امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے 1,000 نئے ڈرونز مسلح افواج کے مختلف شعبوں کے حوالے کر دیے ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے آبنائے ہرمز میں لائیو فائر مشقوں کا اعلان کیا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ ڈرونز ایرانی فوج، فضائی اور زمینی یونٹس کو فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے نئے جوہری معاہدے سے انکار کیا تو فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ایرانی فوج کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایران ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔
“درپیش خطرات کے تناظر میں فوج تیز رفتار جنگی صلاحیت اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور تباہ کن جواب دینے کے لیے اپنی اسٹریٹجک برتری برقرار رکھے ہوئے ہے،” امیر حاتمی نے کہا۔
ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ
ایران گزشتہ ایک دہائی کے دوران بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) کی تیاری پر خصوصی توجہ دیتا رہا ہے، جو نگرانی، انٹیلی جنس اور ہدفی حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ڈرونز ایران کی غیر متوازن جنگی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں، جو کم لاگت میں زیادہ مؤثر دفاعی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
مغربی ممالک اور علاقائی اتحادیوں کی جانب سے ایران پر ڈرون ٹیکنالوجی اتحادی گروہوں کو فراہم کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں
ایک علیحدہ خبر میں ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس یکم اور دو فروری کو آبنائے ہرمز میں براہِ راست فائرنگ کی مشقیں کرے گی۔
ان مشقوں میں میزائل فائرنگ، تیز رفتار بحری کشتیوں کی نقل و حرکت اور ساحلی دفاعی کارروائیاں شامل ہونے کی توقع ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔
عالمی توانائی سپلائی کے لیے حساس علاقہ
آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل بردار سمندری راستہ تصور کی جاتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے جوڑتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس حساس علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے تعلقات میں مزید تناؤ
ایران کی حالیہ فوجی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی حکام ایرانی اقدامات کو خطے میں عدم استحکام کا باعث قرار دیتے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی تمام فوجی سرگرمیاں دفاعی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت کسی بھی غلط فہمی یا حادثے کی صورت میں خطرناک کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔




