ایران کے خلاف امریکی پالیسی پر غور جاری ہے اور اسی دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم سعودی عرب نے واضح طور پر ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ واشنگٹن کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
علاقائی ذرائع اور Arab News کے مطابق، سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دعوے درست نہیں کہ ریاض نے امریکا کو ایران پر حملے سے روکنے یا اس کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی مشورہ دیا ہو۔ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، مگر کسی بھی عسکری فیصلے کی سمت متعین نہیں کر رہا۔
سعودی سفارت خانے کی وضاحت
امریکا میں سعودی سفارت خانے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ وہ رپورٹس درست نہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے امریکا کو ایران پر حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق، ریاض نہ تو کسی کارروائی کے حق میں لابنگ کر رہا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران میں جاری احتجاج اور بڑھتی علاقائی کشیدگی کے باعث امریکی پالیسی پر قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔
عادل الجبیر: صورتحال پر گہری نظر ہے
اسی ہفتے ریاض میں ہونے والی ایک بڑی بزنس کانفرنس کے دوران سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر سے ایران میں بدامنی اور ممکنہ امریکی ردعمل پر سوال کیا گیا۔
اگرچہ انہوں نے کسی عسکری اقدام پر براہِ راست رائے دینے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ “سب لوگ صورتحال کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں” اور امید ظاہر کی کہ معاملات اس انداز میں حل ہوں گے کہ “کم سے کم نقصان ہو”۔
ان کا بیان سعودی عرب کی محتاط اور توازن پر مبنی سفارتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی تجزیہ کاروں کی رائے
سعودی مبصر علی شھابی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ ایران سے متعلق کسی بحث میں نہ مداخلت کی ہے اور نہ ہی کسی طرف جھکاؤ دکھایا ہے۔
Saudi Arabia did not get involved in this discussion one way or the other. https://t.co/Z3LPVGjJbx
— Ali Shihabi علي الشهابي (@aliShihabi) January 18, 2026
دوسری جانب، سعودی اخبار الشرق الاوسط میں شائع ہونے والے ایک کالم میں معروف تجزیہ کار عبدالرحمن الراشد نے لکھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کی کنجی خود ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ان کے مطابق، اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے اور بیرونی سرگرمیوں کو روکے تو وہ غیر ملکی مداخلت سے بچ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک اندرونی سطح پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ایران کو درپیش غیر معمولی صورتحال
عبدالرحمن الراشد نے موجودہ حالات کو ایران کے لیے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اسلامی جمہوریہ کو قیام کے بعد پہلی مرتبہ وجودی بحران کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے زوال یا ممکنہ انہدام کو روکنے والا کوئی بیرونی فریق نہیں—نہ امریکا، نہ اسرائیل اور نہ ہی خلیجی ریاستیں—بلکہ صرف خود ایرانی نظام ہی اس انجام کو روک سکتا ہے۔
ان کے بقول، خطرات اب بیک وقت اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے درپیش ہیں، جو مل کر ایرانی حکومت کے لیے فیصلہ کن چیلنج بن چکے ہیں۔
سعودی مؤقف: نگرانی، مداخلت نہیں
سعودی عرب کا مجموعی پیغام واضح ہے:
ریاض ایران کی صورتحال اور امریکی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے، مگر وہ کشیدگی بڑھانے یا فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے بجائے استحکام، احتیاط اور نقصان کم کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔
جیسے جیسے واشنگٹن اپنے اگلے قدم پر غور کر رہا ہے، سعودی عرب خود کو ایک محتاط مبصر کے طور پر پیش کر رہا ہے—یہ باور کراتے ہوئے کہ خطے میں کشیدگی کم یا زیادہ ہونا بالآخر ایران کے اپنے فیصلوں پر منحصر ہے۔




