منگل, 31 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

مشرقِ وسطیٰ میں نئی پراکسی جنگیں: یمن، سوڈان اور اردن کی کارروائیوں نے علاقائی سلامتی کو کیسے بدل دیا

حالیہ ہفتوں میں یمن، سوڈان اور خطۂ شام و اردن میں ہونے والی عسکری پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کھلی مگر بالواسطہ پراکسی جنگوں کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی اور اردن کی حرکات محض مقامی واقعات نہیں بلکہ بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں، باہمی عدم اعتماد اور طاقت کے نئے توازن کی عکاس ہیں۔

Image

یمن: سعودی عرب کا یو اے ای نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف اقدام

یمن میں سعودی عرب کی جانب سے یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی ایک غیر معمولی اور علامتی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کارروائیاں بنیادی طور پر Southern Transitional Council کے زیرِ اثر علاقوں میں کی گئیں، جسے طویل عرصے سے United Arab Emirates کی سیاسی اور عسکری سرپرستی حاصل رہی ہے۔

کئی برس تک ریاض اور ابوظہبی نے حوثیوں کے خلاف اتحاد کے نام پر اپنے اختلافات کو دبائے رکھا، مگر اب سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچتا دکھائی دیتا ہے کہ جنوبی یمن کی علیحدگی اس کے طویل المدتی مفادات کے لیے حوثیوں سے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب اب یمن میں کسی بھی ایسے حل کو قبول نہیں کرے گا جو ریاستی وحدت کو مستقل طور پر کمزور کرے، چاہے اس کے لیے اسے اپنے سابقہ اتحادیوں کے خلاف ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

سوڈان: مصر اور ترکی کی حمایت، یو اے ای نواز آر ایس ایف کو بھاری نقصان

سوڈان کی خانہ جنگی میں بھی علاقائی طاقتوں کی صف بندی مزید واضح ہو گئی ہے۔ Egypt اور Turkey کی جانب سے ریاستی ڈھانچے کے حامی عناصر کی مدد میں اضافے کے بعد Rapid Support Forces (RSF) کو نمایاں جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ آر ایس ایف کو عمومی طور پر یو اے ای کی حمایت حاصل سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  کیا روس مالدووا میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے؟

قاہرہ کے لیے سوڈان میں ریاستی انہدام دریائے نیل اور قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، جبکہ ترکی بحیرۂ احمر اور افریقہ میں اپنی اسٹریٹجک موجودگی کو یو اے ای کے اثر سے بچانا چاہتا ہے۔
اس ہم آہنگی نے سوڈان کو ایک نئی علاقائی کشمکش کا میدان بنا دیا ہے، جہاں مقامی فریقین سے زیادہ بیرونی طاقتوں کے مفادات غالب نظر آ رہے ہیں۔

اردن: الحِجری کے لاجسٹک نیٹ ورک پر فضائی حملے

اردن کی جانب سے الحِجری کے لاجسٹک نیٹ ورک پر فضائی حملے ایک اہم اسٹریٹجک پیغام سمجھے جا رہے ہیں۔ Jordan نے طویل عرصے تک خود کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی، مگر سرحدی سلامتی کو لاحق خطرات نے اسے براہِ راست کارروائی پر مجبور کر دیا۔

علاقائی سکیورٹی ذرائع کے مطابق الحِجری کا نیٹ ورک بالواسطہ طور پر اسرائیل اور یو اے ای کی حمایت سے فائدہ اٹھا رہا تھا، تاہم عمان کے لیے اصل مسئلہ یہ تھا کہ اس کے سرحدی علاقوں میں کسی بھی مسلح گروہ کی مضبوط لاجسٹک موجودگی ناقابلِ قبول ہے۔
یہ حملے اردن کی اس نئی پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے تحت وہ اب صرف بفر اسٹیٹ نہیں بلکہ اپنی سکیورٹی ریڈ لائنز کا عملی نفاذ کرنے والا کھلاڑی بنتا جا رہا ہے۔

بڑی تصویر: بکھرتے اتحاد، سخت ہوتی پراکسی لائنیں

ان تینوں واقعات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے:
مشرقِ وسطیٰ میں روایتی اتحاد کمزور ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ محدود، وقتی اور مفاد پر مبنی صف بندیاں لے رہی ہیں۔

  • سعودی عرب ریاستی استحکام اور کنٹرولڈ حل کو ترجیح دے رہا ہے، چاہے اس کے لیے اسے پرانے اتحادیوں سے ٹکراؤ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
  • یو اے ای بدستور غیر ریاستی عناصر کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔
  • مصر اور ترکی وہاں اکٹھے ہو رہے ہیں جہاں انہیں اماراتی توسیع اپنے مفادات کے خلاف محسوس ہوتی ہے۔
  • اردن اب خاموش تماشائی کے بجائے فعال دفاعی کردار اپنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں  اسرائیل، ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے، امریکی انٹیلی جنس حکام

نتیجہ: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے عدم استحکام کی طرف

یمن میں سعودی کارروائیاں، سوڈان میں آر ایس ایف کو پہنچنے والے نقصانات اور اردن کے فضائی حملے اس بات کی علامت ہیں کہ خطہ ایک بار پھر منظم ڈی اسکیلیشن سے نکل کر مسابقتی انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔
جہاں پہلے بیرونی طاقتیں پراکسی جنگوں کو کنٹرول کرتی تھیں، اب علاقائی قوتیں خود ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہیں۔

اس نئے منظرنامے میں استحکام مذاکرات سے کم اور طاقت کے استعمال سے زیادہ طے ہو رہا ہے—اور یہی حقیقت مشرقِ وسطیٰ کی آنے والی سلامتی کو سب سے زیادہ غیر یقینی بنا رہی ہے۔

انعم کاظمی
انعم کاظمی
انعم کاظمی پاکستانی صحافت کا ابھرتا ستارہ ہیں، دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، نیشنل ٹی وی چینلز پر کرنٹ افیئرز کے پروگرامز میں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور کانٹینٹ کنٹریبیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ بھی تعلق رہا، ڈیفنس ٹاکس میں کالم نگار ہیں۔ بین الاقوامی اور سکیورٹی ایشوز پر لکھتی ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین