چین کی وزارتِ قومی دفاع نے اعلان کیا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی اعلیٰ ترین قیادت میں شامل دو سینیئر جنرلز کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات جنرل ژانگ یو شیا، نائب چیئرمین سینٹرل ملٹری کمیشن (CMC)، اور جنرل لیو ژن لی، چیف آف اسٹاف، جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ، کے خلاف کی جا رہی ہیں۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی قیادت کے مطابق دونوں افسران پر “سنگین نظم و ضبط اور قانونی خلاف ورزیوں” کے الزامات ہیں۔ چینی سیاسی زبان میں یہ اصطلاح عموماً بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا سیاسی بے وفائی جیسے الزامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
تحقیقات کی زد میں آنے والی شخصیات کون ہیں؟
جنرل ژانگ یو شیا چین کے طاقتور ترین عسکری ادارے، سینٹرل ملٹری کمیشن، کے نائب چیئرمین ہیں اور کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کے بھی رکن ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے پیپلز لبریشن آرمی کا حصہ رہے ہیں اور بری فوج میں کلیدی کمانڈ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار صدر شی جن پنگ کے قریبی اور بااثر عسکری رہنماؤں میں ہوتا رہا ہے، جس کے باعث ان کے خلاف تحقیقات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب جنرل لیو ژن لی، جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف ہیں اور ماضی میں پی ایل اے گراؤنڈ فورس کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ شعبہ چین کی فوجی منصوبہ بندی، آپریشنل کمانڈ اور جنگی تیاریوں میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
سرکاری مؤقف اور الزامات کی نوعیت
چینی وزارتِ دفاع کے بیان میں الزامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم کہا گیا ہے کہ تحقیقات پارٹی کے نظم و ضبط کے ادارے کر رہے ہیں۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو دونوں جنرلز کو پارٹی رکنیت سے برطرفی، عہدوں سے معزولی یا فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پس منظر: فوج میں انسدادِ بدعنوانی مہم
یہ پیش رفت صدر شی جن پنگ کی جانب سے 2012 کے بعد شروع کی گئی وسیع انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس کا دائرہ سول حکومت کے ساتھ ساتھ فوج تک بھی پھیل چکا ہے۔ گزشتہ برسوں میں متعدد اعلیٰ جنرلز، سابق وزرائے دفاع اور عسکری عہدیداروں کو اسی نوعیت کے الزامات پر عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مہم کا مقصد صرف بدعنوانی کا خاتمہ نہیں بلکہ فوج میں سیاسی وفاداری کو یقینی بنانا اور کمانڈ اسٹرکچر کو صدر شی کی قیادت کے تحت مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔
اہمیت اور ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل ژانگ یو شیا جیسے انتہائی بااثر فوجی رہنما کے خلاف تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چینی قیادت فوج میں کسی بھی سطح پر نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں۔ اس اقدام کے چین کی دفاعی پالیسی، عسکری اصلاحات اور اندرونی طاقت کے توازن پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس پیش رفت کو چین کی عسکری اور سیاسی سمت کے حوالے سے ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بیجنگ خطے اور عالمی سطح پر اپنی فوجی صلاحیتوں کو وسعت دے رہا ہے۔




