جمعہ, 13 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سعودی وزیرِ دفاع کا ٹرمپ کو انتباہ: ایران کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو تہران مزید مضبوط ہوگا

سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان  نے واشنگٹن میں ایک نجی بریفنگ کے دوران خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ ایران کے خلاف دی گئی فوجی دھمکیوں پر عمل نہیں کرتے تو اس کا فائدہ براہِ راست ایرانی حکومت کو ہوگا اور وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئے گی۔ اس بریفنگ میں موجود چار ذرائع نے یہ بات بتائی۔

یہ بیان سعودی عرب کے حالیہ سرکاری مؤقف کے برعکس ہے، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا جا رہا تھا۔ چند ہفتے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خود صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایسی کارروائی پورے خطے کو ایک بڑی جنگ میں جھونک سکتی ہے، جس کے بعد امریکہ نے حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

واشنگٹن میں بند کمروں کی سفارت کاری

پرنس خالد بن سلمان، جو ولی عہد کے قریبی ترین ساتھی اور چھوٹے بھائی ہیں، ایران سے متعلق مشاورت کے لیے واشنگٹن کے دورے پر تھے۔ اس دوران ان کی ملاقات امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ، وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈان کین سے ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں کا مرکزی نکتہ ایران پر ممکنہ امریکی حملہ تھا، اگرچہ وائٹ ہاؤس کا سرکاری مؤقف اب بھی یہی ہے کہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ریاض میں سعودی جھنڈے کے ساتھ F-35 طیاروں کی اڑان، سعودی عرب کے 48 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے خریدنے کے منصوبے کا اشارہ

سرکاری احتیاط، نجی تشویش

سرکاری طور پر سعودی عرب نے ایران کی خودمختاری کے احترام اور سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا کہ سعودی عرب ایران پر کسی بھی امریکی حملے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

تاہم، پسِ پردہ صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ایک علیحدہ نشست میں، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے ماہرین اور یہودی تنظیموں کے نمائندے شریک تھے، پرنس خالد بن سلمان نے کہا کہ اگر امریکہ ہفتوں کی دھمکیوں کے بعد پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے ایرانی حکومت مزید دلیر ہو جائے گی۔

“اگر اب کارروائی نہ ہوئی تو یہ ایرانی نظام کو مزید حوصلہ دے گا،”
ذرائع کے مطابق پرنس خالد نے یہ بات واضح الفاظ میں کہی۔

شرکاء کے مطابق انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وائٹ ہاؤس سے ملاقات کے بعد بھی انہیں امریکہ کی ایران سے متعلق طویل المدتی حکمتِ عملی واضح طور پر سمجھ میں نہیں آئی۔

خطے کو درپیش مشکل فیصلہ

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان سنجیدہ براہِ راست مذاکرات موجود نہیں، جبکہ تہران امریکی شرائط پر کسی معاہدے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب خلیج میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا جا چکا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایک خلیجی اہلکار کے مطابق، امریکہ کے لیے صورتحال دو دھاری تلوار کی مانند ہے:
حملہ خطے میں خطرناک نتائج لا سکتا ہے، جبکہ عدمِ کارروائی ایران کو مزید طاقتور بنا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارتی آرمی چیف: پاکستان اور چین کی طرح راکٹ–میزائل فورس بنانا ضروری

اسرائیل سے متعلق مؤقف

پرنس خالد بن سلمان نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کیا کہ سعودی عرب اسرائیل سے دور یا کسی اور سمت میں جھک رہا ہے۔ انہوں نے سعودی میڈیا میں اسرائیل مخالف جذبات میں اضافے کے تاثر کو بھی بے بنیاد قرار دیا، تاہم بعض شرکاء کے مطابق یہ وضاحت مکمل طور پر تسلی بخش نہ تھی۔

نتیجہ

سعودی قیادت کے نجی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تاخیر یا غیر واضح حکمتِ عملی خطے میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں بدل سکتی ہے۔ ایسے میں واشنگٹن کے اگلے قدم پر نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

انعم کاظمی
انعم کاظمی
انعم کاظمی پاکستانی صحافت کا ابھرتا ستارہ ہیں، دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، نیشنل ٹی وی چینلز پر کرنٹ افیئرز کے پروگرامز میں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور کانٹینٹ کنٹریبیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ بھی تعلق رہا، ڈیفنس ٹاکس میں کالم نگار ہیں۔ بین الاقوامی اور سکیورٹی ایشوز پر لکھتی ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین