جمعہ, 13 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

رافیل پر Meteor میزائل: بھارت کی برتری یا صرف طاقت کا مظاہرہ؟

بھارت کی جانب سے یومِ جمہوریہ کی فلائی پاسٹ کے دوران رافیل جنگی طیاروں پر MBDA میٹیور بیونڈ ویژول رینج (BVR) میزائل کی عوامی نمائش کو ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم اس نمائشی لمحے کے پیچھے کئی اہم سوالات اور خدشات جنم لیتے ہیں:
کیا یہ واقعی جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدلنے والا قدم ہے، یا محض ڈیٹرنس سگنلنگ اور سیاسی پیغام رسانی؟

سوچی سمجھی نمائش، مکمل آپریشنل شفافیت نہیں

رافیل طیاروں نے نئی دہلی کے کرتویہ پتھ پر سندور اور وجرنگ فارمیشنز میں پرواز کی، جن کے نیچے واضح طور پر میٹیور میزائل نصب تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ کوئی حادثاتی انکشاف نہیں بلکہ منصوبہ بند اور کنٹرولڈ پبلک ڈسپلے تھا، جسے بعد ازاں "آپریشن سندور” سے منسوب ویڈیو کے ذریعے مزید تقویت دی گئی۔

تاہم اس پورے انکشاف میں کئی اہم پہلوؤں پر خاموشی برقرار رکھی گئی:

  • میٹیور میزائلوں کی اصل تعداد
  • پائلٹس کی مکمل جنگی تربیت کی سطح
  • الیکٹرانک وارفیئر کے ماحول میں کارکردگی
  • جنگی حالات میں استعمال کے قواعد

ان سوالات کے بغیر، یہ انکشاف آپریشنل برتری سے زیادہ علامتی طاقت دکھائی دیتا ہے۔

میٹیور کی صلاحیت: جدید، مگر منفرد نہیں

میٹیور میزائل بلاشبہ دنیا کے جدید ترین BVR میزائلوں میں شامل ہے۔
اس کا ریم جیٹ انجن، بلند رفتار (Mach 4+) اور وسیع نو-اسکیپ زون اسے روایتی میزائلوں پر فوقیت دیتا ہے۔

لیکن تنقیدی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ:

  • چین کا PL-15 میزائل اسی سطح کی صلاحیت رکھتا ہے
  • پاکستان سینسرز، ڈیٹا لنکس اور الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز بہتر بنا رہا ہے
  • جدید فضائی جنگ اب صرف میزائل نہیں بلکہ نیٹ ورکڈ سسٹمز پر منحصر ہے
یہ بھی پڑھیں  20 نکاتی امن منصوبہ: بولڈ ویژن یا ناقص بلیو پرنٹ؟

لہٰذا، صرف ایک میزائل کو فیصلہ کن برتری قرار دینا حقیقت پسندی سے دور ہو سکتا ہے۔

ڈیٹرنس یا اشتعال؟

بھارتی بیانیہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میٹیور کی نمائش نے 2019 کے بعد کھوئی ہوئی BVR برتری بحال کر دی ہے۔
لیکن عسکری ماہرین کے مطابق:

ڈیٹرنس کا مطلب صرف ہتھیار دکھانا نہیں، بلکہ بحران میں رویوں کو قابو میں رکھنا بھی ہے۔

کھلی نمائش:

  • حریف کو خبردار بھی کر سکتی ہے
  • جوابی اقدامات کو تیز بھی کر سکتی ہے
  • فیصلوں کا وقت کم کر سکتی ہے
  • کشیدگی بڑھا سکتی ہے

ایک پاکستانی دفاعی تجزیہ کار کے مطابق،
"طاقت کا واضح مظاہرہ اکثر توازن کے بجائے مقابلہ آرائی کو جنم دیتا ہے۔”

اتنی دیر خاموشی کیوں؟

یہ سوال برسوں سے موجود تھا کہ اگر بھارت کے پاس میٹیور موجود تھا تو:

  • پہلے کیوں نہیں دکھایا گیا؟
  • کیوں مشقوں اور گشت میں اس کی تصاویر سامنے نہ آئیں؟

تنقیدی حلقوں کے مطابق، اچانک یہ انکشاف:

  • داخلی سیاسی ضرورت
  • مہنگے دفاعی منصوبوں کا جواز
  • سوشل میڈیا پر شکوک و شبہات کا جواب

بھی ہو سکتا ہے، نہ کہ صرف عسکری تیاری کی علامت۔

جنوبی ایشیا میں بڑھتا ہوا خطرہ

جنوبی ایشیا کی فضائی حدود پہلے ہی:

  • محدود
  • گنجان
  • اور حساس

ہیں۔
اس ماحول میں BVR ہتھیاروں کی کھلی نمائش غلط اندازوں اور حادثاتی تصادم کے امکانات بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ڈرونز اور ہائبرڈ جنگ کے دور میں۔

قیمت اور پائیداری کا سوال

رافیل طیارے کی مجموعی لاگت 200 ملین ڈالر فی یونٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ میٹیور دنیا کے مہنگے ترین میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت کا نیوکلیئر اصلاحاتی بل: نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

سوال یہ ہے:

  • کیا بھارت طویل جنگ میں ایسے مہنگے ہتھیاروں پر انحصار کر سکتا ہے؟
  • کیا مقدار، معیار کے ساتھ چل سکے گی؟
  • کیا ڈیٹرنس کی یہ قیمت قابلِ جواز ہے؟

نتیجہ: صلاحیت ثابت، برتری غیر یقینی

رافیل پر میٹیور میزائل کی موجودگی اب ایک حقیقت ہے۔
لیکن یہ کہنا کہ اس سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بنیادی طور پر بدل گیا ہے، ابھی قبل از وقت ہوگا۔

یہ انکشاف:

  • عسکری برتری سے زیادہ بیانیاتی جنگ جیتنے کی کوشش
  • ڈیٹرنس کے ساتھ نئی کشیدگی
  • اور طاقت کے مظاہرے اور جنگی حقیقت کے درمیان فرق

کو نمایاں کرتا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین