یورپی یونین کے رہنماؤں کی جانب سے بھارت کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ (FTA) طے کرنے کا فیصلہ محض یورپ اور بھارت کے درمیان تجارت تک محدود اثرات نہیں رکھتا، بلکہ اس کے مضمرات ترکی جیسے ممالک کے لیے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ یہ معاہدہ ایک بار پھر ترکی کے یورپی یونین کے ساتھ کسٹمز یونین کے ڈھانچے میں موجود بنیادی کمزوریوں کو سامنے لے آیا ہے۔
یہ معاہدہ، جو اندازاً 26 جنوری 2026 کے آس پاس حتمی شکل اختیار کرے گا، ترکی کے لیے ایک ایسا تجارتی عدم توازن پیدا کر سکتا ہے جو اس کی صنعتی مسابقت اور تجارتی خسارے کو مزید بڑھا دے۔
EU–بھارت معاہدہ ترکی کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
ترکی اور یورپی یونین کے درمیان 1996 سے نافذ کسٹمز یونین کے تحت ترکی صنعتی مصنوعات پر یورپی یونین کے کامن ایکسٹرنل ٹیرف کی پیروی کرنے کا پابند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یورپی یونین کسی تیسرے ملک کے ساتھ ٹیرف کم یا ختم کرتی ہے تو ترکی کو بھی وہی رعایت دینی پڑتی ہے—خواہ وہ اس معاہدے کا فریق ہو یا نہیں۔
بھارت کے معاملے میں اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
- بھارتی مصنوعات کو ترکی کی مارکیٹ تک کم یا صفر ٹیرف رسائی مل جاتی ہے
- ترکی کو بھارت کی مارکیٹ تک خودکار رسائی حاصل نہیں ہوتی
- ترک برآمدات کو اب بھی بھارتی ٹیرف کا سامنا رہتا ہے
یوں بھارتی مصنوعات پہلے یورپی یونین اور پھر بغیر رکاوٹ ترکی میں داخل ہو سکتی ہیں، جبکہ ترک مصنوعات بھارت میں مسابقتی رکاوٹوں کا شکار رہتی ہیں۔
ایک پرانا مگر سنگین مسئلہ
یہ صورتحال نئی نہیں۔ ماضی میں جنوبی کوریا، کینیڈا اور جاپان کے ساتھ یورپی یونین کے معاہدوں کے بعد بھی ترکی کو اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا رہا۔ تاہم بھارت کے ساتھ معاہدہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ بھارت:
- ایک بڑی ابھرتی ہوئی معیشت ہے
- سستے اور بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے
- عالمی سپلائی چین میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہا ہے
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے
EU–بھارت FTA کے بعد ترکی کے جن شعبوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، ان میں شامل ہیں:
- آٹو موٹو اور اسپیئر پارٹس
- ٹیکسٹائل اور ملبوسات
- کیمیکلز اور ہلکی صنعت
یہ وہ شعبے ہیں جن پر ترک برآمدات بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں اور جہاں بھارتی مصنوعات قیمت کے لحاظ سے زیادہ مسابقتی ہیں۔
ترکی کے تجارتی توازن پر اثرات
اس تجارتی عدم توازن کے نتیجے میں:
- بھارت سے ترکی کی درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے
- مقامی صنعت کو دباؤ کا سامنا ہوگا
- ترکی کا تجارتی خسارہ بڑھنے کا امکان ہے
- برآمدی صنعت کی عالمی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے
یہ تمام عوامل ترکی کے طویل المدتی معاشی اہداف کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ترکی کو خودکار فائدہ کیوں نہیں ملتا؟
اس مسئلے کی جڑ ترکی کی انوکھی حیثیت میں ہے۔ ترکی یورپی یونین کا رکن نہیں، مگر اس کی تجارتی پالیسیوں سے بندھا ہوا ہے۔ یورپی یونین جب بھی کسی تیسرے ملک کے ساتھ معاہدہ کرتی ہے، ترکی کو اس کے نتائج قبول کرنے پڑتے ہیں—بغیر مذاکرات کی میز پر موجودگی کے۔
ترکی کے پاس کیا راستے ہیں؟
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ترکی کے پاس چند محدود مگر واضح آپشنز ہیں:
- بھارت کے ساتھ علیحدہ فری ٹریڈ معاہدہ طے کرے
- EU–ترکی کسٹمز یونین کی اصلاح یا جدید کاری کے لیے دباؤ ڈالے
- اپنی برآمدات کو نئے منڈیوں کی جانب متنوع کرے
ان میں سب سے فوری حل ترکی–بھارت معاہدہ ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ سیاسی اور تجارتی لحاظ سے ایک مشکل عمل ہوگا۔
وسیع تر اسٹریٹجک پیغام
EU–بھارت FTA ایک بڑے اسٹریٹجک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے: عالمی معیشت میں بڑے تجارتی بلاکس تیزی سے نئے معاہدے کر رہے ہیں، جبکہ ترکی کا موجودہ تجارتی ماڈل اس بدلتی دنیا سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔
ہر نیا یورپی معاہدہ ترکی کے لیے یہ سوال مزید سنگین بنا دیتا ہے کہ آیا وہ موجودہ کسٹمز یونین کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے یا اسے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
نتیجہ
یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر ترکی کے لیے یہ ایک بار پھر اس کے تجارتی ڈھانچے کی خامیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر ترکی نے بھارت کے ساتھ اپنا معاہدہ یا یورپی یونین کے ساتھ کسٹمز یونین میں اصلاحات نہ کیں تو ایسے عدم توازن مستقبل میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
بدلتی عالمی تجارت میں ترکی کے لیے اب فیصلہ ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔




