پچھلے چند برسوں کے دوران مشرق وسطیٰ پر امریکی گرفت کمزور اور چین کے اثر و نفوذ میں اضافہ کے باعث خلیج کی اقتصادی ، سیاسی اور دفاعی حرکیات میں غیرمعمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،خاص طور پہ سعودی عرب اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی اور پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے دفاعی معاہدہ نے خطہ کی جیو پولیٹیکل حیثیت بدل دی، جس سے مشرق وسطیٰ میں عالمی تعلقات سے لیکر علاقائی تنازعات میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔
منگل کے روز یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کے لئے سعودی فضائیہ نے فوجی ساز و سامان سے لدے اُن دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جنہیں فجیرہ کی اماراتی بندرگاہ سے جنوبی یمن کے علاقے مکلا پہنچایا جا رہا تھا ، اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ” ان ہتھیاروں کا مقصد یمن کے حضرالموت اور المہرہ میں امارات کی حمایت یافتہ شمالی عبوری کونسل کی افواج کو کمک پہنچا کر یمن کے داخلی تنازعہ کو ہوا دینا تھا ” ۔ فضائی حملے کے کچھ ہی دیر بعد یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ راشد العلیمی کے حکم پر امارات نے 24گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی افواج کا انخلا قبول کرکے سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ تصادم ٹال دیا لیکن جنوبی یمن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ شمالی عبوری کونسل کے علیحدگی پسند دھڑے کی پیشقدمی سے پیدا ہونے والا بحران ، تیل کی قیمتوں سے لیکر جیو پولیٹیکل مفادات تک ہر دائرہ عمل میں پھیلے تضادات کو عیاں کر گیا۔
تازہ کشیدگی نومبر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سوڈان کی شورش بارے واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کی غلط رپوٹنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی لیکن سعودی عرب میں سماجی، سیاسی اور اقتصادی اصلاحات بھی گلف کی چھوٹی ریاستوں کے اقتصادی مفادات کے لئے خطرہ بن رہی ہیں ، خاص طور پہ شمال مغرب میں خلیج عدن کے کنارے نئے تجارتی شہر نیوم کی تعمیر کو عرب امارات کے اقتصادی و اسٹریٹیجک مفادات کے منافی سمجھا گیا ، جس کی تصدیق یمن کے حوثی کمانڈر نے اپنے اِس انکشاف کے ساتھ کی کہ امارات والے انہیں سعودی عرب کے زیر تعمیر نیوم شہر پر حملوں کی ترغیب دیتے رہے ۔ اسی تناظر میں امارات کے حمایت یافتہ شمالی عبوری کونسل کی طرف سے جنوبی یمن کی صورت میں علیحدہ ریاست کی بحالی کی مہمات نے حوثی باغیوں کے ساتھ صدراتی کونسل کے امن مذاکرات کو دھچکا پہنچا کر سعودی عرب کو ایک ایسے تنازعہ میں الجھائے رکھنے کی چال سے تعبیرکیا گیا جس سے وہ دامن چھڑانے کے قریب پہنچ چکا تھا ۔
یمن 2015 سے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں اور مرکزی حکومت کے درمیان خانہ جنگی کا شکار چلا آ رہا ہے ، اگرچہ بظاہر امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل حوثیوں کی مخالف اور صدراتی قیادت میں قائم PLC کا حصہ ہے لیکن وہ اس انتشار کے سیایہ میں جنوبی یمن کو آزاد مملکت بنانے کا ہدف حاصل کرنے کی تگ و دو میں بھی مصروف رہی ، جس سے یمن بدستور بکھرتا گیا ، ملک کے بیشتر حصوں پر تین اہم گروپوں، پی ایل سی، ایس ٹی سی اور حوثیوں کا کنٹرول ہے ۔ یمنی علیحدگی پسند تحریک شمالی عبوری کونسل 11مئی 2017کو تشکیل دی گئی ۔ یہ عدن میں اپنے رہنما، ادریس الزبیدی کی برطرفی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد سامنے آئی، جو 26 رکنی کونسل کے سربراہ بنکر پی ایل سی میں شامل ہوئے تھے ،کونسل کا اعلانیہ مقصد جنوبی یمن پر مشتمل ایسی ریاست کی بحالی ہے، جو 1967اور 1990کے درمیان موجود تھی ۔ عرب امارات کی حمایت کے ساتھSTC نے بندرگاہی شہر عدن پہ قبضہ سمیت جنوبی یمن میں اہم علاقائی اثر و رسوخ حاصل کر لیا ۔ STC نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ اقتدار کے اشتراک کو قبول کرنے کے باوجود جنوبی یمن کی آزادی کے بنیادی مطالبہ کو ترک نہیں کیا ۔ پچھلے ہفتےSTC نے سیعون کے صدارتی محل سمیت تیل سے مالا مال حضرالموت گورنریٹ کے بڑے حصوں پر حملہ کرکے سعودی عرب کو بھڑکا کر یمن کے تنازعہ کو نیا رخ دے دیا ۔
صدارتی قیادت کونسل(PLC)کا قیام 2022 میں اس وقت عمل میں آیا جب یمن کے سابق صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اپنے اختیارات باضابطہ طور پر نئی آٹھ رکنی کونسل کو منتقل کر دیئے ، جس کا مینڈیٹ عبوری دور میں یمن کے سیاسی ، سیکورٹی اور فوجی امور کا انتظام سنبھالنا اور مستقل جنگ بندی کے لئے مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔ صدارتی کونسل کی سربراہی ہادی کے مشیر اور مرحوم صدر علی عبداللہ صالح حکومت کے سابق وزیر داخلہ راشد العلیمی کر رہے ہیں ۔ اس کونسل کا وجود شمالی اور جنوبی سیاست دانوں اور فوجی کمانڈروں پہ مشتمل ہے جس میں امارات کی حمایت یافتہ STC بھی شامل ہے ۔ پی ایل سی کے آغاز پر، العلیمی نے خانہ جنگی کو ختم کرنے، معاشی استحکام لانے، اور ملک میں انسانی بحرانوں کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح بنانے کا عہد کیا تاہم 2022 کے بعد سے PLCکے اراکین کے درمیان مفادات کے ٹکراو نے بڑی حد تک اِسے غیر موثر بنا دیا ۔
انصار اللہ، جسے عام طور پر حوثی کہا جاتا ہے، ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ ، جو دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے شمالی اور شمال مغربی حصوں میں کم از کم پانچ صوبوں پر کنٹرول رکھنے کے علاوہ سعودی عرب کی سرحد سے متصل کئی علاقوں پہ متصرف ہے۔ 1990کی دہائی میں شروع ہونے والی شورش کے دوران ، حوثیوں نے معزول رہنما علی عبداللہ صالح کے دور میں یمن کی سرکاری افواج کے ساتھ کم از کم چھ جنگیں لڑیں ۔ صالح کو 2011 میں شروع ہونے والی عرب اسپرنگ کے دوران اپنے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے نتیجے میں صدارت چھوڑنا پڑی ، جس نے حوثیوں کو زیادہ مضبوط کر دیا ، بعد میں حوثیوں نے سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کا مقابلہ کیا لیکن سنہ 2022 میں سعودی عرب اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے یہ داخلی لڑائی بڑی حد تک منجمد ہو گئی ۔ نومبر 2023 میں حوثیوں نے ابنائے عدن میں اسرائیل کو کمک پہنچانے والے فوجی و سویلین جہازوں کو نشانہ بنایا اِس مہم کا مقصد اسرائیل پر غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی بند کرنے کے لیے دبا ڈالنا تھا ، اِسی اسرائیل مخالف مہم کو جواز بنا کر امریکہ کی طرف سے حوثی اہداف پر فضائی حملوں کے بعد یمن میں حوثی مخالف دھڑا ایس ٹی سی یمن کی دوبارہ تقسیم کی خاطر امریکی حمایت کے لیے بے چین ہو گئی، عرب امارات کے ساتھ منسلک انہی گروپوں نے عالمی طاقتوں کی ایما حاصل کرنے کی خاطر حدیدہ بندرگاہ سمیت ایران نواز حوثیوں کے زیر کنٹرول تمام علاقوں میں فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا عندیہ دیا ، تجزیہ کاروں کا یہ تاثر درست ہے کہ ایس ٹی سی حدیدہ پر قبضے کے لیے امریکی حمایت کی متمنی تھی مگر حدیدہ کی ناکام مہم اُسکی اہمیت کم کر گئی ، حوثی فی الحال عسکری طور پر سرفہرست ہیں ، حوثیوں اب بھی صنعا اور شمال مغربی یمن کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں ، جبکہ حوثی مخالف مختلف گروہوں نے اہم بندرگاہی شہر عدن اور جنوبی اور مشرقی یمن کے بیشتر حصے پر قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے ۔
پی ایل سی میں وہ ارکان بھی شریک ہیں جو ماضی قریب میں یمنی حکومت کے خلاف لڑتے رہے ، ان میں علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ ایدریس الزبیدی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے طارق صالح شامل ہیں ، جو کبھی حوثیوں کے اتحادی تھے ۔ یمنی امور کے ماہر برم فیلڈ نے میڈیاکو بتایا کہ”ہم غزہ کے بحران کے آغاز سے ہی حوثی مخالف دھڑوں کو امریکی حمایت کے لیے لابنگ کرتا دیکھ رہے ہیں ” یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل ، دونوں ، مسابقتی طور پر اپنے آپ کو حوثیوں کے خلاف زمین پر امریکہ جیسے ساتھی کے ضرورت مندکے طور پر پیش کرتے رہے ، میڈیا رپوٹس کے مطابق یمن کے حوثی مخالف زمینی آپریشن کے لیے امریکہ فضائی مدد کی خاطر اب بھی بات چیت میں مصروف ہیں ۔ ڈبلیو ایس جے نے خاص طور پر ذکر کیا کہ متحدہ عرب امارات نے اس منصوبے کو امریکہ کے ساتھ اٹھایا ہے لیکن تاحال حوثی مخالف یمنی مسلح گروہوں کی جانب سے زمین پر کوئی قابل ذکر نقل و حرکت نہیں دیکھی گئی بلکہ صورت حال اس کے برعکس ہے کیونکہ سعودی اب حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ برسوں کی لڑائی کے بعد، سعودیوں اور حوثیوں نے 2022 میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ، جس نے یمنی حکومت سمیت حوثی مخالف گروہوںکے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ، عالمی حالات کے تناظر میں امریکی و اسرائیل سمیت مغربی قوتوں کے لئے یمن کی جنگ کے لئے پراکسی تلاش کرنا دشوار ہو گا کیونکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کے بعد سعودی عرب کے دفاعی قوت میں غیرمعمولی اضافہ کی بدولت علاقائی طاقتیں یمن کے محاذ سمیت خلیج عدن میں سعودیہ کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا حصہ بننے کے قابل نہیں رہیں




