بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سعودی عرب کا سخت پیغام: عرب نیوز نے یمنی رہنما عیدروس الزبیدی کو ’’مطلوب‘‘ قرار دے دیا

سعودی عرب کے انگریزی اخبار Arab News کی جانب سے یمنی رہنما Aidarous Al-Zubaidi کو نمایاں تصویر کے ساتھ “Wanted” (مطلوب) قرار دینا محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک واضح ریاستی پیغام ہے۔ یہ لہجہ سعودی سرکاری میڈیا کی روایتی محتاط پالیسی سے ہٹ کر ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاض میں یمن کے معاملے پر صبر کا دامن تنگ ہو چکا ہے۔

ریاض نہ جانا: ایک سفارتی انکار

اس معاملے کا مرکزی نکتہ الزبیدی کا ریاض کا طے شدہ دورہ منسوخ کرنا ہے، جہاں انہیں یمن کے صدر Rashad Al-Alimi سے ملاقات کرنا تھی۔ اس ملاقات کا مقصد جنوبی دھڑوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور یمن کے سیاسی عمل کو آگے بڑھانا تھا۔ سعودی میڈیا نے اس غیر حاضری کو محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ دانستہ سیاسی بغاوت کے طور پر پیش کیا۔

ریاض کے نقطۂ نظر سے یہ اقدام اسی ملک کی ثالثی کو مسترد کرنے کے مترادف تھا جس نے ماضی میں الزبیدی اور ان کے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کیا۔

سیاسی کردار سے سلامتی کے خطرے تک

عرب نیوز کی رپورٹ میں الزبیدی کو بتدریج ایک سیاسی رہنما سے ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ عدن میں اسلحے کی تقسیم، بدامنی پھیلانے کی کوششوں اور بیرونی طاقتوں سے مبینہ روابط جیسے الزامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ سعودی عرب کے نزدیک الزبیدی نے سیاست کی سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔

یہی بیانیہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے اس فیصلے کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت الزبیدی کی رکنیت ختم کر کے ان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں  میدان جنگ میں ڈیجٹل بالادستی کی کشمکش، پینٹاگون نے geospatial technology کے لیے 499 ملین ڈالر کے ٹھیکے جاری کر دیے

جنوبی عبوری کونسل کے لیے پیغام

چونکہ الزبیدی Southern Transitional Council کے سربراہ ہیں، اس لیے ان کے خلاف یہ مؤقف پورے جنوبی سیاسی دھڑے کے لیے پیغام رکھتا ہے۔ سعودی عرب واضح کرنا چاہتا ہے کہ جنوبی یمن کے مطالبات کو اصولی طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے، لیکن طاقت کے ذریعے علیحدگی یا ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

رپورٹ میں STC کے اندرونی اختلافات کو اجاگر کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاض متبادل جنوبی قیادت کی حمایت کے لیے بھی تیار ہے۔

سعودی سرخ لکیریں

سب سے سخت انتباہ سلامتی کے حوالے سے ہے۔ شدت پسند گروہوں کے دوبارہ ابھرنے کے خدشے کو بطور دباؤ استعمال کرنے کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب ایسے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا جو خطے کے امن یا خود سعودی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔

اس اشاعت کے اسٹریٹجک مقاصد

  • الزبیدی کی سیاسی حیثیت کو کمزور کرنا
  • دیگر یمنی دھڑوں کے لیے سبق اور وارننگ
  • جنوبی یمن میں ممکنہ سخت اقدامات کے لیے جواز پیدا کرنا
  • یمن تنازعے کو “ریاست بمقابلہ انتشار” کے بیانیے میں پیش کرنا

نتیجہ

عرب نیوز کی “مطلوب” سرخی ایک واضح اعلان ہے کہ سعودی عرب اب غیر مبہم پالیسی اپنانے پر آمادہ ہے۔ پیغام صاف ہے: یمن کے مستقبل پر بات چیت ہو سکتی ہے، مگر غداری اور بدامنی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین