بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

چین نے J-10CE لڑاکا طیارے کی پہلی جنگی کامیابی کی تصدیق کر دی

چین نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کے برآمدی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے J-10CE لڑاکا طیارے نے گزشتہ مئی میں اپنی پہلی جنگی کامیابی حاصل کی۔ چینی حکام کے مطابق اس طیارے نے فضائی جھڑپ کے دوران متعدد مخالف طیاروں کو مار گرایا جبکہ خود کسی نقصان سے محفوظ رہا۔

یہ تصدیق چین کے دفاعی صنعتی ادارے State Administration of Science, Technology and Industry for National Defense کی جانب سے کی گئی، جو چین کی عسکری ٹیکنالوجی اور اسلحہ برآمدات کی نگرانی کرتا ہے۔ اگرچہ واقعے کی جگہ، وقت اور مخالف فریق کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم چینی بیان میں اسے “حقیقی جنگی حالات میں ثابت شدہ کامیابی” قرار دیا گیا ہے۔

J-10CE: جدید صلاحیتوں کا حامل برآمدی پلیٹ فارم

J-10CE، چین کے J-10C لڑاکا طیارے کا برآمدی ورژن ہے، جسے فورتھ پلس جنریشن (4.5th Generation) جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ AESA ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور بیونڈ ویژول رینج فضائی میزائلوں سے لیس ہے، جو اسے جدید فضائی جنگ کے تقاضوں کے مطابق بناتے ہیں۔

چین طویل عرصے سے J-10CE کو مغربی ساختہ لڑاکا طیاروں کے نسبتاً کم لاگت متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس میں جدید سینسرز، نیٹ ورکڈ وارفیئر صلاحیت اور نسبتاً کم آپریشنل اخراجات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ہندوستان کا Su-57 کا ممکنہ حصول اور پاکستان کی J-35 ڈیل: جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل بساط

حقیقی جنگی تجربہ اور عالمی مارکیٹ میں اثر

دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی لڑاکا طیارے کے لیے حقیقی جنگی کامیابی اس کی برآمدی قدر میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ ٹیسٹ فلائٹس اور مشقوں کے برعکس، عملی فضائی جھڑپ میں کامیابی کو عالمی اسلحہ مارکیٹ میں سب سے مستند معیار سمجھا جاتا ہے۔

چینی دعوے کے مطابق “بغیر نقصان” کے حاصل کی گئی کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ J-10CE نہ صرف ایک جدید پلیٹ فارم ہے بلکہ سینسرز، پائلٹ تربیت، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور میزائل سسٹمز کے مؤثر امتزاج کے ساتھ استعمال کیا گیا۔

برآمدی سیاست اور اسٹریٹجک پیغام

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر لڑاکا طیاروں کی مارکیٹ میں سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں مغربی طیارے جیسے F-16 اور رافیل اپنی جنگی تاریخ کو بطور فروختی دلیل استعمال کرتے رہے ہیں۔ چین اب J-10CE کو بھی “جنگ میں آزمودہ” پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔

یہ پیش رفت ان ممالک کے لیے خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے جو اپنی فضائیہ کو جدید بنانا چاہتے ہیں مگر امریکی یا یورپی اسلحہ برآمدی پابندیوں اور سیاسی شرائط سے بچنا چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے کچھ ممالک چین کی اس پیشکش میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

تفصیلات کی کمی، مگر پیغام واضح

اگرچہ چینی حکام نے آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس اعلان کا بنیادی مقصد دفاعی سفارت کاری اور عالمی منڈی میں اعتماد سازی ہے۔ چین پہلی بار کسی برآمدی لڑاکا طیارے کے بارے میں کھل کر جنگی کامیابی کا دعویٰ کر رہا ہے، جو اس کی دفاعی صنعت کے اعتماد میں اضافے کی علامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  الجزائر کو روسی Su-57E ففتھ جنریشن اسٹیلتھ لڑاکا طیارے موصول ہونے کا امکان
انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین