چین نے پیر کے روز تائیوان کے گرد اب تک کی سب سے وسیع اور جارحانہ جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا، جن کا مقصد بظاہر کسی ممکنہ تنازع کی صورت میں جزیرے کو بیرونی مدد سے کاٹ دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ بیجنگ کی اس کارروائی نے تائی پے کی دفاعی تیاریوں اور امریکی ساختہ ہتھیاروں پر انحصار کو بھی براہِ راست آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
چین کے Eastern Theatre Command کے مطابق جسٹس مشن 2025 کے نام سے ہونے والی ان مشقوں میں زمینی افواج، جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے، میزائل اور توپ خانہ شامل ہیں۔ مشقوں کے دوران تائیوان کا گھیراؤ، زمین و سمندر میں اہداف پر فرضی اور حقیقی فائرنگ، اور تائیوان کی بڑی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی مشقیں کی جا رہی ہیں۔
چینی میری ٹائم سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق منگل تک سات مختلف زونز میں لائیو فائرنگ جاری رہے گی—یہ زونز نہ صرف تعداد میں ریکارڈ ہیں بلکہ پچھلی مشقوں کے مقابلے میں تائیوان کے زیادہ قریب بھی ہیں۔ ابتدا میں فائرنگ کے لیے پانچ زونز کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں دائرہ مزید بڑھا دیا گیا۔
پروازیں منسوخ، بحری راستے متاثر
تائیوان کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ پیر کی صبح ایک اضافی زون میں دو گھنٹے کی مشق بغیر پیشگی چینی اعلان کے مشرقی پانیوں میں کی گئی، جس سے الرٹ لیول مزید بڑھ گیا۔ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق منگل کی مشقوں کے باعث ایک لاکھ سے زائد بین الاقوامی مسافر متاثر ہوں گے جبکہ تقریباً 80 اندرونِ ملک پروازیں منسوخ کی جا رہی ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق مشقوں کا فوکس تائیوان کی شمالی گہری پانیوں والی بندرگاہ Port of Keelung اور جنوبی بڑے بندرگاہی شہر Kaohsiung کو سیل کرنا ہے—جسے مبصرین ممکنہ بحری محاصرے کی عملی ریہرسل قرار دے رہے ہیں۔
واشنگٹن اور اتحادیوں کے لیے پیغام
یہ 2022 کے بعد تائیوان کے گرد چین کی چھٹی بڑی فوجی مشق ہے اور ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب امریکا نے تائیوان کے لیے 11.1 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکج کی منظوری دی—جو اب تک کا سب سے بڑا پیکیج ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ٹائمنگ سے امریکا، جاپان اور دیگر اتحادیوں کو “بیرونی مداخلت” کے خلاف واضح پیغام دیا جا رہا ہے۔
تائیوان الرٹ پر، فوری ردِعمل کی مشقیں
تائیوانی وزارتِ دفاع کے مطابق پیر کو 89 چینی فوجی طیارے، 14 جنگی بحری جہاز اور 14 کوسٹ گارڈ کشتیاں جزیرے کے گرد سرگرم رہیں، جبکہ مغربی بحرالکاہل میں مزید چینی جنگی جہاز بھی دیکھے گئے۔ کچھ مقامات پر تائیوانی اور چینی جہازوں کے درمیان 24 ناٹیکل میل کے اندر آمنے سامنے کی صورتحال پیدا ہوئی۔
تائیوان نے ہائی الرٹ کا اعلان کرتے ہوئے “ریپڈ ریسپانس” مشقیں شروع کر دیں تاکہ کسی بھی اچانک بگڑتی صورتحال میں فورسز کو تیزی سے متحرک کیا جا سکے۔ تائی پے نے اپنی جوابی ویڈیوز میں امریکی ساختہ HIMARS سمیت دفاعی صلاحیتیں بھی دکھائیں۔
جدید جنگی ٹیکنالوجی اور نفسیاتی دباؤ
چین نے ان مشقوں کے دوران ایسے ویڈیوز بھی جاری کیے جن میں ہیومنائیڈ روبوٹس، مائیکرو ڈرونز اور ہتھیار بند روبوٹک کتوں کو اہداف پر حملہ کرتے دکھایا گیا—ایسی ٹیکنالوجی جو پہلے شاذ ہی منظرِ عام پر آئی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نفسیاتی دباؤ بڑھانے اور “ٹریننگ” اور “حقیقی آپریشن” کے درمیان حد دھندلا کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اس تمام دباؤ کے باوجود تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ پرسکون رہی اور انڈیکس 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ تائی پے کے ایک شہری کے مطابق، “یہ ہمیں ڈرانے کی کوشش ہے—ایسی مشقیں پہلے بھی ہو چکی ہیں۔”
خلاصہ
بیجنگ تائیوان پر اپنی خودمختاری کے دعوے پر قائم ہے جبکہ تائی پے اصرار کرتا ہے کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے عوام کریں گے۔ جسٹس مشن 2025 نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ آبنائے تائیوان عالمی سلامتی کا سب سے خطرناک فلیش پوائنٹ بنتی جا رہی ہے—جہاں ایک غلط اندازہ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔




