خلیجی خطے میں جاری جنگ کے دوران نئی معلومات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق قطر میں تعینات امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اب پرانے PAC-2 انٹرسیپٹر میزائل استعمال کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ میزائل 2000 میں تیار کیے گئے تھے اور ان کا استعمال اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ جدید PAC-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کم ہو چکے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث امریکی فضائی دفاعی نظام پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
PAC-3 میزائلوں کی ممکنہ کمی
پیٹریاٹ سسٹم میں مختلف قسم کے انٹرسیپٹر میزائل استعمال ہوتے ہیں، جن میں PAC-3 سب سے جدید ورژن سمجھا جاتا ہے۔
PAC-3 میزائل خاص طور پر بیلسٹک میزائلوں کو براہ راست ٹکر (Hit-to-Kill) کے ذریعے تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
لیکن اگر امریکی فوج واقعی پرانے PAC-2 میزائل استعمال کر رہی ہے تو اس سے دو امکانات سامنے آتے ہیں:
امریکہ باقی PAC-3 میزائل کسی بڑے ممکنہ حملے کے لیے محفوظ رکھ رہا ہے
یا پھر PAC-3 میزائلوں کا ذخیرہ بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے
PAC-2 اور PAC-3 میزائل میں بنیادی فرق

پیٹریاٹ دفاعی نظام کئی دہائیوں میں مختلف اپ گریڈ سے گزرا ہے۔
PAC-2 میزائل
1990 کی دہائی میں متعارف ہوا
Fragmentation warhead استعمال کرتا ہے
بنیادی طور پر طیاروں اور کروز میزائلوں کے خلاف مؤثر
بیلسٹک میزائلوں کے خلاف محدود صلاحیت
PAC-3 میزائل
2000 کی دہائی میں متعارف ہوا
Hit-to-Kill kinetic interception استعمال کرتا ہے
خاص طور پر بیلسٹک میزائل دفاع کے لیے تیار کیا گیا
ایک لانچر میں چار PAC-3 میزائل نصب کیے جا سکتے ہیں
پرانے میزائل استعمال ہونے کے خدشات
رپورٹس کے مطابق قطر میں استعمال ہونے والے PAC-2 میزائل تقریباً 26 سال پرانے ہو سکتے ہیں۔
عام طور پر میزائل انٹرسیپٹر کی متوقع عمر 10 سے 15 سال ہوتی ہے، جس کے بعد انہیں اپ گریڈ یا تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
اتنے پرانے میزائل استعمال ہونے کا مطلب ہو سکتا ہے کہ:
امریکہ اپنے ریزرو ذخائر استعمال کر رہا ہے
یا دفاعی نظام کو چلتا رکھنے کے لیے پرانے پرزے دوبارہ استعمال کیے جا رہے ہیں
ایرانی میزائل اور ڈرون دباؤ
خلیج میں حالیہ دنوں میں ایران نے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی بڑی تعداد استعمال کی ہے۔
ان حملوں کو روکنے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو بار بار انٹرسیپٹر میزائل فائر کرنے پڑ رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ:
ایک PAC-2 میزائل کی قیمت تقریباً 2 سے 3 ملین ڈالر ہوتی ہے
جبکہ PAC-3 میزائل کی قیمت 4 سے 5 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے
اس کے مقابلے میں کئی ایرانی ڈرون چند ہزار ڈالر میں تیار کیے جاتے ہیں۔
یہ قیمت کا فرق دفاع کرنے والے ملک کے لیے بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
خلیج میں فضائی دفاع کے لیے اسٹریٹجک چیلنج
اگر PAC-3 میزائلوں کی کمی واقعی سامنے آتی ہے تو اس کے کئی اہم اثرات ہو سکتے ہیں:
پرانے PAC-2 میزائلوں پر زیادہ انحصار
THAAD اور دیگر دفاعی نظاموں کے استعمال میں اضافہ
انسداد ڈرون ٹیکنالوجی کی فوری ضرورت
میزائل انٹرسیپٹر کی تیز رفتار پیداوار
ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ میزائل ذخائر اور سپلائی چین بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
مختصر فرق:
PAC-2: پرانا میزائل، دھماکہ خیز وارہیڈ، طیاروں اور کروز میزائل کے خلاف استعمال
PAC-3: جدید میزائل، براہ راست ٹکر سے تباہی، بیلسٹک میزائل دفاع کے لیے بنایا گیا




