ترکیہ ایران میں حکومت کے ممکنہ انہدام کی صورت میں بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے غیر معمولی ہنگامی منصوبے تیار کر رہا ہے۔ یہ انکشاف مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں پارلیمنٹ کو دی گئی خفیہ بریفنگز سے واقف حکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں اراکینِ پارلیمنٹ کو ایران سے متعلق متعدد ممکنہ منظرناموں پر بریفنگ دی، جن میں یہ واضح کیا گیا کہ انقرہ کسی بھی بڑے نقل مکانی کے بحران کو ترکیہ کی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے روکنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی سرحد کے اُس پار اقدامات کا عندیہ
بریفنگ میں شریک ایک رکن کے مطابق، حکام نے ایران کی سرحد کے اندر ایک ممکنہ "بفر زون” کا واضح حوالہ دیا۔ تاہم ایک اور ذریعے نے کہا کہ اگرچہ یہ اصطلاح براہِ راست استعمال نہیں کی گئی، مگر حکام نے اشارہ دیا کہ ترکیہ روایتی بارڈر کنٹرول سے کہیں آگے جانے کے لیے تیار ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق:
"ان کا خیال ہے کہ ایران کے اندر ہر ممکن اقدام کیا جانا چاہیے تاکہ ممکنہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد وہیں رکے رہیں۔”
ایران کے ساتھ سرحد پر سخت حفاظتی اقدامات
ترکیہ پہلے ہی ایران کے ساتھ 560 کلومیٹر طویل سرحد پر سیکیورٹی کو نمایاں طور پر مضبوط کر چکا ہے۔ رواں ماہ وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ:
- سینکڑوں جدید نگرانی ٹاورز
- مسلسل ڈرون اور فضائی نگرانی
- مربوط ریکی نظام
- ماڈیولر کنکریٹ دیوار
پر مشتمل ایک ہائی ٹیک بارڈر سیکیورٹی سسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق سرحد کی چوبیس گھنٹے نگرانی جدید انٹیگریٹڈ سسٹمز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
ایران میں بدامنی پر انقرہ کی تشویش
اسی پارلیمانی بریفنگ کے دوران ترک حکام نے بتایا کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں:
- تقریباً 4 ہزار افراد ہلاک
- 20 ہزار سے زائد زخمی
ہو چکے ہیں۔ یہ مظاہرے مہنگائی، معاشی بدحالی اور ایرانی ریال کی شدید گراوٹ کے باعث پھوٹ پڑے تھے۔
اگرچہ بعض مظاہروں میں تشدد کی اطلاعات ہیں، تاہم متعدد تحقیقات اور ویڈیو شواہد کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز نے غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا اور احتجاج دبانے کے لیے انٹرنیٹ بندشیں بھی نافذ کی گئیں۔
ترکیہ کا غیر ملکی مداخلت سے انکار
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے واضح کیا ہے کہ ترکیہ ایران میں کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کو ترجیح دے۔
اس کے باوجود انقرہ میں تشویش اس وقت بڑھی جب اطلاعات سامنے آئیں کہ واشنگٹن سینئر ایرانی حکام پر ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔ یہ بات مڈل ایسٹ آئی نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے بتائی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ نے خطے میں:
- جنگی طیارے
- فضائی دفاعی نظام
- بحری جہاز
تعینات کیے ہیں، جبکہ USS Abraham Lincoln طیارہ بردار بحری جہاز کی مشرقِ وسطیٰ میں آمد نے ترک حکام کے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
نئے مہاجر بحران کا خوف
ترکیہ پہلے ہی شام اور عراق کی جنگوں کے باعث لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کر چکا ہے، اسی لیے وہ کسی نئے مہاجر بحران کے حوالے سے انتہائی محتاط ہے۔
حکام کا اندازہ ہے کہ اگر ایران میں مکمل پیمانے کا تنازع شروع ہوا تو 10 لاکھ تک افراد ترکیہ کی سرحد کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق:
- ترکیہ نے "اوپن ڈور” مہاجر پالیسی ترک کر دی ہے
- صرف ہنگامی انسانی بنیادوں پر مہاجرین کو قبول کیا جائے گا
آذربائیجانی ترک عنصر: ایک حساس پہلو
صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر ایران میں موجود تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ آذربائیجانی ترک ہیں۔ اگر یہ آبادی بڑی تعداد میں سرحد کی طرف بڑھی تو ترکیہ کے لیے سیاسی، انسانی اور نسلی حساسیت کا نیا چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: ایک نازک توازن
ترکیہ کی یہ تیاری:
- بے قابو مہاجرت کو روکنے
- داخلی استحکام برقرار رکھنے
- علاقائی کشیدگی سے بچنے
کی کوششوں کی عکاس ہے۔ ایران کے گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال میں انقرہ واضح طور پر چاہتا ہے کہ بحران اس کی سرحدوں سے باہر ہی محدود رہے۔




