بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ٹرمپ کا حماس کو ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم، ’بورڈ آف پیس‘ کے اجرا پر یورپی اتحادی غیر حاضر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نئے بین الاقوامی فورم “بورڈ آف پیس” کے اجرا کے موقع پر حماس کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تنظیم نے ہتھیار نہ ڈالے تو “اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا”، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری جنگ اب اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

تقریب کے آغاز پر، جس میں 20 سے کم عالمی رہنما شریک تھے، صدر ٹرمپ نے خارجہ امور کے بجائے پہلے داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے امریکی معیشت کی مضبوطی کا دعویٰ کیا۔

“ہمیں اندرونِ ملک ایک مضبوط مینڈیٹ حاصل ہے، امریکی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے،” ٹرمپ نے کہا۔
“جب امریکہ ترقی کرتا ہے تو پوری دنیا ترقی کرتی ہے۔”

غزہ، حماس اور طاقت کی دھمکی

خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا ان کی صدارت سے قبل کے مقابلے میں اب “زیادہ پُرامن” ہے۔ تاہم غزہ کے حوالے سے ان کے بیانات نہایت سخت اور جارحانہ تھے۔ انہوں نے حماس کو ایک ایسی تنظیم قرار دیا جس کے افراد “پیدائش کے دن سے ہی بندوق تھام لیتے ہیں۔”

“انہیں اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے،” ٹرمپ نے کہا۔
“اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔”

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ “واقعی ختم ہونے کے قریب” ہے اور ان کا نیا بورڈ اس تنازع کے مستقل حل میں کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق “بورڈ آف پیس” غزہ کو مکمل طور پر غیر عسکری بنانے اور اسے “خوبصورتی سے دوبارہ تعمیر” کرنے کے لیے کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں  پاک فضائیہ کے F-16 طیارے Spears of Victory-2026 میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے

نیا عالمی فورم، پرانے سوالات

صدر ٹرمپ نے “بورڈ آف پیس” کو “تاریخ کا سب سے مؤثر بورڈ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے ساتھ “مل کر” کام کرے گا۔ تاہم تقریب میں اقوام متحدہ کا کوئی اعلیٰ عہدیدار موجود نہیں تھا اور اس بورڈ کے دائرہ اختیار، قانونی حیثیت اور عملی کردار کے حوالے سے تاحال کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یورپی سفارتی حلقوں میں اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس خدشے کے باعث کہ اس پلیٹ فارم میں ایسے ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ تنازع میں ہیں، جن میں روس کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

یورپی اتحادی غیر حاضر، سفارتی پیغام واضح

تقریب کا ایک نمایاں پہلو امریکہ کے روایتی مغربی یورپی اتحادیوں کی غیر موجودگی تھی۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل تقریباً 35 ممالک کی شرکت کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم کسی بھی مغربی یورپی ملک کے رہنما نے شرکت نہیں کی۔

اس کے برعکس، تقریب میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکا کے ممالک کو نمایاں نمائندگی حاصل تھی۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ارجنٹینا اور پیراگوئے کے رہنما اسٹیج پر موجود تھے۔ صدر ٹرمپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ “زیادہ تر بہت مقبول رہنما ہیں، کچھ کم مقبول بھی ہیں۔”

داخلی سیاست اور عالمی سفارت کاری کا امتزاج

اس تقریب نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا کہ صدر ٹرمپ داخلی سیاسی بیانیے اور عالمی سفارت کاری کو یکجا کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ معاشی کامیابیوں اور عالمی امن کے دعوؤں کے ذریعے وہ بیک وقت عالمی رہنماؤں اور امریکی ووٹرز دونوں کو پیغام دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں  مڈل ایسٹ میں گہری تبدیلیوں کا دروازہ کھل گیا

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا “بورڈ آف پیس” ایک مؤثر سفارتی پلیٹ فارم بن پاتا ہے یا محض ایک علامتی اقدام ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور انسانی بحران پر عالمی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین