جمعرات, 5 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena پر امریکی حملہ: کیا بھارت کے سمندری اثر و رسوخ کو چیلنج کیا گیا؟

بحر ہند میں پیش آنے والا ایک حالیہ واقعہ خطے کی جیوپولیٹکس میں نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کو سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا، جس نے حال ہی میں بھارت کی میزبانی میں ہونے والی MILAN-2026 بحری مشق میں حصہ لیا تھا۔

یہ واقعہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ بھارت کے لیے ایک سفارتی اور اسٹریٹجک چیلنج بھی بن سکتا ہے۔

MILAN-2026 بحری مشق اور ایران کی شرکت

MILAN-2026 بھارتی بحریہ کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایک بڑی کثیر القومی بحری مشق ہے۔

اس مشق میں:

  • 18 سے زائد ممالک کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا

  • مقصد بحر ہند اور انڈو پیسیفک خطے میں بحری تعاون کو فروغ دینا تھا

  • بھارت نے خود کو علاقائی سکیورٹی کے مرکزی شراکت دار کے طور پر پیش کیا

ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena بھی اس مشق میں ایک مہمان کے طور پر شریک تھا۔

بھارتی سمندری حدود کے قریب واقعہ

Map: Location of IRIS Dena sinking near Sri Lanka and India’s maritime boundary

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ سری لنکا کے قریب، بھارت کی سمندری حدود کے جنوب میں پیش آیا۔

یہ علاقہ بھارت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ:

  • یہاں سے عالمی تجارتی جہاز رانی کی بڑی گزرگاہیں گزرتی ہیں

  • یہ خطہ خلیج، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کو جوڑتا ہے

اسی لیے بھارت ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے کہ بحر ہند کو بڑے عالمی تنازعات سے دور رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  امریکی فضائیہ نے ERAM کروز میزائل کا لائیو وارہیڈ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کر لیا

بحری سفارت کاری کے اصول

بین الاقوامی بحری سفارت کاری میں ایک غیر تحریری اصول یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے جنگی جہاز کو مشق یا بندرگاہی دورے کے لیے مدعو کرتا ہے تو وہ جہاز ایک طرح سے میزبان کا مہمان سمجھا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں کسی ایسے جہاز پر حملہ جو ابھی حال ہی میں کسی ملک کی میزبانی میں مشق میں شریک رہا ہو، بعض ماہرین کے نزدیک سفارتی لحاظ سے حساس معاملہ بن سکتا ہے۔

بھارت کی MAHASAGAR حکمت عملی

بھارت نے حالیہ برسوں میں MAHASAGAR (Mutual and Holistic Advancement for Security and Growth Across Regions) کے نام سے ایک بحری حکمت عملی پیش کی ہے۔

اس حکمت عملی کا مقصد ہے:

  • بھارت کو بحر ہند میں سکیورٹی فراہم کرنے والا اہم شراکت دار بنانا

  • علاقائی ممالک کے ساتھ بحری تعاون کو بڑھانا

  • سمندری استحکام کو برقرار رکھنا

تاہم اس واقعے کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا بھارت واقعی اپنے سمندری علاقے میں سکیورٹی ماحول کو کنٹرول کر سکتا ہے یا نہیں۔

بحر ہند میں بڑی طاقتوں کی کشمکش

Infographic: MILAN-2026 naval exercise participants and Indian Ocean security network

بحر ہند پہلے ہی عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم جغرافیائی خطہ بن چکا ہے۔

یہ خطہ اہم ہے کیونکہ:

  • دنیا کی بڑی توانائی سپلائی لائنز یہاں سے گزرتی ہیں

  • ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان اہم تجارتی راستے یہیں ہیں

اگر ایران اور امریکہ کے درمیان بحری تصادم اس خطے تک پھیلتا ہے تو بحر ہند بڑی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  تھائی لینڈ پاک فوج کو بکتر بند گاڑیاں سپلائی کرے گا

نرم طاقت اور سخت طاقت کا ٹکراؤ

بھارت نے گزشتہ دہائی میں اپنی بحری حکمت عملی زیادہ تر سفارت کاری اور علاقائی تعاون کے ذریعے مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔

اس میں شامل ہیں:

  • کثیر القومی بحری مشقیں

  • علاقائی سکیورٹی تعاون

  • انڈو پیسیفک میں شراکت داری

لیکن ایک بڑے طاقتور ملک کی فوجی کارروائی نے یہ دکھایا کہ سخت فوجی طاقت بعض اوقات سفارتی اثر و رسوخ کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔

مستقبل کے لیے اہم سوالات

یہ واقعہ بحر ہند کی سکیورٹی کے حوالے سے کئی اہم سوالات پیدا کرتا ہے:

  • کیا بھارت واقعی اپنے سمندری خطے میں مرکزی سکیورٹی کردار ادا کر سکتا ہے؟

  • کیا بین الاقوامی بحری مشقیں شرکت کرنے والے ممالک کو مکمل سفارتی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں؟

  • کیا بحر ہند آئندہ برسوں میں عالمی طاقتوں کے تنازعات کا مرکز بن جائے گا؟

ان سوالات کے جواب آنے والے برسوں میں بحر ہند کی جیوپولیٹکس کو شکل دیں گے۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین