سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے خلیجی خطے میں واقع متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی فوج کے اہم سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور رابطہ نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز سے اب تک کم از کم 11 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملوں کا بنیادی ہدف سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز، ریڈومز اور ان سے منسلک عمارتیں تھیں جو امریکی افواج کو خطے میں کمانڈ اور کنٹرول برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ ان کا مقصد میدان جنگ کے بجائے فوجی رابطہ اور مواصلاتی نظام کو متاثر کرنا نظر آتا ہے۔
Satellite imagery shows two AN/GSC-52B SATCOM terminals at the US Navy’s 5th Fleet HQ in Bahrain were destroyed. These play a key role in facilitating high-capacity and near real-time communication for the U.S. military. pic.twitter.com/O5fYxWKvEb
— Devon Lum (@devonjlum) March 4, 2026
بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کو نقصان
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر میں نصب دو AN/GSC-52B سیٹلائٹ کمیونیکیشن (SATCOM) ٹرمینلز تباہ ہو گئے۔
یہ نظام امریکی فوج کے عالمی مواصلاتی نیٹ ورک کا حصہ ہوتے ہیں اور ہائی کیپیسٹی اور تقریباً حقیقی وقت میں ڈیٹا اور رابطہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تباہی سے خطے میں امریکی فوجی رابطوں پر عارضی اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی ففتھ فلیٹ خلیج فارس، بحرِ عرب اور اردگرد کے سمندری علاقوں میں امریکی بحری کارروائیوں کا مرکزی کمانڈ ہے۔
قطر کے الودید ایئر بیس پر حملہ
قطر میں واقع الودید ایئر بیس پر بھی حملے کے آثار سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آئے ہیں۔
ایک خیمہ نما ڈھانچہ جو سیٹلائٹ ڈشز سے گھرا ہوا تھا مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ اس کے اردگرد موجود کچھ سیٹلائٹ ڈشز کو بھی نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
الودید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا علاقائی ہیڈکوارٹر ہے اور یہاں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اس اہم فوجی مرکز کو گزشتہ سال بھی ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کویت میں امریکی فوجی تنصیبات متاثر
کویت میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
کیمپ عریفجان (Camp Arifjan) میں کم از کم تین ریڈومز کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔ ریڈوم وہ حفاظتی ڈھانچے ہوتے ہیں جو حساس اینٹینا اور مواصلاتی آلات کو موسمی اثرات سے بچاتے ہیں۔
اسی طرح علی السالم ایئر بیس پر کم از کم آٹھ عمارتوں یا ڈھانچوں کو نقصان پہنچا جو سیٹلائٹ کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کے قریب واقع تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملوں کا ہدف فوجی رابطہ نظام تھا۔
سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے اعلان کیا تھا کہ ہفتے کے روز پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔
منگل کو سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ریڈوم کے قریب واقع باڑ سے گھری عمارت بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے۔
یہ ایئر بیس خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ممکنہ نقصان
متحدہ عرب امارات میں الرویس (Al Ruwais) کے قریب ایک فوجی تنصیب پر بھی نقصان کے آثار سامنے آئے ہیں۔
یہاں گزشتہ سال سے ایک AN/TPY-2 ریڈار سسٹم تعینات تھا جو میزائل دفاعی نظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اتوار کی سیٹلائٹ تصاویر میں ریڈار کے قریب واقع ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ریڈار خود متاثر ہوا یا نہیں۔
الظفرہ ایئر بیس پر بھی حملہ
متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ ایئر بیس (Al Dhafra Air Base) پر بھی ایک کمپاؤنڈ کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
گزشتہ سال جون کے وسط تک اس مقام پر سیٹلائٹ ڈشز نظر آتی تھیں۔ یہ واضح نہیں کہ حملے کے وقت وہ موجود تھیں یا نہیں، تاہم ایران نے پیر کے روز اسی علاقے کو دوبارہ نشانہ بنایا۔
حملوں کا مرکزی ہدف فوجی مواصلاتی نظام
ان حملوں کے مجموعی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے براہ راست فوجی اڈوں کے بجائے مواصلاتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی۔
فوجی ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز اور ریڈومز امریکی فوج کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہی نظام خطے میں موجود مختلف اڈوں اور کمانڈ سینٹرز کے درمیان رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔
اگر یہ نظام متاثر ہوں تو امریکی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور آپریشنل رابطے میں عارضی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ واقعات اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید جنگ میں سیٹلائٹ انٹیلی جنس اور درست نشانہ بندی کس قدر اہم ہو چکی ہے، جہاں دشمن کے مواصلاتی نیٹ ورک کو کمزور کرنا ایک بڑی حکمت عملی سمجھا جاتا ہے۔




