پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں افغان طالبان کی “بلااشتعال فائرنگ” کے جواب میں کی جا رہی ہیں، جبکہ طالبان ترجمان نے پاکستان کے خلاف وسیع جوابی آپریشن شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
مہمند، باجوڑ اور شوال سیکٹر میں جھڑپیں
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق:
- مہمند سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔
- پاک فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی سرحدی پوسٹیں خالی کروا لیں۔
- باجوڑ کے قریب دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا۔
- شوال سیکٹر کے سامنے افغان صوبے Paktika میں طالبان کی ایک پوسٹ پر قبضہ کر لیا گیا، جہاں سے مبینہ طور پر طالبان اہلکار فرار ہو گئے۔
شوال ویلی اور شمالی وزیرستان کا علاقہ ماضی میں بھی عسکری سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا رہا ہے۔
کابل، قندھار، پکتیکا اور ننگرہار میں فضائی کارروائیاں
Visual: Pakistan Air Force strikes Arms depot with precision in Nangarhar as Pakistan continues to respond befittingly to Afghan Taliban’s unprovoked aggression https://t.co/MpnN01evnJ pic.twitter.com/WxckOVQfNb
— Anas Mallick (@AnasMallick) February 26, 2026
ذرائع کے مطابق Pakistan Air Force اور Pakistan Army نے مربوط فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ نشانہ بننے والے مقامات میں شامل ہیں:
- Kabul میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرز۔
- Kandahar میں اسلحہ ڈپو اور لاجسٹک بیس۔
- پکتیکا میں کور سطح کی تنصیبات۔
- Nangarhar میں مبینہ ٹھکانے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اہم اسلحہ ذخائر تباہ کیے گئے۔ تاہم افغان حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔
طالبان کا جوابی کارروائی کا دعویٰ
Zabihullah Mujahid، جو کہ Taliban کے ترجمان ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ:
- پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد “وسیع جوابی آپریشن” شروع کر دیے گئے ہیں۔
- قندھار اور Helmand کے محاذوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
- کارروائیاں کابل اور دیگر صوبوں پر حملوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
تاہم پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ قندھار سے اب تک کسی بڑے طالبان حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
باجوڑ میں دراندازی ناکام
پاکستانی حکام کے مطابق باجوڑ سیکٹر میں “فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے عناصر کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ ایک شخص جس نے اپنا نام عبداللہ بتایا، کو مبینہ طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا۔
اسلام آباد طویل عرصے سے افغان سرزمین سے کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اطلاعاتی جنگ اور میڈیا تنازع
سرحدی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بیانیے کی جنگ جاری ہے۔ Sky News کی ایک رپورٹ پر پاکستانی صارفین نے شدید ردعمل دیا، جس میں افغانستان کی فضائیہ کی جانب سے پاکستان پر حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کے پاس اس وقت مکمل فعال فضائیہ موجود نہیں، جس کے باعث اس دعوے پر سوالات اٹھائے گئے۔
ممکنہ علاقائی اثرات
اگر کشیدگی برقرار رہی تو ممکنہ نتائج میں شامل ہو سکتے ہیں:
- سرحدی علاقوں میں طویل جھڑپیں۔
- مقامی آبادی کی نقل مکانی۔
- تجارتی راستوں کی بندش۔
- سفارتی تعلقات میں مزید کشیدگی۔
- غیر ریاستی عناصر کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ۔
2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات وقفے وقفے سے شدت اختیار کرتے رہے ہیں۔
نتیجہ
شوال سیکٹر میں طالبان پوسٹ پر قبضہ، کابل اور قندھار میں مبینہ فضائی حملے، اور طالبان کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان–افغانستان تعلقات ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔
اگرچہ دونوں جانب سے کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق محدود ہے۔ آئندہ چند دن اس بحران کے رخ کا تعین کریں گے کہ آیا معاملہ سفارتی سطح پر حل ہوگا یا کشیدگی مزید بڑھے گی۔




