بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

یوکرین امن تجاویز پر ماسکو–واشنگٹن رابطے: کریملن نے ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت کی تصدیق کر دی

کریملن نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین میں ممکنہ امن معاہدے سے متعلق امریکی تجاویز موصول ہونے کے بعد روسی حکام نے امریکی انتظامیہ کے اراکین سے براہِ راست رابطے کیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

کریملن کے ترجمان Dmitry Peskov نے بتایا کہ روسی صدر Vladimir Putin کے خارجہ پالیسی کے مشیر Yuri Ushakov نے امریکی صدر Donald Trump کی انتظامیہ کے متعدد عہدیداروں سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ تاہم رابطوں کے وقت کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔

پیسکوف کے مطابق صدر پوتن کے خصوصی ایلچی Kirill Dmitriev ہفتے کے آخر میں میامی میں ملاقاتوں کے بعد امریکی امن تجاویز کی تحریری نقول ماسکو واپس لائے، جن کا کریملن میں تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “معلومات کا تجزیہ کیا گیا اور صدر پوتن کی جانب سے روس اور امریکا کی انتظامیہ کے نمائندوں کے درمیان رابطہ ہوا۔ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔”

کریملن نے تجاویز کے مندرجات پر عوامی تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر بیانات مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے معاملات کو بند کمروں میں ہی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ادھر روسی اخبار Kommersant نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر پوتن نے چند بڑے روسی کاروباری رہنماؤں سے گفتگو میں عندیہ دیا کہ وہ یوکرین میں روس کے زیرِ کنٹرول بعض علاقوں کے تبادلے پر غور کر سکتے ہیں، تاہم ڈونباس کے پورے خطے پر روسی کنٹرول ان کی بنیادی شرط رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں  لبنان پر اسرائیلی حملہ مشرق وسطیٰ کو مکمل طور پر غیرمستحکم کر سکتا ہے، کریملن

Image

اس رپورٹ پر سوال کے جواب میں پیسکوف نے کہا کہ یوکرین امن مذاکرات پر بات “عمومی طور پر” ہوئی ہے، مگر تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی چینلز دوبارہ فعال ہو رہے ہیں، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین