بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سکیورٹی پالیسی یا گہری حکمتِ عملی ؟

گزشتہ 47 برسوں سے افغانستان میں لڑی جانے والی دو بڑی جنگووں کے باعث خیبرپختونخوا عالمی طاقتوں کی پراکسیز کا لانچنگ پیڈ اور ہماری نیشنل سکیورٹی کا مرکز بنا رہا ، جس نے اِس بدقسمت صوبہ کو ایسی مذہبی فعالیت کے سپرد کیا جو اجتماعی زندگی کے فطری دھارے سے رخ گردانی کا سبب بنی ، خاص طور پر نائن الیون کے بعد پھوٹنے والی پُرتشدد تحریکوں نے یہاں کی سیاسی روایات ، قبائلی نفسیات کی پیچیدگیوں اور ریاستی پالیسیوں کو دو دہائیوں تک وقفِ اضطراب رکھا ۔ حیرت انگیز طور پر ریاست نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے فوجی آپریشنز کو بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر اپناتے وقت آپریشنز کے سیاسی اثرات کو نظر انداز کیا ، چنانچہ سیاسی اعتبار سے فوجی کاروائیوں کی حکمتِ عملی counter productive ثابت ہوئی اور کبھی نہ تھمنے والے فوجی آپریشنز پہ مشتمل پالیسی نے سوات ، باجوڑ ، مہمند اور جنوبی و شمالی وزیرستان جیسے علاقوں کو ہمارے اجتماعی وجود کا گہرا زخم بن دیا ۔

امر واقعہ بھی یہی ہے کہ 2008 سے 2013 کے درمیان خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے سوات اور جنوبی وزیرستان جیسے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز کی سیاسی اونر شپ لیکر اپنی جماعت کو اَن دیکھی تباہی سے دوچار کیا ، فوجی کاروائیوں کے ردعمل میں دہشتگردوں نے بڑے پیمانہ پر اے این پی کی قیادت اور کارکنان کا خون بہا کر ایک پھلتے پھولتے سیاسی تمدن کو موت کی وادی میں اتار دیا ، ایک طرف فوجی آپریشنز نے دہشتگروں کو نہتے سیاسی کارکنوں کے خلاف برانگیختہ کرکے سو سال کے سیاسی عمل کے نتیجہ میں تیار ہونے والے سیاسی کارکنوں کے سَروں کی قیمتی فصل کاٹ لی تو دوسری جانب فوجی آپریشنز کے وبال نے عام لوگوں کی سماجی و سیاسی آزادیوں اور بنیادی حقوق کو محدود کرنے کے علاوہ صدیوں کی پائیدار آبادیوں کو نقل مکانیوں پہ مجبور کرکے پورے معاشرے کو اے این پی کے خلاف بھڑکا دیا۔

یہ بھی پڑھیں  شام میں اس کے زوال پر ایران کی اسٹیبلشمنٹ تقسیم، تہران کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو گئے

جس وقت اے این پی ایک طرف دہشتگردوں کے مہیب حملوں اور دوسری جانب سے عوام کے غم و غصہ، خوف اور مایوسی کا سامنا کر رہی تھی ، عین اُسی وقت تحریک انصاف کی قیادت قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے خلاف سیاسی مزاحمت اور امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کے ذریعے رائے عامہ کو ہمنوا بنانے میں مشغول تھی ۔ چنانچہ خیبر پختونخوا کے وہ عوام جو نقل مکانی کے مصائب ، اقتصادی مفادات کی پامالی اور دو طرفہ خوف کے عمل سے گزر رہے تھے ، کو عمران خان کے بیانیے میں اپنے مفروضوں کی تصدیق اور دکھوں کا مداوا نظر آیا ۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں پی ٹی آئی جیسی نوزائیدہ جماعت نے جمود پرور معاشرے میں اے این پی جیسی کہنہ مشق سیاسی پارٹی اور جے یو آئی جیسی سکہ بند مذہبی جماعت کو پیچھے دھکیل کر پشتون معاشرے میں جگہ بنا کر 2013 میں صوبائی حکومت کی عنان سنبھال لی۔ پی ٹی آئی کی سیاسی برتری محض انتخابی جیت نہیں تھی بلکہ یہ ہمہ گیر نظریاتی اور تہذیبی شفٹ تھا جس نے ہمیشہ کے لئے اِس خطہ کی سیاست پہ حاوی مرکز گریز قوتوں کو متروک بنا دیا۔

اسی طرح مقتدرہ نے 2015 میں شمالی وزیرستان کے آپریشن ضربِ عضب کی سیاسی ذمہ داری کا طوق وزیرِ اعظم نواز شریف کے گلے میں ڈال کر پھر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو دہشتگردوں کے ممکنہ ردعمل سے بچا لیا تاہم ایک بار پھر لاکھوں افراد کی نقل مکانی ، سیکیورٹی چیک پوسٹس ، کاروباری سرگرمیوں کا تعطل اور شہری آزادیوں پر قدغنیں عوامی ناراضی کا سبب بنیں ، عسکری سطح پر یہ آپریشن بے نتیجہ مگر فوجی کاروائیوں کے سیاسی اثرات منفی برآمد ہوئے چنانچہ نواز لیگ جو پہلے ہی صوبہ میں کمزور تھی، مزید لاتعلق ہو کر رہ گئی، یوں ایک اور سیاسی جماعت فوجی آپریشنز کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں  2025 میں امریکہ چین ٹیکنالوجی تجارتی جنگ میں چین کے پاس کون سے کارڈ ہیں؟

2018 سے 2022 تک عمران خان کے دورِ حکومت میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی نیا موڑ مڑ گئی ، فیصلہ کن فوجی کارروائی کے بجائے مفاہمت اور ری انٹیگریشن کو ترجیح دی جانے لگی ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے عسکریت پسندوں کو مرکزی دھارے میں واپس لانے کی تجاویز اور بعض بیانات میں انہیں خیبر پختونخوا میں دفاتر بنانے کی اجازت دینے کی باتیں ایسے سیاسی بیانیہ میں ڈھلتی گئیں جس نے دہشتگردی کے خلاف مملکت کے اجتماعی ارادے کو منتشر ، قومی قیادت کی سوچ کو منقسم اور عوام کو کنفیوژ کر دیا ۔ اس بیانیہ نے پی ٹی آئی کو وقتی سیاسی فائدہ تو پہنچایا مگر قومی سلامتی کے لئے اِس کے نتائج منفی نکلے ۔ اس سے دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور صوبے بھر میں دہشت گردی کی خونخوار لہروں نے بڑی تعداد میں پولیس ، سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نگل لیا۔

اقتدار سے بیدخلی کے بعد عمران خان نے ایک بار پھر وہی بیانیہ اپنایا جو ماضی میں ان کے لیے مفید ثابت ہوا تھا یعنی خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشنز کے خلاف جارحانہ موقف ، اسٹیبلشمنٹ پر تنقید اور ریاستی پالیسیوں کو عوامی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرا کر خیبر پختونخوا کے عوام کو ریاستی مقتدرہ کے خلاف صف آرا کردیا ، اِسی بیانیہ نے پی ٹی آئی دور کی ناکامیوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل کرکے فوجی آپریشنز کو پبلک ڈسکورس کا محور بنا دیا۔

 ، بلاشبہ، ہشت گردی ہو یا دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑا۔ سیکیورٹی اقدامات کے نام پر جبری نقل مکانی، شہری آزادیوں میں رکاوٹ ، بنیادی حقوق کی پامالی اور سماجی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ نے معاشرے کو اجتماعی صدمات سے دوچار کر دیا، گورننس کا نظام مفلوج ہونے سے سول بیوروکریسی اور پولیس میں بھی وفاقی اداروں کے خلاف ناراضگی جنم لینے لگی ، یہ ایسی پیچیدہ صورت حال تھی جس نے فوجی آپریشنز کی حمایت کرنے والی جماعتوں اور شخصیات کو عوامی غیض و غضب کے سامنے لا کھڑا کیا، ایسے میں پہلے کی طرح پی ٹی آئی کو پھر فوجی کاروائیوں کی مخالفت کا راستہ دیکر سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقعہ فراہم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے ساتھ 2025 میں پاکستان کو کن خارجہ پالیسی چیلنجز کا سامنا رہے گا؟

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا یہ سب محض اتفاق تھا یا کسی گہری حکمتِ عملی کا حصہ ؟ جس نے روایتی سیاسی جماعتوں ، مذہبی تنظیموں اور مرکز گریز قوتوں کو دیوار سے لگا کر پی ٹی آئی کو عوامی کے سیاسی شعور پہ مسلط رکھا، ممکن ہے مقتدرہ عمران خان کے خلاف ہو مگر قرائن بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو بطورِ جماعت مکمل طور پر کمزور یا ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ فوجی آپریشنز کی سیاسی اونر شپ کا بوجھ وفاق پر ڈال کر صوبائی سطح پر پی ٹی آئی کو عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا موقع دینے جیسے مبہم عوامل مل کر اس تاثر کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا سیاسی وجود کسی نہ کسی صورت برقرار رکھا جائے گا ۔

اسلم اعوان
اسلم اعوانhttps://urdu.defencetalks.com/author/aslam-awan/
اسلم اعوان نے صحافت کے متحرک اور ابھرتے ہوئے میدان کے لیے متاثر کن تیس سال وقف کیے ہیں، جس کے دوران انھوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا آؤٹ لیٹس کی متنوع صفوں میں رپورٹنگ اور کالم نگاری دونوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اپنے وسیع کیریئر کے دوران انہوں نے بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا ہے، لیکن انہوں نے افغانستان پر خاص توجہ مرکوز کی ہے، ایک ایسا خطہ جو دہائیوں سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز ہے۔ افغانستان کے سیاسی منظر نامے، سماجی مسائل اور ثقافتی باریکیوں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اعوان کے عزم نے انہیں فیلڈ میں ایک قابل احترام آواز بنا دیا ہے۔ وہ نہ صرف موجودہ واقعات پر رپورٹ کرتے ہیں بلکہ بصیرت انگیز تجزیہ بھی فراہم کرتے ہیں جس سے قارئین کو خطے میں ہونے والی پیش رفت کے وسیع مضمرات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ افغانستان پر اپنے کام کے علاوہ، اعوان وسطی ایشیا اور روس کی جغرافیائی سیاسی حرکیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی امور میں ان کی مہارت انہیں مختلف عالمی واقعات کے درمیان کڑیوں کو جوڑنے کے قابل بناتی ہے، جس سے ایک جامع نقطہ نظر پیش کیا جاتا ہے کہ یہ خطے ایک دوسرے اور باقی دنیا کے ساتھ کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اپنی تحریر کے ذریعے، اسلم اعوان قوموں کے درمیان پیچیدہ تعلقات، عصری مسائل پر تاریخی واقعات کے اثرات اور بین الاقوامی سفارت کاری کی اہمیت کو روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صحافت کے تئیں ان کی لگن ان کی مکمل تحقیق، درستگی سے وابستگی اور کہانی سنانے کے جذبے سے عیاں ہے، یہ سب کچھ اس پیچیدہ دنیا کی گہری تفہیم میں معاون ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین