ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے ہمسایہ ممالک کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران میں جاری احتجاج میں مداخلت کی یا فوجی کارروائی کی تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ بات ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتائی۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ترکی سمیت کئی علاقائی ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایرانی جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتی ہیں۔ ایران نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران کے خلاف کسی بھی اقدام سے روکیں۔
امریکی اڈوں پر جزوی انخلا
علاقائی سفارت کاروں کے مطابق خطے کے بعض امریکی فوجی اڈوں پر سکیورٹی سطح بڑھا دی گئی ہے۔ قطر میں واقع العدید ایئر بیس—جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے—وہاں سے کچھ عملے کو عارضی طور پر نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام "پوسچر چینج” ہے، یعنی دفاعی تیاری میں تبدیلی، نہ کہ مکمل انخلاء۔ گزشتہ برس ایران کی جانب سے میزائل حملے سے قبل جس طرح بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، اس مرتبہ ایسی کوئی علامت سامنے نہیں آئی۔
اسرائیلی اندازہ: امریکی مداخلت کا فیصلہ ہو چکا؟
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیلی انٹیلیجنس کا اندازہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس کی نوعیت اور وقت کے بارے میں ابھی وضاحت نہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بین یامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کو بھی ایران میں ممکنہ سیاسی عدم استحکام اور امریکی کردار کے حوالے سے بریفنگ دی جا چکی ہے۔
گزشتہ برس ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس کے آخری مرحلے میں امریکہ بھی براہِ راست شامل ہوا تھا، جس سے خطے میں جنگ کے پھیلنے کا خطرہ نمایاں ہو گیا تھا۔
ایران۔امریکہ براہِ راست رابطے منقطع
ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطے معطل ہو چکے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کی علامت ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے قطر کے وزیر خارجہ سے رابطہ کیا، جبکہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
عراقچی نے اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید کو بتایا کہ ایران میں صورتحال قابو میں ہے اور ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
خطے میں موجود اہم امریکی فوجی اڈے
ایران کی دھمکیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے:
- بحرین: امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کا ہیڈکوارٹر
- قطر: العدید ایئر بیس، جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں
- کویت: کیمپ عریفجان، علی السالم ایئر بیس، کیمپ بیورنگ
- متحدہ عرب امارات: الظفرہ ایئر بیس
- سعودی عرب: پرنس سلطان ایئر بیس، جہاں پیٹریاٹ اور THAAD دفاعی نظام موجود ہیں
- عراق: عین الاسد اور اربیل ایئر بیس
- اردن: موفق السلتی ایئر بیس
- ترکی: انسرلیک ایئر بیس، جہاں امریکی جوہری ہتھیار بھی موجود ہیں
ایران ماضی میں بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنا چکا ہے، خاص طور پر 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عین الاسد ایئر بیس پر میزائل حملہ کیا گیا تھا۔
صورتحال کیوں خطرناک ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ نے براہِ راست فوجی کارروائی کی تو:
- کشیدگی ایران تک محدود نہیں رہے گی
- خلیجی ممالک براہِ راست جنگ میں گھسیٹے جا سکتے ہیں
- اسرائیل اور دیگر اتحادی بھی تصادم میں شامل ہو سکتے ہیں
ایران کا پیغام واضح ہے: اگر حملہ ہوا تو جواب پورے خطے میں دیا جائے گا۔





Definitely, what a fantastic blog and informative posts, I definitely will bookmark your site.Have an awsome day!