امن کے نام پر نئی عالمی سیاست جنم لے رہی ہے—اور اس کی قیمت ایک ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئے عالمی فورم “بورڈ آف پیس” کے قیام کا منصوبہ سامنے لائے ہیں، جس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو اور عارضی حکمرانی کی نگرانی بتایا جا رہا ہے۔ لیکن سامنے آنے والی تفصیلات نے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، بورڈ کے مجوزہ چارٹر میں شرط رکھی گئی ہے کہ جو ممالک ایک ارب ڈالر نقد ادا کریں گے، انہیں مستقل رکنیت حاصل ہو گی، جبکہ دیگر ممالک کی رکنیت تین سال بعد ختم ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اس فورم کے پہلے چیئرمین خود ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے، جنہیں ارکان کی منظوری یا مسترد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔
🚨 United Nations Security Council acknowledges and endorses President Trump’s BOARD OF PEACE. pic.twitter.com/Qam0XpkLqx
— The White House (@WhiteHouse) November 17, 2025
کیا یہ اقوامِ متحدہ کا متبادل ہے؟
چارٹر کی زبان غیر معمولی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو ایک ایسے ’’زیادہ مؤثر اور متحرک امن ساز ادارے‘‘ کی ضرورت ہے جو اُن عالمی اداروں سے ہٹ کر کام کرے ’’جو بارہا ناکام ہو چکے ہیں‘‘۔ اس جملے نے فوری طور پر خدشات کو جنم دیا ہے کہ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کے متوازی ایک نیا ڈھانچہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
اگرچہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رکن ممالک مختلف گروپس بنا سکتے ہیں، تاہم یو این اپنے مینڈیٹ کے تحت کام جاری رکھے گی، مگر سفارتی حلقوں میں بے چینی واضح ہے۔
غزہ اس منصوبے کا مرکز کیوں؟
بورڈ آف پیس کا پہلا اور سب سے بڑا ہدف غزہ ہے۔
ٹرمپ پہلے ہی متعدد عالمی رہنماؤں کو اس فورم میں شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں۔ مصر، ترکی، کینیڈا، اردن اور پاکستان نے دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اصولی طور پر شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ مصر اور اردن کا کہنا ہے کہ وہ دستاویزات کا قانونی و آئینی جائزہ لے رہے ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کو دعوت ملی ہے، تاہم بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان غزہ میں امن کی کسی بھی کوشش کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دیکھتا ہے—جو ایک محتاط سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
کون شامل ہو رہا ہے؟
دعوت نامے یورپ اور لاطینی امریکا تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی، برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا، ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان، ارجنٹینا کے صدر خاویئر ملی، اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی شمولیت کی پیشکش کی گئی ہے۔ ملی نے سوشل میڈیا پر اسے ’’اعزاز‘‘ قرار دیا، جبکہ ترکی کو ’’بانی رکن‘‘ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔
پیسے پر کنٹرول، اصل تنازع
سب سے بڑا اعتراض مالی معاملات پر اٹھ رہا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، مجوزہ چارٹر میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ بورڈ کے لیے جمع ہونے والی رقم کا کنٹرول خود ٹرمپ کے پاس ہو گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی ممالک اس شق کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم غزہ میں تعمیرِ نو اور نظم و نسق کے لیے استعمال ہو گی، مگر ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ شفافیت اور احتساب کا نظام کہاں ہے؟
متنازع چہرے، طاقتور بورڈ
ٹرمپ نے سات رکنی بورڈ میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کو شامل کیا ہے۔
ٹونی بلیئر کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں خاصی متنازع سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر عراق جنگ کے پس منظر میں۔
امن یا طاقت کی سیاست؟
یہ سوال اب شدت اختیار کر رہا ہے:
کیا یہ واقعی امن کا منصوبہ ہے—یا عالمی سیاست میں اثر و رسوخ خریدنے کا نیا طریقہ؟
غزہ کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر اس کے بعد کی سیاسی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اور اس بار، میدان میں ٹینکوں کے بجائے اربوں ڈالر اور سفارتی دعوت نامے ہیں۔




