بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

اسرائیل کی نظریں جنوبی یمن پر؟ صومالی لینڈ کے بعد یو اے ای حمایت یافتہ دھڑوں کی منظوری پر قیاس آرائیاں

اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد جنوبی یمن میں یو اے ای کی حمایت یافتہ ایک سیاسی تنظیم کے زیر اثر علاقے کو تسلیم کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس ممکنہ قدم کا مقصد بحیرۂ احمر کے ساحلی خطے میں ایران نواز حوثی تحریک  کے خلاف اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا ہو سکتا ہے، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے Kan 11 میں عرب امور کے سربراہ روئی کائس کے مطابق، صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد جنوبی یمن میں یو اے ای حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے اسرائیل کو اب تک کوئی کھلا ردِعمل موصول نہیں ہوا۔ ان کے بقول، “ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی پیغام ہے بھی تو وہ پسِ پردہ ہی رہے گا۔”

Image

پسِ پردہ توقعات اور اسٹریٹجک منطق

روئی کائس کا کہنا ہے کہ بند کمروں میں ہونے والی بات چیت میں جنوبی یمن کے بعض عناصر—جنہیں یو اے ای کی حمایت حاصل ہے—اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ صومالی لینڈ کے بعد اسرائیل جنوبی یمن میں مجوزہ خودمختار علاقے کو بھی تسلیم کر سکتا ہے۔ یہ علاقہ عموماً Southern Transitional Council (ایس ٹی سی) سے منسوب کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نقشے پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ اگر اسرائیل صومالی لینڈ اور جنوبی یمن میں کسی خودمختار انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو یہ بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اطراف حوثیوں کے لیے ایک نیا دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔ چونکہ حوثیوں کی اصل قوت شمالی یمن میں مرکوز ہے، اس لیے ساحلی تعاون ان کی بحری اور میزائل سرگرمیوں کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  یمن میں سعودی–اماراتی ٹکراؤ کھل کر سامنے آ گیا: مکلا پر فضائی حملہ، یو اے ای افواج کو 24 گھنٹے میں انخلا کا الٹی میٹم

یمن میں زمینی پیش رفت اور خلیجی کشیدگی

رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں یو اے ای حمایت یافتہ جنوبی فورسز نے جنوب مشرقی یمن میں سعودی حمایت یافتہ دھڑوں کی قیمت پر قابلِ ذکر عسکری پیش رفت کی ہے۔ اس پیش رفت نے ریاض اور ابوظبی کے درمیان پسِ پردہ تناؤ کو بھی جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صومالی لینڈ کے بعد اسرائیل جنوبی یمن کے معاملے میں بھی فعال کردار ادا کرے گا—اس کا جواب ابھی غیر یقینی ہے۔

Image

 Fact Check: صومالی لینڈ اور عالمی ردِعمل

  • حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ صومالی لینڈ یا بحیرۂ احمر کے اطراف کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو وہ فوجی ہدف تصور کریں گے۔
  • United States Department of State نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ واشنگٹن صومالیہ کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے، جس میں صومالی لینڈ بھی شامل ہے۔
  • Taiwan نے صومالی لینڈ کو 2020 میں تسلیم کیا تھا، جب کہ اسرائیل کے بارے میں بعض دعوے کہ وہ “دوسرا” تسلیم کرنے والا ملک ہے، متنازع ہیں۔
  • Somalia، Turkey اور Egypt نے صومالی لینڈ کی کسی بھی منظوری کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایک مشترکہ بیان میں وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu، وزیرِ خارجہ Gideon Sa’ar اور صومالی لینڈ کے صدر Abdirahman Mohamed Abdullahi کا حوالہ دیا گیا، تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی باضابطہ منظوری کے لیے مزید قانونی اور سفارتی مراحل درکار ہوتے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہو سکی۔

نتیجہ

فی الحال اسرائیل کی جانب سے جنوبی یمن کے بارے میں سوچ بچار غیر رسمی اور قیاسی مرحلے میں ہے۔ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس کے سفارتی اثرات وسیع ہوں گے، خلیجی اختلافات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے مؤقف، یمن کی زمینی صورتحال اور علاقائی ردِعمل فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  یوکرین جنگ 1000 ویں دن میں داخل، اب تک یوکرین کو ہونے والے جانی و مالی نقصانات کیا ہیں؟
آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین