ہفتہ, 14 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

غزہ امن کوششیں: پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل، 14 ممالک کی حمایت حاصل

پاکستان نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس (BoP) میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دی گئی دعوت کے جواب میں کیا گیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کی حمایت کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔

پاکستان اس اقدام کے ذریعے ان 14 ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے صدر ٹرمپ کی دعوت قبول کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے نئے بین الاقوامی فریم ورک کی حمایت کی ہے۔

بورڈ آف پیس برائے غزہ کیا ہے؟

بورڈ آف پیس ایک مجوزہ کثیرالملکی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر:

  • غزہ میں پائیدار اور مستقل جنگ بندی کو عملی شکل دینا
  • فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ اور نگرانی
  • غزہ کی بعد از جنگ تعمیرِ نو میں تعاون
  • ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے لیے سفارتی دباؤ پیدا کرنا

سفارتی ذرائع کے مطابق اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ایک تکمیلی فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ زمینی سطح پر پیش رفت کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستان کا مؤقف: جنگ بندی سے ریاستِ فلسطین تک

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ بورڈ آف پیس کے قیام سے محض اعلانات نہیں بلکہ عملی اور ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے، خاص طور پر:

  • غزہ میں مستقل جنگ بندی
  • فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافہ
  • تباہ حال غزہ کی منظم تعمیرِ نو
یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ نے مارکو روبیو کو وزیر خارجہ نامزد کر کے چین کے متعلق سخت پالیسی کا اشارہ دے دیا

پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ امن کی کوئی بھی کوشش اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ایک قابلِ اعتبار اور وقت کی پابند سیاسی پیش رفت کے ذریعے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہ آئے۔

پاکستان کے مطابق یہ ریاست:

  • 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو
  • القدس الشریف (یروشلم) کو دارالحکومت بنائے
  • خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط ہو

بڑھتی ہوئی عالمی حمایت

پاکستان کی شمولیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس اقدام کو عالمی سطح پر بتدریج پذیرائی مل رہی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق 14 ممالک کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ غزہ کے مسئلے پر ایک نیا سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگرچہ بعض مبصرین اس فریم ورک کی افادیت اور نتائج پر محتاط رویہ رکھتے ہیں۔

بورڈ آف پیس کے مکمل رکن ممالک کی فہرست تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی، تاہم مختلف خطوں سے ممالک کی شمولیت کو اس اقدام کی بین الاقوامی ساکھ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا متوقع کردار

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان بورڈ آف پیس کے اندر مثبت، تعمیری اور فعال کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کی سفارتی تاریخ، انسانی بنیادوں پر مؤقف اور فلسطینی کاز کی مستقل حمایت کو اس فورم پر مؤثر آواز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھوں کے خاتمے اور منصفانہ، دیرپا امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت کا امریکہ نواز موقف ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے میں مودی کی مدد کر سکتا ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی شمولیت اس اقدام کو مسلم دنیا اور ترقی پذیر ممالک میں زیادہ قبولیت دلانے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ کے مستقبل پر عالمی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین