اطلاعات کے مطابق پاکستانی جنگی طیاروں نے اتوار کی علی الصبح افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن میں بگرام ایئربیس اور مشرقی صوبوں کے متعدد اضلاع شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دھماکوں کے بعد دھواں اور آگ کے شعلے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم نقصانات اور ہلاکتوں کی سرکاری تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
په ځايي وخت د یکشنبې ورځې سهار وختي، پاکستاني جيټ الوتکو پر بګرام هوايي اډه بمبار وکړ.
له محل څخه ثبت شوې ويډيوګانې ښيي، چې له بمبار وروسته لوګي او لمبې پورته کېږي.
طالبانو تر اوسه په دې اړه څه نه دي ويلي، خو سهار په کابل کې د دفع هوا د ډزو پرلپسې غږونه تاييد شول. pic.twitter.com/iE3js53ikK
— ZAWIA NEWS (@ZawiaNews) March 1, 2026
اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی سرحد پار فضائی کارروائیاں کر چکا ہے، لہٰذا یہ پہلی بار ایسا واقعہ نہیں ہے۔ تاہم باگرام جیسے اہم مقام کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ماضی میں پاکستان کی فضائی کارروائیاں
پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی اور زمینی آپریشن کیے ہیں، جن کا ہدف اسلام آباد کے مطابق پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہ، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (TTP)، رہے ہیں۔
ماضی کی کارروائیوں میں :
- خوست اور کنڑ کے علاقوں میں فضائی حملے
- سرحدی اضلاع میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا
- بعض مواقع پر محدود زمینی کارروائیاں
اسلام آباد کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
کن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا؟
مقامی ذرائع کے مطابق تازہ حملوں میں درج ذیل علاقے متاثر ہوئے:
- برمل، گومل، مرغہ، سروبی اور ارگون (صوبہ پکتیکا)
- غنی خیل اور 29ویں ویلی کا علاقہ (صوبہ ننگرہار)
ننگرہار کے غنی خیل ضلع میں ایک رہائشی مکان پر حملے کی اطلاعات ہیں جس کے نتیجے میں ایک طالب علم کے جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
کابل اور دیگر صوبوں میں فضائی گشت
کابل، ننگرہار اور کاپیسا سمیت مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے فضائی سرگرمی اور فائرنگ کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔ بعض مقامی طالبان حکام کا کہنا ہے کہ افغان فورسز نے افغان فضائی حدود میں داخل ہونے والے طیاروں پر فائرنگ کی۔
تاحال نہ تو طالبان کی مرکزی قیادت کی جانب سے باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی پاکستان کی حکومت نے ان حملوں کی سرکاری تصدیق کی ہے۔
بگرام ایئربیس کی علامتی اہمیت
بگرام ایئربیس ماضی میں افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کا سب سے بڑا فوجی اڈہ تھا۔ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد یہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ اگر اس مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے تو یہ صرف عسکری نہیں بلکہ علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔
علاقائی اثرات اور ممکنہ نتائج
اگر ان حملوں کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:
- پاک افغان تعلقات میں مزید کشیدگی
- سرحدی علاقوں میں عسکری تصادم میں اضافہ
- ممکنہ جوابی کارروائیوں کا خطرہ
- علاقائی سفارتی کوششوں پر اثرات
سرحدی صورتحال پہلے ہی نازک ہے، اور حالیہ فضائی کارروائیاں اس کشیدگی کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔
نتیجہ
فی الحال صورتحال غیر واضح ہے:
- ہلاکتوں اور نقصانات کی تصدیق نہیں ہوئی
- پاکستان اور طالبان کی جانب سے سرکاری بیانات کا انتظار ہے
- زمینی حقائق اور اطلاعاتی جنگ میں فرق کرنا ضروری ہے
آنے والے دنوں میں سرکاری بیانات اور آزاد ذرائع سے تصدیق اس واقعے کی حقیقی نوعیت کو واضح کرے گی۔



