بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

CENTCOM کی تصویر نے اسرائیل کے اندر غزہ کوآرڈینیشن سینٹر میں مصر کی فوجی موجودگی کا راز کھول دیا

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے چند لمحوں کے لیے جاری کی گئی تصاویر نے ایک انتہائی حساس اسٹریٹیجک حقیقت کو بے نقاب کر دیا—یعنی اسرائیل میں قائم امریکی زیرِ قیادت غزہ سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (CMCC) میں مصری فوجی افسران کی عملی موجودگی ۔

یہ تصاویر اگرچہ بعد میں فوری طور پر ڈیلیٹ کر دی گئیں، تاہم ان کا مختصر طور پر سامنے آ جانا مصر، اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایسے تین ملکی عسکری تعاون کی تصدیق بن گیا، جسے قاہرہ طویل عرصے سے عوامی نظروں سے اوجھل رکھنے پر زور دیتا آیا ہے ۔

تصاویر کیوں ڈیلیٹ کی گئیں؟

ذرائع کے مطابق مصری حکام نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ ایسی فوٹیج ایک “برا تاثر” پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب:

  • مصر کو غزہ کے لیے فلسطینی حمایت کا بیانیہ برقرار رکھنا ہے
  • داخلی سطح پر اسرائیل کے ساتھ کھلی عسکری ہم آہنگی شدید حساسیت رکھتی ہے
  • عرب دنیا میں قاہرہ خود کو ثالث اور غیر جانبدار کردار میں پیش کرنا چاہتا ہے

مصری فوجی افسران کی اسرائیلی سرزمین پر موجودگی کی بصری تصدیق، قاہرہ کے لیے سیاسی اور عوامی سطح پر نقصان دہ ہو سکتی تھی ۔

CMCC کیا ہے اور اس کا کردار کیا ہے؟

سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (CMCC) اسرائیل کے شہر کیریات گیٹ میں قائم ایک سہ منزلہ مرکز ہے، جو:

  • غزہ جنگ بندی کی نگرانی
  • انسانی امداد کی ترسیل (روزانہ 800 سے زائد امدادی ٹرک)
  • جنگ کے بعد تعمیرِ نو اور سیکیورٹی پلاننگ

کے لیے اکتوبر 2025 میں قائم کیا گیا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں  اسرائیل کی نظریں جنوبی یمن پر؟ صومالی لینڈ کے بعد یو اے ای حمایت یافتہ دھڑوں کی منظوری پر قیاس آرائیاں

یہ مرکز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کثیر ملکی انتظامی ماڈل تشکیل دینا ہے۔

مصر کا کردار: خاموش مگر کلیدی

اگرچہ مصر سرکاری سطح پر اسرائیل میں اپنی فوجی موجودگی کو تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ:

  • مصر غزہ جنگ بندی کا مرکزی ثالث ہے
  • رفح بارڈر اور سینائی سیکیورٹی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے
  • حماس کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں اسرائیل اور امریکا کے ساتھ پسِ پردہ تعاون کرتا ہے

CMCC میں مصری افسران کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ قاہرہ غزہ کے بعد از جنگ سیکیورٹی اور گورننس اسٹرکچر میں براہِ راست شامل ہے، مگر عوامی سطح پر اس کا اعتراف سیاسی طور پر ممکن نہیں ۔

CENTCOM کا کردار اور اسٹریٹیجک توازن

CENTCOM اس پورے فریم ورک میں ایک سیاسی بفر کا کردار ادا کرتا ہے، جو:

  • مصر اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست عسکری رابطے کو امریکی چھتری فراہم کرتا ہے
  • عرب ممالک کو “نارملائزیشن” کے الزام سے بچاتا ہے
  • غزہ میں جنگ بندی اور امدادی عمل کو قابلِ عمل بناتا ہے

تاہم اس واقعے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ حد سے زیادہ شفافیت بعض اوقات مشرقِ وسطیٰ میں اسٹریٹیجک عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے ۔

داخلی و علاقائی دباؤ

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو:

  • معاشی دباؤ
  • عوامی بے چینی
  • اسلام پسند بیانیے
  • عرب دنیا میں قیادت کی دوڑ

جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں اسرائیلی سرزمین پر مصری فوجیوں کی تصاویر اپوزیشن کے لیے ایک طاقتور ہتھیار بن سکتی تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں نیا نام: نکولائے ملادینوف کیوں اہم ہیں؟

اسی لیے قاہرہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے فوٹیج ہٹانے کا مطالبہ کیا، تاکہ اسٹریٹیجک تعاون برقرار رہے مگر عوامی سطح پر نقصان نہ ہو۔

نتیجہ: وہ اتحاد جو نظر نہ آئے

CENTCOM کی جانب سے جاری اور پھر حذف کی گئی تصاویر نے یہ ثابت کر دیا کہ:

  • غزہ سے متعلق اصل فیصلے بند کمروں میں ہو رہے ہیں
  • مصر، اسرائیل اور امریکا کا تعاون عملی طور پر گہرا ہے
  • مگر مشرقِ وسطیٰ میں بعض اتحاد صرف اسی صورت میں کامیاب رہ سکتے ہیں جب وہ نظر نہ آئیں

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خطے میں طاقت کا اصل کھیل اکثر پسِ پردہ کھیلا جاتا ہے، جہاں تصویر کا ایک فریم بھی پوری سفارتی حکمتِ عملی کو ہلا کر رکھ سکتا ہے ۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین