خلیج کے خطے میں جاری جنگ کے دوران نئی رپورٹس کے مطابق امریکی میزائل دفاعی نظام کے کئی اہم ریڈار تباہ ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق THAAD میزائل دفاعی نظام کے دو AN/TPY-2 ریڈار تباہ ہوئے ہیں:
ایک متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے قریب
دوسرا اردن کے مووفق سلتی ایئر بیس پر
اس کے علاوہ پہلے ہی قطر کے العدید ایئر بیس پر AN/FPS-132 ابتدائی وارننگ ریڈار کے تباہ ہونے کی اطلاع سامنے آ چکی ہے۔
ان تمام نقصانات کی مجموعی مالیت 3.4 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

خلیج میں امریکی ریڈار نیٹ ورک کو شدید دھچکا
یہ ریڈار سسٹم امریکہ کے عالمی میزائل دفاعی نظام کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
اہم تباہ ہونے والے سسٹمز میں شامل ہیں:
AN/TPY-2 ریڈار
THAAD میزائل دفاعی نظام کا بنیادی سینسر
ہزاروں کلومیٹر دور سے بیلسٹک میزائل کا پتہ لگانے کی صلاحیت
میزائل انٹرسیپٹر کو ہدف کی معلومات فراہم کرتا ہے
AN/FPS-132 ریڈار
طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا اسٹریٹجک ابتدائی وارننگ ریڈار
میزائل لانچ کا بروقت پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے
امریکی اور اتحادی دفاعی نظام کو الرٹ فراہم کرتا ہے
ان ریڈارز کے تباہ ہونے سے خطے میں میزائل نگرانی کی صلاحیت میں بڑا خلا پیدا ہو سکتا ہے۔
ہزاروں کلومیٹر تک نگرانی ختم
ان ریڈارز کی نگرانی کی حد بہت وسیع ہوتی ہے۔
عام طور پر ان کی نگرانی کی حد:
تقریباً 3000 کلومیٹر
بعض صورتوں میں 5000 کلومیٹر تک
سمجھی جاتی ہے۔
خاص طور پر AN/FPS-132 ریڈار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ:
مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقے
روس کے بعض حصوں
مغربی چین کے کچھ علاقوں
تک نگرانی کر سکتا تھا۔
اس ریڈار کے ختم ہونے سے ایک بڑی نگرانی کی صلاحیت براہ راست ختم ہو گئی ہے۔
سستا ڈرون، اربوں ڈالر کے نظام کے خلاف
اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر حملے بیلسٹک میزائل سے نہیں بلکہ ایرانی شاہد ڈرون سے کیے گئے۔
شاہد ڈرون:
قیمت: تقریباً چند ہزار سے چند عشرہ ہزار ڈالر
استعمال: خودکش یا لوئٹرنگ حملہ
پرواز: کم بلندی پر
اس کے مقابلے میں:
THAAD ریڈار سسٹم کی قیمت سینکڑوں ملین سے ایک ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
اس طرح ایک انتہائی سستا ہتھیار اربوں ڈالر کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوا۔
میزائل دفاعی نظام کو “اندھا” کرنے کی حکمت عملی
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ حملے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
براہ راست میزائل دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے بجائے پہلے ریڈار سسٹم تباہ کیے گئے۔
اگر ریڈار ہی نہ ہوں تو:
آنے والے میزائل کا بروقت پتہ نہیں چلتا
میزائل کی رفتار اور سمت معلوم نہیں ہوتی
انٹرسیپٹر میزائل کو درست ہدف نہیں ملتا
یعنی دفاعی نظام اندھا ہو جاتا ہے۔
جدید جنگ میں ڈرون کی اہمیت
یہ واقعات ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ ڈرون ٹیکنالوجی جدید جنگ کا اہم ہتھیار بن چکی ہے۔
ماضی میں جن ڈرونز کو معمولی ہتھیار سمجھا جاتا تھا، وہ اب:
اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں
اربوں ڈالر کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں
جنگ کے توازن کو تبدیل کر رہے ہیں
خلیج میں سکیورٹی کے لیے بڑے اثرات
اگر واقعی یہ ریڈار نیٹ ورک تباہ ہوا ہے تو اس کے بڑے اثرات ہو سکتے ہیں:
امریکی اور اتحادی میزائل دفاعی نظام کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے
آنے والے میزائل حملوں کا پتہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے
خلیج میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے
جنگ کا اگلا مرحلہ
ریڈار سسٹمز کے نقصان کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اگلا مرحلہ کیا ہو گا۔
اگر نگرانی کمزور ہو جاتی ہے تو مستقبل میں:
میزائل حملوں کو روکنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے
دفاعی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا پڑ سکتا ہے
جدید فضائی دفاع میں سب سے اہم چیز دشمن کو دیکھنا اور بروقت شناخت کرنا ہوتی ہے۔
اگر یہی صلاحیت کمزور ہو جائے تو پورا دفاعی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔




