ہفتہ, 28 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران کی ٹرمپ کو لبھانے کی کوشش: تیل اور گیس میں امریکا کو سرمایہ کاری کی پیشکش

ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ مالی فوائد والے تجارتی مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جن میں تیل، گیس اور کان کنی کے شعبے شامل ہیں۔
یہ پیشکش فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ایران امید کر رہا ہے کہ ایسی مالی پیشکشیں ٹرمپ کے “ڈیل­ میکر” تاثر کو متاثر کر سکتی ہیں اور جوہری تنازع میں سفارتی حل کے دروازے کھول سکتی ہیں۔

آج جمعرات کو جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر شریک ہوں گے۔

ایران کی پیشکش کیا ہے؟

ایران کے باخبر ذرائع کے مطابق، تہران نے امریکا کو تیل اور گیس کے ذخائر، کان کنی کے حقوق اور اہم معدنیات میں سرمایہ کاری کا موقع دینے کی بات کی ہے تاکہ امریکا کے لیے بڑی مالی واپسی والا موقع پیدا کیا جا سکے۔ رپورٹ میں اس کو “کمرشل بُنانزا” کہا گیا ہے، جو خاص طور پر ٹرمپ کو متوجہ کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔

یہ پیشکش فی الحال باضابطہ طور پر امریکا کو نہیں دی گئی، لیکن ایران اور اس کے ثالثوں کے درمیان اس موضوع پر مباحثے ہوئے ہیں، اور ایران نے تیل کی فروخت پر عائد ہونے والی نئی امریکی پابندیوں کے تناظر میں مزید مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

امریکا کا ردِعمل اور مذاکرات کی حقیقت

ایک بڑے امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ اب تک کوئی بھی تجارتی پیشکش امریکا کو باضابطہ طور پر نہیں دی گئی، اور صدر ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور نہ ہی اس کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں  افغان وزارت خارجہ کا کابل میں سعودی عرب کا سفارتخانہ دوبارہ کھلنے پر خوشی کا اظہار

یہ پیشکش اسی وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے 30 سے زائد افراد، اداروں اور جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جنہیں ایران کی “شیڈو فلیٹ” کے ذریعے غیر قانونی تیل کی فروخت اور ہتھیاروں کی تیاری میں مدد کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔

تجزیہ: ایران کی حکمتِ عملی

ایران کی یہ حکمتِ عملی دو پہلو رکھتی ہے:

  1. معاشی مراعات کے ذریعے سفارتی دروازے کھولنا
    ایران شاید سمجھتا ہے کہ اگر امریکا کو تجارتی فائدے کا موقع ملے تو وہ سخت موقف چھوڑ کر مذاکرات کی طرف راغب ہو سکتا ہے۔

  2. امریکی دباؤ کا مقابلہ
    امریکا نے ایران پر سخت پابندیاں لگائی ہیں، خاص طور پر ایسے جہازوں اور افراد پر جو ایران کے تیل کے کاروبار اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں شامل ہیں۔

ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، جیسا کہ ایرانی صدر مسعود پزیشکین نے دو مرتبہ واضح کیا ہے۔

مذاکرات کی سمت اور تحریک

  • ایران جنیوا میں مذاکرات میں لچک دکھانے کا اشارہ دے رہا ہے، خاص طور پر اس نے سفارتکاری پر زور دیا ہے اور جوہری معاہدے کو بچانے کی بات کی ہے۔

  • امریکا فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، اور ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک معاہدہ صرف سفارت کاری کو ترجیح دینے پر ممکن ہے۔

اگر ایران کی پیشکش سے مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ ممکنہ طور پر نے رواں سال کے اہم ترین سفارتی پیش رفت میں شمار ہو سکتی ہے — نہ صرف جس میں ایران اور امریکا کے تعلقات ہوں بلکہ خطے میں امن اور اقتصادی تعاون کو بھی متاثر کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران–امریکہ کشیدگی: ترکی تمام ممکنہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے، ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی مسترد
سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین