بھارت کے آرمی چیف Upendra Dwivedi نے کہا ہے کہ جدید جنگ میں راکٹ اور میزائل ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں اور مؤثر اثر کے لیے دونوں کا مشترکہ استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت بھی ایک راکٹ–میزائل فورس قائم کرے۔
پاکستان اور چین کا حوالہ
جنرل دویدی نے کہا کہ Pakistan پہلے ہی راکٹ فورس قائم کر چکا ہے جبکہ China بھی اس نوعیت کی فورس رکھتا ہے، اس لیے بھارت کے لیے بھی ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
پنکا سسٹم اور بڑھتی رینج
بھارتی آرمی چیف کے مطابق پنکا راکٹ سسٹم کا 120 کلومیٹر رینج تک کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔ مزید معاہدوں کے تحت رینج کو 150 کلومیٹر تک بڑھانے پر کام جاری ہے، جبکہ مستقبل میں 300 سے 450 کلومیٹر تک رینج حاصل کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
راکٹ اور میزائل: ایک ہی اسٹرائیک ڈھانچہ
انہوں نے کہا کہ اگر مطلوبہ اثر حاصل کرنا ہو تو راکٹ اور میزائل دونوں یکساں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے پرالے اور براہموس جیسے میزائل پروگرامز کا حوالہ بھی دیا۔
علاقائی اثرات
ماہرین کے مطابق یہ بیان بھارت کے فوجی نظریے میں طویل فاصلے کی اسٹرائیک صلاحیتوں پر بڑھتی توجہ کی نشاندہی کرتا ہے، جسے خطے میں سکیورٹی توازن کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔




