ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جون 2025 میں امریکی حملوں کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات پر غیر پھٹنے والا اسلحہ موجود ہے، جو بین الاقوامی معائنوں کے لیے سنجیدہ حفاظتی خطرات پیدا کر رہا ہے۔
8 فروری 2026 کو Middle East Monitor کی رپورٹ کے مطابق، عراقچی نے واضح کیا کہ معائنہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب حفاظت، سکیورٹی اور رسائی سے متعلق ایک مخصوص پروٹوکول پر اتفاق ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے کوئی موجودہ بین الاقوامی قانونی فریم ورک موجود نہیں، خصوصاً اس تناظر میں کہ حملوں میں چودہ GBU-57A/B بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے۔
غیر معمولی صورتِ حال اور قانونی خلا
ایرانی حکام کے مطابق، یہ صورتِ حال اپنی نوعیت کی بے مثال ہے۔ غیر پھٹنے والا اسلحہ نہ صرف معائنہ کاروں کے لیے جسمانی خطرہ ہے بلکہ زیرِ زمین ڈھانچوں کے استحکام پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ International Atomic Energy Agency کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم معائنوں سے قبل ایک نیا اور واضح پروٹوکول ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
جون 2025 کی جھڑپوں کا پس منظر
یہ حملے جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جھڑپوں کے دوران ہوئے، جنہیں ایران اسرائیلی کارروائی قرار دیتا ہے جسے امریکی حمایت حاصل تھی۔ ایرانی بیانات کے مطابق، اس مہم میں فوجی اہداف کے ساتھ ساتھ جوہری تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنس دانوں کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
اسی دوران United States نے براہِ راست فوردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ ایران نے بعد ازاں نقصان کی تصدیق کی، مگر کہا کہ حساس مواد پہلے ہی منتقل کر دیا گیا تھا اور فوری تابکاری خطرہ پیدا نہیں ہوا۔
GBU-57 بنکر بسٹر اور تکنیکی حساسیت
GBU-57 Massive Ordnance Penetrator تقریباً 13,600 کلوگرام وزنی ہتھیار ہے، جسے صرف B-2 Spirit کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ بم سخت اسٹیل کیسِنگ اور تاخیری فیوز کے ذریعے گہرائی میں جا کر دھماکے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اگر فیوز ناکام ہو جائے یا ٹکراؤ کی حالتیں دھماکے میں خلل ڈالیں، تو بم زیرِ زمین بڑی حد تک سالم رہ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، کچھ بموں کے نہ پھٹنے کا امکان موجود ہے۔
ممکنہ مضمرات
اگر غیر پھٹنے والے GBU-57 بموں کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا کر نکال لیا جائے، تو ان کا معائنہ کیسنگ کی موٹائی، دھاتوں کے امتزاج، ساختی مضبوطی، رہنمائی نظام اور فیوز ڈیزائن جیسے پہلوؤں پر روشنی ڈال سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق، اس سے ہتھیار کی نقل تیار کرنا خودکار طور پر ممکن نہیں، کیونکہ اس کے لیے اعلیٰ درجے کی دھات کاری، درست مشیننگ اور بھاری پلیٹ فارم درکار ہوتا ہے۔ زیادہ حقیقت پسندانہ پہلو یہ ہے کہ ایسی جانچ دفاعی اقدامات—جیسے سرنگوں کی گہرائی، ترتیب اور مضبوطی—کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کار اصولی سطح پر میزائل پر مبنی بنکر بسٹر تصورات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، جیسا کہ Hyunmoo-5۔
ایران نے نقل تیار کرنے کے ارادے کا اعلان نہیں کیا، مگر اس کا مؤقف ہے کہ غیر پھٹنے والے اسلحے اور قانونی پروٹوکول کے بغیر معائنہ نہ محفوظ ہے اور نہ ہی واضح طور پر ضابطہ بند۔




