدنیات، گیس اور قیمتی پتھروں کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری، بالخصوص ریکوڈک منصوبے، کا حوالہ دیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوجی گروپ میں سرمایہ کاری اور سعودی عرب، یو اے ای اور چین کی مالی معاونت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔
انہوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو “اہم پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ سفارتی روابط نے خیرسگالی کی فضا قائم کی ہے جسے آئندہ انتخابات کے بعد مزید مضبوط کیا جائے گا۔
خارجہ پالیسی کا خلاصہ
آخر میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور مکالمہ، علاقائی استحکام، معاشی تعاون اور امن کا فروغ ہے۔ ان کے مطابق ترکی، چین، یورپی یونین، آسیان، شنگھائی تعاون تنظیم، اقوامِ متحدہ اور روس سمیت متعدد فورمز پر فعال سفارت کاری کے ذریعے پاکستان نہ صرف عالمی سطح پر اپنا مقام مستحکم کر رہا ہے بلکہ بھارت کے علاقائی بیانیے کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔




