منگل, 17 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

روسی تیل : ٹرمپ کا بھارت پر ٹیرف بڑھانے کا انتباہ، نئی دہلی کی خوشامدانہ سفارت کاری بے اثر؟

امریکی صدر Donald Trump نے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ بھارت پر ٹیرف بہت تیزی سے بڑھا سکتا ہے، چاہے نئی دہلی واشنگٹن کو خوش کرنے کے لیے کچھ رعایتیں ہی کیوں نہ دے چکا ہو۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی قیادت ان کی ناراضی سے آگاہ تھی اور اسی لیے روس سے تیل کی خریداری میں کمی کی گئی۔

“وہ مجھے خوش کرنا چاہتے تھے، بنیادی طور پر… وزیر اعظم Narendra Modi بہت اچھے انسان ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ میں خوش نہیں ہوں۔ مجھے خوش کرنا ان کے لیے اہم تھا۔ لیکن وہ تجارت کرتے ہیں، اور ہم ان پر بہت جلد ٹیرف بڑھا سکتے ہیں،” ٹرمپ نے کہا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کے توانائی خریداروں کو نشانہ بنا رہا ہے، اور بھارت اس دباؤ کے مرکز میں آ چکا ہے۔

Image


بھارت کا روسی تیل اور مشکل توازن

یوکرین جنگ کے بعد بھارت نے رعایتی نرخوں پر روسی خام تیل کی بڑی مقدار خریدی، جسے نئی دہلی اپنی توانائی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ضروری قرار دیتا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کی خریداری قومی مفاد کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی بلاک سیاست کا۔

تاہم ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن بھارتی اقدامات کو اصولی تبدیلی کے بجائے وقتی رعایت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران پر اسرائیلی حملے کے ممکنہ آپشنز

امریکی سینیٹر کا انکشاف

امریکی سینیٹر Lindsey Graham نے بھی ٹرمپ کے ساتھ ایئر فورس ون میں گفتگو کے دوران دعویٰ کیا کہ بھارتی سفارتکار فعال طور پر ٹیرف میں نرمی کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔

“میں ایک ماہ قبل بھارتی سفیر کے گھر تھا، اور وہ صرف یہی بات کر رہے تھے کہ بھارت اب کم روسی تیل خرید رہا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ صدر کو بتاؤں کہ 25 فیصد ٹیرف ختم کر دیں،” گراہم نے کہا۔

یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ نئی دہلی پسِ پردہ امریکی ناراضی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

Image


واشنگٹن کو راضی کرنے کی بھارتی کوششیں

حالیہ مہینوں میں بھارت نے امریکہ کو مطمئن کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں:

  • روسی تیل پر انحصار کم کرنے کے اشارے
  • امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ سے توانائی درآمدات بڑھانے کی بات
  • انڈو پیسیفک میں امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کرنا
  • دفاع، ٹیکنالوجی اور سپلائی چین تعاون پر زور

اس کے باوجود ٹرمپ کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ ذاتی سفارت کاری اور اچھے تعلقات بھی معاشی دباؤ سے بچاؤ کی ضمانت نہیں۔

ٹیرف بطور ہتھیار

ٹرمپ کی جانب سے “بہت جلد” ٹیرف بڑھانے کا عندیہ ان کی روایتی حکمتِ عملی کی یاد دہانی ہے، جس میں تجارت کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارتی کاروباری حلقوں میں خاص طور پر 25 فیصد ٹیرف کی بات پر تشویش پائی جاتی ہے، جو اسٹیل، فارماسیوٹیکل اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  Su-57E بمقابلہ F-22 اور F-35: روسی ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے نے امریکی فضائی برتری کو کیسے چیلنج کیا

ماہرین کے مطابق بھارت ایک مشکل فیصلے سے دوچار ہے:

  • مکمل جھکاؤ اس کی اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کر سکتا ہے
  • مزاحمت کی صورت میں امریکی منڈی تک رسائی خطرے میں پڑ سکتی ہے

تجزیہ

ٹرمپ کی جانب سے مودی کی ذاتی تعریف اور ساتھ ہی سخت معاشی دھمکیاں اس بات کی علامت ہیں کہ امریکہ کی پالیسی دوہری حکمتِ عملی پر مبنی ہے: تعلقات میں گرمجوشی، مگر فیصلوں میں سختی۔

یہ معاملہ واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن کے نزدیک شراکت داری اب مستقل نہیں بلکہ کارکردگی اور اطاعت سے مشروط ہوتی جا رہی ہے۔ آنے والے مہینے طے کریں گے کہ آیا بھارت کی خوشامدانہ سفارت کاری امریکی ٹیرف پالیسی کو نرم کر پائے گی یا نہیں۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین