Axios کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس ہفتے اسرائیل اور سعودی عرب کے اعلیٰ دفاعی اور انٹیلی جنس حکام کی میزبانی کر رہی ہے، جہاں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی پر تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں۔
Axios کے مطابق امریکا نے ممکنہ کارروائی کے پیش نظر خلیج میں بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت شروع کر دی ہے۔ اسرائیل، سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک گزشتہ چند دنوں سے ہائی الرٹ پر ہیں، کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے کسی بھی وقت حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کی بریفنگ
Axios کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام واشنگٹن اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ ایران کے اندر ممکنہ اہداف سے متعلق انٹیلی جنس شیئر کر سکیں۔
اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شلومی بائنڈر نے منگل اور بدھ کو پینٹاگون، سی آئی اے اور وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق جنرل بائنڈر نے ٹرمپ انتظامیہ کو وہ مخصوص معلومات فراہم کیں جن کی امریکا نے ایران سے متعلق باضابطہ طور پر درخواست کی تھی۔
سعودی عرب کی جنگ روکنے کی کوششیں
Axios کے مطابق سعودی عرب اس صورتحال میں خطے میں وسیع جنگ کے خدشے پر سخت تشویش رکھتا ہے اور سفارتی حل کی کوششوں میں سرگرم ہے۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان—جو ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ترین ساتھی اور چھوٹے بھائی ہیں—واشنگٹن میں پینٹاگون، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔
ان ملاقاتوں میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ایران پر بات چیت متوقع ہے۔ Axios کے مطابق شہزادہ خالد جمعرات اور جمعہ کو واشنگٹن میں موجود ہوں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل
Axios نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منگل کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو بتایا کہ سعودی عرب امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ٹرمپ کا حتمی فیصلہ ابھی باقی
وائٹ ہاؤس حکام نے Axios کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
اگرچہ بدھ کو ٹرمپ نے ایران کو دوبارہ دھمکی دی کہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں حملے "پچھلی بار سے کہیں زیادہ شدید” ہوں گے، تاہم ان کے قریبی مشیر اب بھی سفارتی راستہ کھلا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات نہیں
Axios کے مطابق اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان کوئی سنجیدہ مذاکرات جاری نہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران، واشنگٹن کی سخت شرائط پر کسی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی سطح پر فوجی کارروائی کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا، جس کا جواب فوری، ہمہ گیر اور غیر معمولی ہو گا، اور اس میں تل ابیب اور حملے کی حمایت کرنے والے تمام فریقین کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
خلیج میں امریکی فوجی تیاری آخری مرحلے میں
Axios کے مطابق خلیج میں امریکی فوجی تیاری آنے والے دنوں میں مکمل ہو جائے گی۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں پہنچ چکا ہے، جو امریکا کی بڑھتی ہوئی بحری موجودگی کا حصہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز Axios سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران کے قریب جمع کی گئی امریکی بحری طاقت ایک "بڑی آرمادا” ہے، جو ماضی کی تعیناتیوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے Axios کو بتایا کہ فی الحال حکم تیاری برقرار رکھنے کا ہے، تاہم صدر ٹرمپ آئندہ چند دنوں میں ایران سے متعلق ایک اور اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔




