ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران اپنی میزائل لانچ کرنے کی رفتار برقرار رکھ سکے گا؟
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے بڑی تعداد میں میزائل فائر کیے تھے، لیکن بعد میں ان حملوں کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کے میزائل یا لانچر ختم ہو رہے ہیں بلکہ اس کی بڑی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل ڈرون اور سیٹلائٹ نگرانی ہے۔
ایران کے میزائل شہر اور نگرانی نیٹ ورک

اوپر دیا گیا گرافک جنگ کے اہم توازن کو دکھاتا ہے:
ایران
زیرزمین میزائل شہر
موبائل لانچرز
2000 کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل
امریکہ اور اسرائیل
سیٹلائٹ اور ڈرون نگرانی
میزائل لانچ کا فوری پتہ لگانا
چند منٹوں میں فضائی حملے
ایران کے زیرزمین میزائل شہر
ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں پہاڑوں اور زمین کے اندر بڑے میزائل اڈے تعمیر کیے ہیں جنہیں عام طور پر "میزائل سٹیز” کہا جاتا ہے۔
یہ اڈے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ:
میزائل اور لانچر فضائی حملوں سے محفوظ رہیں
حملے کے بعد جلدی دوبارہ لانچ ممکن ہو
اوپن سورس معلومات کے مطابق ایران کے پاس:
تقریباً 25 زیرزمین میزائل شہر
کم از کم 65 بنکر اور سرنگیں
سینکڑوں موبائل میزائل لانچر
تقریباً 120 میزائل سائلوز
مگر اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایرانی میزائلوں کی اقسام
ان میزائل اڈوں میں ایران کے کئی بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جیسے:
شہاب-3
سجیل
خرمشہر
ان میں سے کچھ میزائل تقریباً 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکی فوجی اڈے ان کی پہنچ میں آ جاتے ہیں۔
میزائل لانچ کی رفتار کیوں کم ہوئی؟
ایران کے میزائل حملوں کی رفتار کم ہونے کی ایک بڑی وجہ سخت نگرانی کا ماحول ہے۔
جب بھی میزائل لانچ ہوتا ہے تو:
دھواں نکلتا ہے
شدید حرارت پیدا ہوتی ہے
زمین میں کمپن پیدا ہوتی ہے
یہ تمام نشانات ڈرون اور سیٹلائٹ سینسر فوراً پکڑ لیتے ہیں۔
اس کے بعد:
لانچ سائٹ کے درست کوآرڈینیٹ حاصل کر لیے جاتے ہیں
چند منٹ میں فضائی حملہ کیا جا سکتا ہے
امریکی اور اسرائیلی نگرانی کا نظام
امریکہ اور اسرائیل ایک جدید نگرانی نظام استعمال کر رہے ہیں جس میں شامل ہیں:
ہائی الٹیٹیوڈ جاسوس ڈرون
لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹس
انٹیلی جنس اور نگرانی طیارے
الیکٹرانک انٹیلی جنس سسٹمز
یہ نظام تقریباً مسلسل ایرانی سرزمین کی نگرانی کر سکتا ہے۔
اسی وجہ سے ایران کو ہر حملے کے بعد:
ملبہ صاف کرنا پڑتا ہے
سرنگوں کے دروازے دوبارہ کھولنے پڑتے ہیں
موبائل لانچرز منتقل کرنے پڑتے ہیں
انفراسٹرکچر کی مرمت کرنا پڑتی ہے
جس سے میزائل لانچ کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
تہران پر مکمل فضائی برتری نہیں
اگرچہ ایران پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں، لیکن اب تک تہران کے اوپر مکمل فضائی برتری قائم نہیں ہوئی۔
زیادہ تر اسرائیلی اور امریکی حملے:
عراق کی فضائی حدود سے
ایران کے مغربی سرحدی علاقوں سے
کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے پاس اب بھی کچھ لڑاکا طیارے موجود ہیں جیسے:
MiG-29
Yak-130
یہ جدید مغربی طیاروں کے مقابلے میں کمزور ہیں، مگر پھر بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
ایرانی بحریہ کی صورتحال
ایران کی بحریہ کو کچھ نقصان ضرور ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق:
تقریباً 8 بحری جہاز تباہ ہوئے
ان میں سے صرف 2 جدید جہاز تھے
لیکن ایران کے پاس اب بھی:
کم از کم 30 جنگی جہاز
سینکڑوں میزائل بردار تیز رفتار کشتیاں
تقریباً 25 سے 30 آبدوزیں
موجود ہیں۔
یہ قوت خلیج اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جنگ طویل کیوں ہو سکتی ہے؟
کچھ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل لانچر جلد ختم ہو سکتے ہیں، مگر موجودہ شواہد اس کی تائید نہیں کرتے۔
ایران نے اپنی میزائل صلاحیت تقریباً 25 سے 30 سال میں تیار کی ہے۔
اس لیے اسے مکمل طور پر تباہ کرنے میں ہفتوں یا مہینوں لگ سکتے ہیں۔
زیادہ امکان یہ ہے کہ ایران اپنے اہم ہتھیار چھپا کر رکھ رہا ہے تاکہ نگرانی کے ماحول میں انہیں ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
جنگ کی معاشی قیمت
اس جنگ کی مالی لاگت بھی بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر:
ایک پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً 3 سے 5 ملین ڈالر ہوتی ہے
جبکہ کئی ایرانی ڈرون چند ہزار ڈالر میں بن جاتے ہیں
یہ قیمت کا فرق دفاع کرنے والے ملک کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
طویل جنگ کا امکان
جنگ کے موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ یہ تنازع جلد ختم ہونے والا نہیں۔
اگرچہ ایران کو فوجی نقصان ہو رہا ہے، لیکن بڑے مقاصد جیسے:
ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ
حکومت کی تبدیلی
ابھی تک حاصل نہیں ہوئے۔
ایران کی حکمت عملی اکثر یہ رہی ہے کہ جنگ کو طویل اور مہنگا بنا دیا جائے تاکہ مخالف طاقتیں آخرکار دباؤ میں آ جائیں۔




