بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس: ایک ارب ڈالر دے کر غزہ کے فیصلوں میں شمولیت؟

امن کے نام پر نئی عالمی سیاست جنم لے رہی ہے—اور اس کی قیمت ایک ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئے عالمی فورم “بورڈ آف پیس” کے قیام کا منصوبہ سامنے لائے ہیں، جس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو اور عارضی حکمرانی کی نگرانی بتایا جا رہا ہے۔ لیکن سامنے آنے والی تفصیلات نے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق، بورڈ کے مجوزہ چارٹر میں شرط رکھی گئی ہے کہ جو ممالک ایک ارب ڈالر نقد ادا کریں گے، انہیں مستقل رکنیت حاصل ہو گی، جبکہ دیگر ممالک کی رکنیت تین سال بعد ختم ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اس فورم کے پہلے چیئرمین خود ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے، جنہیں ارکان کی منظوری یا مسترد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔

کیا یہ اقوامِ متحدہ کا متبادل ہے؟

چارٹر کی زبان غیر معمولی ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو ایک ایسے ’’زیادہ مؤثر اور متحرک امن ساز ادارے‘‘ کی ضرورت ہے جو اُن عالمی اداروں سے ہٹ کر کام کرے ’’جو بارہا ناکام ہو چکے ہیں‘‘۔ اس جملے نے فوری طور پر خدشات کو جنم دیا ہے کہ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کے متوازی ایک نیا ڈھانچہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رکن ممالک مختلف گروپس بنا سکتے ہیں، تاہم یو این اپنے مینڈیٹ کے تحت کام جاری رکھے گی، مگر سفارتی حلقوں میں بے چینی واضح ہے۔

یہ بھی پڑھیں  آزاد سوچ رکھنے والے امریکیوں نے ٹرمپ کو دوسری مدت صدارت جیتنے کا موقع دیا

غزہ اس منصوبے کا مرکز کیوں؟

بورڈ آف پیس کا پہلا اور سب سے بڑا ہدف غزہ ہے۔

ٹرمپ پہلے ہی متعدد عالمی رہنماؤں کو اس فورم میں شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں۔ مصر، ترکی، کینیڈا، اردن اور پاکستان نے دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اصولی طور پر شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ مصر اور اردن کا کہنا ہے کہ وہ دستاویزات کا قانونی و آئینی جائزہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کو دعوت ملی ہے، تاہم بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان غزہ میں امن کی کسی بھی کوشش کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دیکھتا ہے—جو ایک محتاط سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

کون شامل ہو رہا ہے؟

دعوت نامے یورپ اور لاطینی امریکا تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی، برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا، ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان، ارجنٹینا کے صدر خاویئر ملی، اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی شمولیت کی پیشکش کی گئی ہے۔ ملی نے سوشل میڈیا پر اسے ’’اعزاز‘‘ قرار دیا، جبکہ ترکی کو ’’بانی رکن‘‘ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔

پیسے پر کنٹرول، اصل تنازع

سب سے بڑا اعتراض مالی معاملات پر اٹھ رہا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق، مجوزہ چارٹر میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ بورڈ کے لیے جمع ہونے والی رقم کا کنٹرول خود ٹرمپ کے پاس ہو گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی ممالک اس شق کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  عمان میں ہونے والے امریکہ ایران جوہری مذاکرات میں تعطل کیوں آیا؟

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم غزہ میں تعمیرِ نو اور نظم و نسق کے لیے استعمال ہو گی، مگر ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ شفافیت اور احتساب کا نظام کہاں ہے؟

متنازع چہرے، طاقتور بورڈ

ٹرمپ نے سات رکنی بورڈ میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کو شامل کیا ہے۔

ٹونی بلیئر کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں خاصی متنازع سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر عراق جنگ کے پس منظر میں۔

امن یا طاقت کی سیاست؟

یہ سوال اب شدت اختیار کر رہا ہے:
کیا یہ واقعی امن کا منصوبہ ہے—یا عالمی سیاست میں اثر و رسوخ خریدنے کا نیا طریقہ؟

غزہ کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر اس کے بعد کی سیاسی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اور اس بار، میدان میں ٹینکوں کے بجائے اربوں ڈالر اور سفارتی دعوت نامے ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین