بدھ, 4 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

مبینہ ایرانی ڈرون حملے: ریاض میں سی آئی اے مرکز اور دبئی میں امریکی قونصل خانے کو نشانہ، خلیجی سکیورٹی میں بڑی خامیاں بے نقاب

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان مبینہ ایرانی خودکش ڈرون حملوں نے خلیجی خطے میں امریکی سفارتی اور انٹیلی جنس انفراسٹرکچر کی کمزوریاں نمایاں کر دی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ میں واقع سی آئی اے کے علاقائی مرکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک علیحدہ حملے میں دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون گرنے سے شدید آگ بھڑک اٹھی۔

امریکی حکام کی داخلی رپورٹس کے مطابق ریاض میں حملے کے نتیجے میں عمارت کی چھت کے کچھ حصے گر گئے اور اندرونی حصوں میں دھواں بھر گیا جبکہ دبئی میں عینی شاہدین نے قونصل خانے کی عمارت سے بلند شعلے اٹھتے دیکھے۔

ریاض میں سی آئی اے کے علاقائی مرکز کو نشانہ

امریکی حکام کے مطابق ڈرون حملے ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر موجود ایک عمارت پر ہوئے جہاں سی آئی اے کا اہم انٹیلی جنس مرکز قائم ہے۔

اگرچہ امریکہ اور سعودی حکام نے سفارت خانے پر ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے باضابطہ طور پر یہ نہیں کہا کہ اصل ہدف سی آئی اے کا مرکز تھا۔

داخلی پیغامات کے مطابق حملے سے سفارت خانے کی عمارت کی چھت کے کچھ حصے منہدم ہو گئے جبکہ اندرونی کمروں میں شدید دھواں پھیل گیا۔

یہ مرکز مشرق وسطیٰ میں امریکی انٹیلی جنس سرگرمیوں کے لیے ایک اہم کوآرڈینیشن ہب سمجھا جاتا ہے۔

دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملہ

اسی دوران ایک مشتبہ ایرانی خودکش ڈرون دبئی میں امریکی قونصل خانے کی عمارت سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں عمارت کے مختلف حصوں میں آگ لگ گئی۔

یہ بھی پڑھیں  وینزویلا کارروائی کے بعد ٹرمپ کی کولمبیا کو وارننگ، صدر پیٹرو پر کوکین اسمگلنگ کے الزامات

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد دبئی کے آسمان پر دھوئیں اور شعلوں کے بڑے بادل نظر آئے۔

دبئی سول ڈیفنس اور امریکی سکیورٹی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور قونصل خانے کے عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ سے دفاتر، کمیونیکیشن رومز اور ویزا پراسیسنگ کے شعبوں کو نقصان پہنچا۔

کم لاگت ڈرون اور خلیجی فضائی دفاع کی کمزوریاں

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ حملے لوئٹرنگ میونیشن یا کامیکازی ڈرونز کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ ڈرون کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے روایتی فضائی دفاعی نظام سے بچ سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید میزائل دفاعی نظام موجود ہیں، مگر یہ زیادہ تر بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں، چھوٹے ڈرونز کے لیے نہیں۔

اسی وجہ سے کم رفتار اور کم بلندی پر آنے والے ڈرون اکثر ریڈار سے بچ نکلتے ہیں۔

ایران کی اسیمٹرک جنگی حکمت عملی

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے ایران کی اسیمٹرک جنگی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

اس حکمت عملی میں کم لاگت ہتھیار استعمال کرکے زیادہ اہم اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ بڑے فوجی تصادم کے بغیر اسٹریٹیجک اثرات پیدا کیے جا سکیں۔

ریاض اور دبئی میں بیک وقت حملے کر کے دو اہم امریکی اداروں کو نشانہ بنایا گیا:

  • امریکی سفارتی تنصیبات

  • امریکی انٹیلی جنس نیٹ ورک

امریکی سفارتی عملے پر نفسیاتی اثرات

اگرچہ کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ان حملوں نے امریکی سفارتی اور انٹیلی جنس عملے پر نفسیاتی اثرات ضرور چھوڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر حملے: سیٹلائٹ تصاویر میں خلیجی خطے میں کمیونیکیشن سسٹمز کو نقصان ظاہر

ریاض میں سفارت خانے کے اندر موجود عملہ دھوئیں کے باعث محفوظ کمروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔

دوسری طرف دبئی میں قونصل خانے کے عملے کو آگ اور دھماکے کے بعد فوری طور پر عمارت خالی کرنا پڑی۔

یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جدید ڈرون جنگ کے دور میں محفوظ سمجھی جانے والی سفارتی عمارتیں بھی خطرے سے خالی نہیں رہیں۔

خلیج میں ڈرون دفاعی نظام کی ضرورت

ماہرین کے مطابق ان واقعات کے بعد امریکہ اور خلیجی ممالک کو انسداد ڈرون دفاعی نظام مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

ممکنہ اقدامات میں شامل ہیں:

  • الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز

  • ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیار

  • چھوٹے اہداف کو پکڑنے والے جدید ریڈار

  • مربوط سینسر نیٹ ورک

ماہرین کے مطابق چند ہزار ڈالر مالیت کا ڈرون کروڑوں ڈالر کے دفاعی نظام کو چیلنج کر سکتا ہے۔

خلیجی خطے میں نئی خفیہ جنگ

ریاض اور دبئی کے یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نئی خفیہ جنگ تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہے۔

ان حملوں کا مقصد صرف جسمانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ علاقائی طاقت کے توازن اور سکیورٹی کے تاثر کو بھی متاثر کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ردعمل اس بات کا تعین کرے گا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری اس سائے کی جنگ کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین