بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

چین کا ٹائپ 075 ایمفیبیئس اسالٹ شپ ’ہینان‘ جنوبی بحیرۂ چین میں ہائی انٹینسٹی مشقیں، خطے میں طاقت کے توازن پر اثرات

پیپلز لبریشن آرمی نیوی کے ٹائپ 075 ایمفیبیئس اسالٹ شپ ہینان نے جنوبی بحیرۂ چین میں ہائی انٹینسٹی اور جنگی نوعیت کی مشقیں انجام دیں، جو چین کی ساحلی دفاعی حکمتِ عملی سے آگے بڑھ کر ایکسپیڈیشنری اور ملٹی ڈومین بحری جنگ کی جانب واضح پیش رفت کا اشارہ ہیں۔

یہ مشقیں ایسے وقت میں ہوئیں جب انڈو پیسیفک خطے میں اسٹریٹجک کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سی۔ایئر کوآرڈینیشن اور میزائل دفاع پر توجہ

چینی فوجی رپورٹس کے مطابق یہ مشقیں “ہائی انٹینسٹی اور کامبیٹ اورینٹڈ” تھیں، جن میں فرضی مگر حقیقی جنگی حالات کے قریب منظرناموں کی مشق کی گئی۔ اہم نکات میں شامل تھے:

  • سمندر اور فضا کے درمیان مربوط کارروائیاں
  • فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی جانچ
  • دور سمندر میں ایمفیبیئس ٹاسک فورس کی بقا

یہ تمام عناصر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین مستقبل میں شدید مزاحمت اور جدید ہتھیاروں کے ماحول میں ایمفیبیئس آپریشنز کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

جدید بحری طاقت سے فرنٹ لائن آپریشنل اثاثہ

اپریل 2021 میں کمیشن ہونے والا ’ہینان‘ تیزی سے ایک نمائشی پلیٹ فارم سے فرنٹ لائن آپریشنل اثاثے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ جہاز اب باقاعدگی سے ایسی مشقوں میں شامل کیا جا رہا ہے جن میں:

  • ہیلی کاپٹر آپریشنز
  • سطحِ آب جنگی نقل و حرکت
  • الیکٹرانک وارفیئر
  • لیئرڈ ایئر ڈیفنس

شامل ہیں، جو چین کے سسٹم آف سسٹمز جنگی تصور کو ظاہر کرتے ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا کے دعویدار ممالک کے لیے پیغام

جنوب مشرقی ایشیا کے دعویدار ممالک جیسے فلپائن، ویتنام اور ملائیشیا کے لیے ’ہینان‘ کی ان مشقوں میں موجودگی ایک واضح پیغام ہے کہ چین کی ایمفیبیئس فورسز اب تیزی سے تعیناتی اور مؤثر کارروائی کی حقیقی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  چین کی تائیوان کے گرد سب سے بڑی جنگی مشقیں: محاصرے کی ریہرسل، پروازیں منسوخ، خطے میں کشیدگی عروج پر

ٹائپ 075: چین کی ایمفیبیئس صلاحیت میں انقلابی اضافہ

ٹائپ 075 یوشین کلاس جہاز چین کی ایمفیبیئس جنگی صلاحیت میں ایک نمایاں اضافہ ہیں۔ اہم خصوصیات:

  • ڈسپلیسمنٹ: تقریباً 40 ہزار ٹن
  • لمبائی: تقریباً 250 میٹر
  • ہیلی کاپٹر گنجائش: 30 تک (Z-8، Z-9، Z-20)
  • فوجی استعداد: تقریباً 900 میرینز بمعہ گاڑیاں

یہ جہاز چین کی فوجی صنعتی صلاحیت اور ملٹری-سِول فیوژن حکمتِ عملی کی عملی مثال ہیں۔

دفاعی نظام اور کمانڈ کنٹرول

’ہینان‘ میں جدید دفاعی نظام نصب ہیں، جن میں HHQ-10 شارٹ رینج میزائل اور H/PJ-11 قریبی دفاعی ہتھیار شامل ہیں۔ جدید ریڈار اور سینسرز کے ساتھ یہ جہاز کمانڈ اینڈ کنٹرول ہب کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے، جو دیگر جہازوں، فضائی اثاثوں اور ممکنہ ڈرونز کے ساتھ فوری رابطہ ممکن بناتا ہے۔

سدرن تھیٹر کمانڈ اور تائیوان زاویہ

’ہینان‘ کو چین کی سدرن تھیٹر کمانڈ کے تحت تعینات کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین چین کی ایمفیبیئس حکمتِ عملی کا مرکزی میدان ہے۔ 2025 کے اواخر میں تائیوان کے گرد ہونے والی مشقوں میں اس کی شمولیت نے اسے تائیوان کنٹیجنسی پلاننگ کا اہم جزو بنا دیا ہے۔

2026 کی مشقوں کے اسٹریٹجک اثرات

فروری 2026 کی مشقوں میں شامل تھے:

  • ہیلی کاپٹر کے ذریعے ورٹیکل انویلپمنٹ
  • میزائل اور فضائی حملوں کے خلاف دفاع
  • الیکٹرانک وارفیئر
  • طویل دورانیے کی بحری تیاری

یہ سب چین کی اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ مستقبل کی بحری جنگ میزائل، فضا اور الیکٹرانک میدان میں بیک وقت لڑی جائے گی۔

نتیجہ: انڈو پیسیفک میں طاقت کا نیا توازن

’ہینان‘ کی آپریشنل پختگی اس بات کا اشارہ ہے کہ چین اب ایمفیبیئس اسالٹ جہازوں کو دباؤ، ڈیٹرنس اور طاقت کے اظہار کے مرکزی اوزار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بنگلہ دیش میں مظاہرین نے شیخ مجیب الرحمان کے گھر کو نذر آتش کردیا

یہ پیش رفت نہ صرف جنوبی بحیرۂ چین بلکہ پورے انڈو پیسیفک میں بحری توازنِ طاقت کو متاثر کر رہی ہے، جس پر علاقائی اور عالمی طاقتوں کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین