ہفتہ, 28 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

مودی کا اسرائیل دورہ: 10 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے، بھارت کی فضائی دفاعی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کو محض ایک سفارتی سرگرمی سے کہیں زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ ممکنہ 10 ارب ڈالر تک کے اسلحہ معاہدوں سے جڑا ہوا ہے، جن میں خاص طور پر فضائی دفاع، میزائل روکنے کے نظام اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر توجہ دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ان مذاکرات کی فوری ضرورت کی وجہ بھارت کا حالیہ عسکری تجربہ ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران، جس نے ڈرونز، میزائلوں اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کے خلاف بھارت کی کمزوریوں کو نمایاں کیا۔

بھارت کی ترجیح: فضائی دفاع کیوں؟

بھارتی دفاعی منصوبہ ساز اب ایسے ملٹی لیئر فضائی دفاعی نظام کو ترجیح دے رہے ہیں جو جدید خطرات کا مقابلہ کر سکیں، جن میں شامل ہیں:

  • مسلح اور نگرانی کرنے والے ڈرونز
  • کروز اور بیلسٹک میزائل
  • راکٹ اور توپ خانے کے حملے
  • ڈرون سوارم کی حکمتِ عملی، جو حالیہ تنازعات میں دیکھی گئی

اسرائیل کے جنگ میں آزمودہ دفاعی نظام اس شعبے میں انتہائی مؤثر سمجھے جاتے ہیں، اسی لیے بھارت کی جدید کاری کی کوششوں میں اسرائیل ایک فطری شراکت دار بن کر سامنے آتا ہے۔

زیرِ غور اہم اسرائیلی دفاعی نظام

اگرچہ باضابطہ فہرست جاری نہیں کی گئی، مگر دفاعی رپورٹس کے مطابق بھارت کی دلچسپی ان اسرائیلی نظاموں میں ہے:

  • آئرن ڈوم — قریبی فاصلے کے راکٹ اور ڈرون روکنے کا نظام
  • ڈیوڈز سلنگ — درمیانی فاصلے کے میزائل اور کروز خطرات کے خلاف
  • ایرو میزائل ڈیفنس سسٹم — طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے
  • آئرن بیم — لیزر پر مبنی نظام، کم لاگت میں ڈرون اور راکٹ روکنے کی صلاحیت
یہ بھی پڑھیں  اسرائیل کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے، جنرل حسین سلامی اور دو جوہری سائنسدان مارے گئے

بھارتی حکام خاص طور پر ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مقامی پیداوار میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ ان نظاموں کو بھارت کی جغرافیائی اور سکیورٹی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

پاکستان عنصر: ایک اسٹریٹجک جھٹکا

بھارتی میڈیا اکثر 2025 میں پاکستان کے ساتھ ایک مختصر مگر شدید عسکری تصادم کا حوالہ دیتا ہے، جسے بعض تجزیہ کار “منی وار” قرار دیتے ہیں۔ اس دوران:

  • ڈرون دراندازی اور میزائل خطرات نے فضائی دفاع کی کمزوریاں ظاہر کیں
  • تیز رفتار کشیدگی نے فوری ردِعمل والے دفاعی نظام کی ضرورت واضح کی
  • اسرائیلی فضائی دفاع کی عملی کارکردگی نے بھارتی حلقوں میں توجہ حاصل کی

ایک بھارتی دفاعی تجزیہ کار کے مطابق:
“بھارت کو یہ احساس ہوا کہ مستقبل کی جنگیں سب سے پہلے فضا میں اور بغیر پائلٹ نظاموں کے ذریعے لڑی جائیں گی۔”

خریداری سے آگے: مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی

مودی کے دورے کا ایک مرکزی پہلو طویل المدت دفاعی تعاون ہے، نہ کہ صرف اسلحہ خریدنا۔ متوقع موضوعات میں شامل ہیں:

  • بھارتی اور اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے
  • بھارت کی آتم نربھر بھارت (خود انحصاری) پالیسی کے تحت مقامی پیداوار
  • اینٹی ڈرون جنگ، سینسرز اور میدانِ جنگ میں مصنوعی ذہانت پر مشترکہ تحقیق

یہ تعاون بھارت کو روایتی سپلائرز پر انحصار کم کرنے اور اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔

جغرافیائی و سیاسی اثرات

ممکنہ معاہدے بڑے اسٹریٹجک رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں:

  • بھارت دفاعی شراکت داروں میں تنوع لا رہا ہے
  • اسرائیل جنوبی ایشیا کی سکیورٹی میں اپنا کردار مضبوط کر رہا ہے
  • دونوں ممالک ڈرونز، میزائل پھیلاؤ اور ہائبرڈ جنگ جیسے نئے خطرات پر ہم آہنگ ہو رہے ہیں
یہ بھی پڑھیں  ڈونیٹسک: روس۔یوکرین جنگ میں امن معاہدے کی سب سے بڑی رکاوٹ کیوں؟

علاقائی مبصرین کے نزدیک یہ معاہدے جنوبی ایشیا کے سکیورٹی ماحول میں تیز رفتار تبدیلی کی علامت ہیں۔

نتیجہ

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کے گرد گھومنے والی اربوں ڈالر کی دفاعی بات چیت بھارت کی دفاعی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کی عکاس ہے۔ حالیہ تنازعات سے حاصل ہونے والے اسباق اور ڈرون و میزائل خطرات کے پیشِ نظر، بھارت اسرائیل سے نہ صرف آزمودہ فضائی دفاعی نظام چاہتا ہے بلکہ ایسی شراکت داری بھی جو مشترکہ تحقیق اور پیداوار تک پھیلی ہو۔

اگر یہ معاہدے طے پا جاتے ہیں تو یہ آنے والی دہائیوں کے لیے بھارت کے فضائی دفاعی ڈھانچے کو بدل سکتے ہیں اور بھارت–اسرائیل دفاعی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین