امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اپنے دو اہم اتحادیوں، اسرائیل اور سعودی عرب، کو مجموعی طور پر 15.67 ارب ڈالر کے بڑے اسلحہ سودوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری 30 جنوری 2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت امریکی محکمہ خارجہ نے دی۔
منظور شدہ پیکجز میں اسرائیل کے لیے 6.67 ارب ڈالر مالیت کے جدید حملہ آور ہیلی کاپٹر اور ٹیکٹیکل گاڑیاں، جبکہ سعودی عرب کے لیے 9 ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ PAC-3 میزائل شامل ہیں۔ یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں جاری جنگ، ایران سے جڑے خطرات اور خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسرائیل کے لیے اسلحہ پیکج: فضائی اور زمینی طاقت میں اضافہ
اسرائیل کے لیے امریکی اسلحہ فروخت کو چار علیحدہ پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کا مقصد فضائی برتری، زمینی نقل و حرکت اور جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
- 30 AH-64E اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر، جو جدید ٹارگٹنگ سسٹمز، راکٹ لانچرز اور درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں سے لیس ہوں گے۔ یہ ہیلی کاپٹر قریبی فضائی مدد، بکتر شکن کارروائیوں اور درست حملوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
- 3,250 جوائنٹ لائٹ ٹیکٹیکل وہیکلز (JLTVs)، جن کی مالیت تقریباً 1.98 ارب ڈالر ہے، جو فوجی دستوں کی نقل و حرکت اور تحفظ میں اضافہ کریں گی۔
- بکتر بند گاڑیوں کے لیے پاور پیکس اور ہلکے یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹرز سمیت دیگر آلات۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فروخت اسرائیل کی کوالٹیٹو ملٹری ایج برقرار رکھنے اور مشترکہ خطرات کے خلاف ایک اہم اتحادی کو مضبوط بنانے کے امریکی قومی سلامتی اہداف کے عین مطابق ہے۔
یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب اسرائیل غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں کانگریس کے روایتی جائزہ عمل کو محدود کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے لیے پیٹریاٹ میزائل معاہدہ: فضائی دفاع میں تقویت
سعودی عرب کے لیے 9 ارب ڈالر کے معاہدے میں 730 پیٹریاٹ PAC-3 میزائل سیگمنٹ انہانسمنٹ (MSE) میزائل، تربیت، تکنیکی معاونت اور دیگر سازوسامان شامل ہیں۔ پیٹریاٹ نظام بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور دشمن طیاروں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق یہ فروخت سعودی عرب کو اپنی سرزمین، امریکی اہلکاروں اور خلیجی اتحادیوں کے دفاع میں مزید مؤثر بنائے گی۔ اس منصوبے کا مرکزی ٹھیکیدار Lockheed Martin ہوگا۔
یہ معاہدہ سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان کی واشنگٹن میں اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا، جن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ شامل تھے۔ سعودی عرب کو حالیہ برسوں میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث فضائی دفاعی نظام اس کی ترجیح بن چکا ہے۔
علاقائی تناظر اور اسٹریٹجک اثرات
یہ اسلحہ سودے امریکہ کی ایران کے خلاف ڈیٹرنس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد اتحادی ممالک کو مضبوط بنا کر تہران کے میزائل پروگرام، پراکسی نیٹ ورکس اور جوہری عزائم کا مقابلہ کرنا ہے۔
حامیوں کے مطابق یہ سودے علاقائی سلامتی کو بہتر بنائیں گے اور ایران کو جارحانہ اقدامات سے باز رکھیں گے۔ تاہم ناقدین، خصوصاً بعض امریکی قانون ساز، غزہ میں انسانی بحران اور یمن جنگ سے جڑے انسانی حقوق کے خدشات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
امریکی قانون کے تحت کانگریس کو ان سودوں کا جائزہ لینے کے لیے 30 دن کا وقت دیا جاتا ہے، اگرچہ تاخیر سے دی گئی اطلاعات بحث کے مواقع محدود کر سکتی ہیں۔ ماضی میں بھی ٹرمپ دور کے اسی نوعیت کے سودے تنقید کے باوجود آگے بڑھتے رہے ہیں۔
خلاصہ
اسرائیل اور سعودی عرب کے لیے 15.67 ارب ڈالر کے یہ بڑے اسلحہ سودے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ جاری تنازعات اور علاقائی کشیدگی کے باعث یہ فیصلے آنے والے برسوں میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔




