ہفتہ, 30 اگست, 2025

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

مودی نے بھارت کو سفارتی تنہائی کا شکار کردیا

پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران ہندوستان کو مکمل سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سفارتی سطح پر ہندوستان کی اس وقت صورتحال اس قدر خراب ہے ہے یورپ سے امریکا اور مشرق وسطی تک کے ممالک کے ساتھ بھارت کے سفارتی تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آگئے ہیں۔

ہندوستان کو پہلگام فالس فلیگ کے بعد پاکستان پر الزام اور حملے کے لیے اسرائیل کے سوا کسی بھی ملک سے اعلانیہ مدد حاصل نہیں ہوسکی۔ ہندوستان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں اقوام متحدہ سمیت دنیا کو اپنے ساتھ ملانے میں پہلی بار بری طرح ناکام رہا۔

نئی دہلی میں موجود ذرائع نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی طرف سے ہندوستان پر جوابی حملے کے دوگھنٹے بعد ہی ہندوستان کے وزیر خارجہ جے شنکر نے امریکا کے وزیرخارجہ مارکیو روبیو سے رابطہ کیا اور پاکستان کو روکنے کی درخواست کی۔اس پر امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ میں پاکستان سے دوبار بار بات کرچکا ہوں۔ پاکستان کی طرف سے پہلگام کے واقعہ کی شفاف تحقیقات کی پیشکش بھی آپ تک پہنچا چکا ہوں لیکن آپ نے امریکا کی بات نہ مانتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا جس کا جواب پاکستان کی طرف سے آنا فطری تھا۔ممکن ہے اس وقت پاکستان بھی امریکا کی بات نہ سنے۔ اس پر جے شنکر نے کہا کہ اگر یہ حملہ کچھ دیر اور جاری رہا تو ہندوستان کا بہت زیادہ نقصان ہوگا اور ہماری جگ ہسائی ہو گی۔

ذرائع نے بتایا کہ مارکو روبیونے پہلی گفتگو میں ہندوستان کو کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں دیا جس کے کچھ دیر بعد نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے خود درخواست کی کہ وہ فوری سیز فائر چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے شرط رکھی کہ اگر وہ پاکستان کو راضی کرلیتے ہیں تو سیز فائر کا اعلان وہ خود کریں گے تاکہ بھارت کے پاس دوبارہ چھیڑ خانی کرنے کا موقع ہی نہ رہے۔بھارت کو یہاں بھی اپنی بات منوانے میں ناکامی کا سامنا رہا۔

یہ بھی پڑھیں  یورپی اتحادیوں کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات تیزی سے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں

ڈیفنس ٹاکس نے مودی کے غیرملکی دوروں  کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جس کے مطابق مودی نے سفارتکاری کی غرض سے گیارہ سالوں میں تہتر ممالک کے ایک سو ستاون غیر ملکی دورے کیے اور ان دونوں پر آٹھ ہزار چار سو کروڑ ہندوستان روپے کے اخراجات آئے جو پاکستانی کرنسی میں تیس ہزارکروڑ روپے بنتے ہیں۔

مودی نے سب سے زیادہ دس دورے امریکا ،آٹھ دورے فرانس، سات سات دورے جاپان ،روس اور متحدہ عرب امارات کے کیے۔دنیا کو ساتھ ملانے اورکسی بھی ملک کے وزیراعظم کی طرف سے خود سفارتکاری پر اتنی بھاری سرمایہ کاری کے باجوداتنے اہم اور جنگ جیسے کڑے وقت میں دنیا کا ہندوستان کو دھتکارنا پوری دنیا میں زیر بحث ہے

۔اس وقت ہندوستان کی اپوزیشن ہی نہیں بلکہ عام عوام بھی سوال کررہے ہیں کہ اگر گیارہ سالوں کی سفارتکاری کا حاصل یہی ہے کہ تو پھر اس قدر سرمایہ اجاڑنے کا کیا فائدہ ہوا۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشرق وسطی کے دورے پر آئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ہر خطاب میں ہندوستان کو مخاطب کرتے ہوئے ڈکٹیٹ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کا خیال ترک کرے تجارت کی طرف آئے۔

ٹرمپ نے ایپل کے سی ای او ٹم کک سے بھی کہا کہ وہ ہندوستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی مینوفیکچرنگ بندکردے اس کو بھی سفارتی محاذ پر بھارت کی ناکامی کہا جارہا ہے۔ یہ بھی سفارتی تنہائی کی ہی مثال ہے کہ جب بھارت نے پاکستان کا ساتھ دینے پر ترکیہ کیخلاف بائیکاٹ مہم شروع کی تو ایک بار پھر ٹرمپ درمیان میں آگئے اور ترکی کو میزائل دینے کا اعلان کرکے ہندوستان کو پیغام دیا کہ اس کو دنیا میں ایک ذمہ دار ملک کی طرح رہنا پڑے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان پاکستان کو سفارتی طورپر تنہاکرنے کے مشن پر تھا لیکن خود اس تنہائی کا شکار ہوگیا جو گڑھا اس نے پاکستان کے لیے کھودا تھا وہ خود اس گہرے گڑھے میں گرگیا ہے لیکن دنیا میں سوائے اسرائیل کے اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے اسرائیل ظاہری اور اعلانیہ بھارت کے ساتھ ہے تو افغانستان خفیہ طوپر ہندوستان کی حمایت کررہا ہے اس کے لیے پوری دنیا پاکستان کے موقف کے ساتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں  روس اور چین کی مخالفت کے بعد امریکا نے ہیٹی میں امن مشن کا مطالبہ ترک کردیا
جبار چودھری
جبار چودھری
جبارچودھری ،پاکستان کے سینئر صحافی ہیں، ان کا پرنٹ ،الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں پچیس سال کا تجربہ ہے. وہ پاکستان کے صف اول کے ٹی وی چینلز کے نیوز مینجر رہے ،کرنٹ افیئرز کے کئی نمبر ون شوز کے ایگزیکٹو پروڈیوسر رہے. جبارچودھری ڈیجیٹل میڈیا پر فیک نیوز کیخلاف فیکٹس ود جے سی کے نام سے یوٹیوب چینل بھی چلاتے ہیں. جبار چودھری امریکی ادارے ایسٹ ویسٹ سنٹر کے پاک بھارت کراس بارڈر جرنلزم پراجیکٹ کا حصہ ہیں. وہ بھارتی میڈیا کو گزشتہ دس سال سے ڈیل کررہے ہیں انہوں نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ہندوستانی میڈیا پر پاکستان کا مقدمہ بھرپور طریقے سے فیکٹس کے ساتھ لڑا اور جیتا. اسی وجہ سے ہندوستانی میڈیا نے ان پر پابندی عائد کی اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارت میں بند کردیے. وہ پاک بھارت اسٹریٹیجک تعلقات کے ماہر ہیں.

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین