جمعہ, 13 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران کشیدگی: امریکا نے جدید EA-37B الیکٹرانک وارفیئر طیارہ یورپ منتقل کر دیا

امریکی فضائیہ کی جانب سے جدید EA-37B کمپاس کال II الیکٹرانک وارفیئر طیارے کی جرمنی کے رامسٹائن ایئر بیس پر تعیناتی کو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹیجک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

25 جنوری 2026 کو فضائی نگرانی کرنے والے اداروں نے اس طیارے (سیریل نمبر 17-5579، کال سائن FAZE41) کی بحرِ اوقیانوس عبور کر کے یورپ آمد کی تصدیق کی، جو پہلی بار اس جدید الیکٹرانک حملہ آور پلیٹ فارم کی عوامی سطح پر یورپی خطے میں موجودگی ہے۔

ایران کے تناظر میں یہ تعیناتی کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب:

  • مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں
  • بحیرہ احمر، عراق، شام اور لبنان میں امریکی مفادات کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے
  • امریکا براہِ راست جنگ کے بجائے غیر روایتی اور نان کائنیٹک آپشنز کو ترجیح دے رہا ہے

دفاعی ماہرین کے مطابق EA-37B کی تعیناتی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا ایرانی کمانڈ، کنٹرول اور کمیونیکیشن نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت عملی طور پر تیار رکھنا چاہتا ہے، بغیر فوری عسکری حملے کے۔

رامسٹائن ایئر بیس: ایران کے لیے اسٹریٹیجک پیغام

رامسٹائن ایئر بیس امریکی فضائیہ کا یورپ میں سب سے اہم آپریشنل مرکز ہے، جو:

  • نیٹو اور یو ایس سینٹکام (CENTCOM) کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے
  • مشرقِ وسطیٰ تک تیز رفتار رسائی فراہم کرتا ہے
  • حساس علاقوں میں براہِ راست تعیناتی کے سیاسی خطرات سے بچاتا ہے
یہ بھی پڑھیں  امریکہ کی اسرائیل اور سعودی عرب کو 15.67 ارب ڈالر کے اسلحہ سودوں کی منظوری، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ

رامسٹائن سے EA-37B چند گھنٹوں میں خلیج فارس، لیونٹ، بحیرہ احمر اور ایران کے گردونواح تک پہنچ سکتا ہے، جس سے امریکی کمانڈ کو فوری اور لچکدار آپشنز حاصل ہو جاتے ہیں۔

EA-37B کمپاس کال کیا ہے اور کیا کرتا ہے؟

EA-37B کمپاس کال II ایک اعلیٰ درجے کا الیکٹرانک اٹیک طیارہ ہے، جو:

  • دشمن کے ریڈیو، ریڈار اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کو جام کرتا ہے
  • کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو مفلوج کرتا ہے
  • ڈرونز، میزائل بیٹریز اور ایئر ڈیفنس نیٹ ورکس کے درمیان رابطہ توڑ دیتا ہے

یہ طیارہ براہِ راست بمباری کے بغیر دشمن کی جنگی صلاحیت کو اندھا اور گونگا بنا سکتا ہے، جو ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف خاص طور پر مؤثر تصور کیا جاتا ہے۔

ایران کے خلاف نان کائنیٹک حکمتِ عملی

ایران کے خلاف کھلی جنگ کے بجائے امریکا کی پالیسی بتدریج:

  • الیکٹرانک وارفیئر
  • سائبر آپریشنز
  • کمیونیکیشن ڈسٹرپشن

کی جانب بڑھ رہی ہے۔ EA-37B اسی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے، جو:

  • کشیدگی میں فوری اضافہ کیے بغیر اثرانداز ہوتا ہے
  • ایران کے پراکسی نیٹ ورکس کو مربوط کارروائی سے روکتا ہے
  • دشمن کے فیصلے لینے کی رفتار کو سست کر دیتا ہے

EC-130H سے EA-37B تک کا سفر

EA-37B، پرانے EC-130H کمپاس کال کی جگہ لے رہا ہے، جو:

  • سست رفتار
  • کم بلندی پر پرواز
  • جدید ایئر ڈیفنس کے لیے زیادہ خطرناک

ثابت ہو رہا تھا۔ نیا پلیٹ فارم:

  • زیادہ رفتار
  • زیادہ بلندی
  • بہتر بقا کی صلاحیت
  • جدید سافٹ ویئر بیسڈ سسٹمز

کے ساتھ ایران جیسے جدید اور پیچیدہ حریف کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران فوج کو 1,000 نئے ڈرونز کی فراہمی، آبنائے ہرمز میں لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان

ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے واضح پیغام

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق EA-37B کی یورپ میں موجودگی:

  • ایران کے لیے وارننگ سگنل ہے
  • نیٹو اتحادیوں کے لیے یقین دہانی
  • اور امریکی کمانڈ کے لیے تیز رفتار ردعمل کی صلاحیت

اس تعیناتی سے ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں اس کے کمیونیکیشن اور کمانڈ سسٹمز پہلے مرحلے میں ہی مفلوج کیے جا سکتے ہیں۔

نتیجہ: خاموش مگر فیصلہ کن طاقت

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے ماحول میں EA-37B کمپاس کال II کی تعیناتی ایک واضح علامت ہے کہ مستقبل کی جنگیں:

  • نظر نہ آنے والی ہوں گی
  • سگنلز، ڈیٹا اور فریکوئنسیز پر لڑی جائیں گی
  • اور اکثر گولیاں چلنے سے پہلے ہی فیصلہ ہو جائے گا

رامسٹائن پر موجود یہ طیارہ بظاہر خاموش ہے، مگر اس کی موجودگی پورے خطے کی اسٹریٹیجک مساوات پر گہرا اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین