امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ صدر Donald Trump کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کے اعلیٰ کمانڈر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے آپشنز پر بریفنگ دی، جبکہ اسی دوران جنیوا میں جاری جوہری مذاکرات کا تیسرا دور اختتام پذیر ہوا۔
یہ بریفنگ ایسے وقت ہوئی جب سفارتی عمل جاری ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن بیک وقت سفارتکاری اور عسکری تیاری—دونوں راستے کھلے رکھے ہوئے ہے۔
سینٹکام کی بریفنگ: فوجی کارروائی کے آپشنز زیرِ غور
امریکی حکام کے مطابق Brad Cooper، سربراہ United States Central Command (سینٹکام)، نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے مختلف آپشنز سے آگاہ کیا۔
بریفنگ میں Dan Caine بھی شریک تھے۔ اطلاعات کے مطابق:
- یہ دسمبر میں بحران کے آغاز کے بعد پہلی بڑی براہِ راست عسکری بریفنگ تھی۔
- مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی تعیناتی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
- حتمی فیصلہ آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم اسے سفارتکاری کے لیے “آخری موقع” قرار دیا جا رہا ہے۔
جنیوا مذاکرات: لہجے میں بہتری، بنیادی اختلاف برقرار
![]()
جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو اب تک کا “سب سے سنجیدہ اور طویل” دور قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ Abbas Araghchi کے مطابق:
- کچھ معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے۔
- اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔
- اگلا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے، جبکہ ویانا میں تکنیکی سطح پر بات چیت ہوگی۔
امریکی نائب صدر JD Vance نے کہا کہ اگرچہ فوجی آپشن زیرِ غور ہیں، لیکن امریکا کسی طویل جنگ میں نہیں الجھے گا۔
ماہرین کے مطابق “مثبت پیش رفت” اور “اہم اختلاف” بیک وقت درست ہو سکتے ہیں—لہجہ بہتر ہو سکتا ہے، مگر اصل تنازع حل نہ ہو۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ
صدر ٹرمپ نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق:
- بحری بیڑے اور فضائی یونٹس کی تعیناتی میں اضافہ ہوا ہے۔
- میزائل دفاعی نظام مضبوط کیا گیا ہے۔
- فوری ردعمل کی صلاحیت برقرار رکھی گئی ہے۔
یہ اقدامات ایران پر دباؤ بڑھانے اور ممکنہ جوابی کارروائی کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
“اسکارپین اسٹرائیک” اور سستے خودکش ڈرونز کی حکمتِ عملی

پینٹاگون نے “ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک” کے فعال ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس یونٹ میں LUCAS نامی ڈرون شامل ہے، جسے ایران کے شاہد-136 طرز کے ڈرون سے ریورس انجینئر کر کے تیار کیا گیا ہے۔
اہم نکات:
- فی یونٹ لاگت تقریباً 35 ہزار ڈالر۔
- GPS کے بغیر نیویگیشن کی صلاحیت۔
- جھُنڈ (Swarm) کی صورت میں حملہ۔
- مہنگے میزائل ذخائر کے متبادل کے طور پر استعمال۔
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج کے پاس شدید فضائی مہم کے لیے روایتی پریسیژن اسلحہ صرف 7 سے 10 دن تک کافی ہو سکتا ہے۔
مثلاً:
- ٹوماہاک میزائل کی قیمت تقریباً 20 لاکھ ڈالر۔
- JDAM کٹس کی قیمت 25 سے 40 ہزار ڈالر۔
ایسے میں کم لاگت ڈرونز طویل مہم کو ممکن بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
فیصلہ کن لمحہ: سفارت یا تصادم؟
صورتحال اس وقت چند اہم عوامل پر منحصر ہے:
- کیا اگلا مذاکراتی دور افزودگی (Enrichment) اور تنصیبات پر سمجھوتہ کر پائے گا؟
- ایران امریکی فوجی تعیناتی پر کیا ردعمل دیتا ہے؟
- کیا محدود اور ہدفی حملے وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتے ہیں؟
- عالمی منڈیوں پر ممکنہ اعلان کا کیا اثر ہوگا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو ممکنہ کارروائی محدود، تیز اور ہدفی ہو سکتی ہے—مگر خطے میں کشیدگی کے پھیلنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
نتیجہ
ایران بحران ایک اہم موڑ پر ہے۔ اعلیٰ عسکری بریفنگ، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تعیناتی میں اضافہ، اور کم لاگت خودکش ڈرون حکمتِ عملی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن ہر ممکن آپشن پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب جنیوا مذاکرات ایک محدود سفارتی راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ آنے والے دن طے کریں گے کہ معاملہ سفارتی معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا محدود فوجی کارروائی کی سمت۔




