بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ، ایک اور جنگی جہاز تعینات

امریکی بحریہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کرتے ہوئے ایک اور جنگی جہاز خطے میں تعینات کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور امریکا بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کر رہا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے علاقے میں داخل ہوا ہے۔ اس نئی تعیناتی کے بعد خطے میں موجود امریکی تباہ کن جنگی جہازوں (ڈسٹرائرز) کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی ہے، جبکہ ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین لِٹرل کومبیٹ شپس بھی پہلے سے موجود ہیں۔

اس اضافی جنگی جہاز کی تعیناتی کی خبر سب سے پہلے سی بی ایس نیوز نے دی تھی۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

امریکی بحریہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، اسرائیل، غزہ اور بحیرہ احمر سمیت مختلف محاذوں پر صورتحال کشیدہ ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تعیناتیاں بازدارانہ حکمتِ عملی (Deterrence) کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امریکی مفادات، اتحادی ممالک اور بین الاقوامی بحری راستوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

گزشتہ ہفتوں کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فضائی، بحری اور میزائل دفاعی نظام کو بھی مزید مضبوط کیا ہے، خاص طور پر امریکی فوجی اڈوں اور تجارتی جہاز رانی کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر۔

یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک کی اہمیت

یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک ایک جدید آرلی برک کلاس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر ہے، جو ایجس میزائل ڈیفنس سسٹم سے لیس ہے۔ یہ جہاز بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے خلاف دفاع، آبدوزوں کے خلاف کارروائی اور سطحِ سمندر پر جنگی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  چین، پاکستان ایئرپاور معاہدوں کے جواب میں امریکا بھارت کو F-35A سٹیلتھ طیارے دینے کے لیے تیار

دفاعی ماہرین کے مطابق اس جہاز کی تعیناتی سے امریکی بحریہ کی تیز ردِعمل اور دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، خاص طور پر طیارہ بردار بحری جہازوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کے تحفظ کے لیے۔

امریکی مؤقف

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی میں اضافہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی فوری حملے کی تیاری نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کو روکنا اور خطے میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔

تاہم، بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن موجودہ صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید فوجی اقدامات کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین