وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک امریکی فوجی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے ہی سال میں ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکا کے اطراف ایسے حملوں کی منظوری دی جو حالیہ برسوں میں غیر معمولی سمجھے جا رہے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ خود کو “امن کا صدر” قرار دیتے ہیں، مگر ان کی خارجہ پالیسی عملی طور پر “امن بذریعہ طاقت” کے نظریے کے تحت آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ جنوری میں منعقدہ صدارتی تقریب میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی کامیابی صرف جیتی گئی جنگوں سے نہیں بلکہ ان جنگوں سے بھی ناپی جائے گی جن میں امریکہ داخل ہی نہ ہو۔
2025 میں، تاہم، امریکی فوج دنیا کے کئی خطوں میں براہِ راست کارروائیوں میں مصروف نظر آئی۔
صومالیہ: داعش کے خلاف نئی مہم
یکم فروری — تاحال جاری

ٹرمپ کے دوسرے دور کی پہلی بڑی فوجی کارروائی صومالیہ میں داعش سے منسلک گروہوں کے خلاف کی گئی۔
امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth کے مطابق ان حملوں کا مقصد داعش کی جانب سے امریکی شہریوں، اتحادیوں اور عام شہریوں پر حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
یہ مہم پورے سال جاری رہی، جو مشرقی افریقہ میں امریکہ کی مستقل انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی عکاس ہے۔
عراق: داعش کا سینئر رہنما ہلاک
13 مارچ
عراق کے صوبہ الانبار میں امریکی قیادت میں اتحادی فضائی حملے کے نتیجے میں داعش کا اعلیٰ رہنما عبداللہ مکی مصلح الرفاعی مارا گیا۔
عراقی وزیر اعظم نے اسے “عراق اور دنیا کے خطرناک ترین دہشت گردوں میں سے ایک” قرار دیا۔
یمن: حوثیوں کے خلاف مہنگی فضائی مہم
15 مارچ تا 6 مئی

مارچ کے وسط میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی شروع کی۔
پینٹاگون کے مطابق نشانہ بننے والے اہداف میں:
- کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز
- فضائی دفاعی نظام
- جدید ہتھیار بنانے اور ذخیرہ کرنے کی تنصیبات
شامل تھیں۔ اس کارروائی میں ٹام ہاک کروز میزائل، JASSM اور JSOW استعمال کیے گئے، جبکہ پہلے ہی مہینے میں اس کی لاگت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
6 مئی کو عمان کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ مہم ختم ہوئی۔
ایران: جوہری تنصیبات پر بنکر بسٹر حملہ
22 جون

2025 کی سب سے چونکا دینے والی کارروائی آپریشن مڈنائٹ ہیمر تھی، جس میں امریکہ نے ایران کی انتہائی محفوظ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
سات B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے امریکہ سے پرواز کر کے فردو اور نطنز میں زیرِ زمین تنصیبات پر 30 ہزار پاؤنڈ وزنی GBU-57 بنکر بسٹر بم گرائے، جبکہ امریکی بحری آبدوز نے اصفہان پر ٹام ہاک میزائل داغے۔
ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ایران کی افزودگی صلاحیت کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی۔
بعد ازاں امریکی دفاعی حکام نے کہا کہ ان حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام دو سال تک پیچھے جا سکتا ہے۔
بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل: منشیات کے خلاف جنگ
2 ستمبر — تاحال جاری
ستمبر سے امریکی فوج بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات فروش نیٹ ورکس کے خلاف مہلک بحری کارروائیاں کر رہی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی جنوبی امریکا کی تاریخ کا “سب سے بڑا بحری بیڑہ” ہے، جس کا مقصد وینزویلا سے امریکہ منشیات کی ترسیل روکنا ہے۔
ان حملوں میں کم از کم 106 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
شام: امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ
19 دسمبر
شام میں دہشت گرد حملے میں دو امریکی فوجیوں اور ایک مترجم کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ نے آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک کا حکم دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے نے وسطی شام میں داعش کے 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔
نائجیریا: کرسمس ڈے پر فضائی حملے
25 دسمبر
کرسمس کے روز ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے نائجیریا میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
ان کے بقول یہ کارروائی مسیحی برادری کے تحفظ کے لیے کی گئی۔ حملے میں بحیرہ گِنی میں موجود امریکی بحری جہاز سے درجن بھر سے زائد ٹام ہاک میزائل داغے گئے۔
وینزویلا: پہلی خفیہ کارروائی
دسمبر — تاحال جاری
دسمبر میں امریکی خفیہ ادارے نے مبینہ طور پر وینزویلا کے ساحل پر ایک ڈرون حملہ کیا، جو صدر Nicolás Maduro کے خلاف دباؤ بڑھانے کے بعد ملک کے اندر پہلا امریکی حملہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی مبینہ طور پر منشیات فروش گروہ “ٹرین دے آراگوا” کے ایک ذخیرہ گاہ پر کی گئی۔
نتیجہ: امن یا عسکری غلبہ؟
ٹرمپ کے حامی ان کارروائیوں کو امریکی طاقت اور deterrence کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق 2025 کی فوجی سرگرمیاں ان کے “امن کے صدر” ہونے کے دعوے سے متصادم ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ 2025 میں امریکی فوج ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ہتھیار بن کر ابھری — چاہے مقصد بڑی جنگوں سے بچاؤ ہی کیوں نہ ہو۔




