بدھ, 4 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

قطر میں امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ: PAC-3 میزائل ختم ہونے کے بعد 2000 کے PAC-2 انٹرسیپٹر استعمال ہونے لگے

خلیجی خطے میں جاری جنگ کے دوران نئی معلومات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق قطر میں تعینات امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اب پرانے PAC-2 انٹرسیپٹر میزائل استعمال کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ میزائل 2000 میں تیار کیے گئے تھے اور ان کا استعمال اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ جدید PAC-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کم ہو چکے ہیں۔

یہ صورتحال اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث امریکی فضائی دفاعی نظام پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔

PAC-3 میزائلوں کی ممکنہ کمی

پیٹریاٹ سسٹم میں مختلف قسم کے انٹرسیپٹر میزائل استعمال ہوتے ہیں، جن میں PAC-3 سب سے جدید ورژن سمجھا جاتا ہے۔

PAC-3 میزائل خاص طور پر بیلسٹک میزائلوں کو براہ راست ٹکر (Hit-to-Kill) کے ذریعے تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

لیکن اگر امریکی فوج واقعی پرانے PAC-2 میزائل استعمال کر رہی ہے تو اس سے دو امکانات سامنے آتے ہیں:

  • امریکہ باقی PAC-3 میزائل کسی بڑے ممکنہ حملے کے لیے محفوظ رکھ رہا ہے

  • یا پھر PAC-3 میزائلوں کا ذخیرہ بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے

PAC-2 اور PAC-3 میزائل میں بنیادی فرق

infographic explaining PAC-2 vs PAC-3 missiles

پیٹریاٹ دفاعی نظام کئی دہائیوں میں مختلف اپ گریڈ سے گزرا ہے۔

PAC-2 میزائل

  • 1990 کی دہائی میں متعارف ہوا

  • Fragmentation warhead استعمال کرتا ہے

  • بنیادی طور پر طیاروں اور کروز میزائلوں کے خلاف مؤثر

  • بیلسٹک میزائلوں کے خلاف محدود صلاحیت

PAC-3 میزائل

  • 2000 کی دہائی میں متعارف ہوا

  • Hit-to-Kill kinetic interception استعمال کرتا ہے

  • خاص طور پر بیلسٹک میزائل دفاع کے لیے تیار کیا گیا

  • ایک لانچر میں چار PAC-3 میزائل نصب کیے جا سکتے ہیں

یہ بھی پڑھیں  بائیڈن نے یوکرین کے لیے آٹھ ارب ڈالر فوجی امداد کا اعلان کردیا

پرانے میزائل استعمال ہونے کے خدشات

رپورٹس کے مطابق قطر میں استعمال ہونے والے PAC-2 میزائل تقریباً 26 سال پرانے ہو سکتے ہیں۔

عام طور پر میزائل انٹرسیپٹر کی متوقع عمر 10 سے 15 سال ہوتی ہے، جس کے بعد انہیں اپ گریڈ یا تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

اتنے پرانے میزائل استعمال ہونے کا مطلب ہو سکتا ہے کہ:

  • امریکہ اپنے ریزرو ذخائر استعمال کر رہا ہے

  • یا دفاعی نظام کو چلتا رکھنے کے لیے پرانے پرزے دوبارہ استعمال کیے جا رہے ہیں

ایرانی میزائل اور ڈرون دباؤ

خلیج میں حالیہ دنوں میں ایران نے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی بڑی تعداد استعمال کی ہے۔

ان حملوں کو روکنے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو بار بار انٹرسیپٹر میزائل فائر کرنے پڑ رہے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ:

  • ایک PAC-2 میزائل کی قیمت تقریباً 2 سے 3 ملین ڈالر ہوتی ہے

  • جبکہ PAC-3 میزائل کی قیمت 4 سے 5 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے

اس کے مقابلے میں کئی ایرانی ڈرون چند ہزار ڈالر میں تیار کیے جاتے ہیں۔

یہ قیمت کا فرق دفاع کرنے والے ملک کے لیے بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

خلیج میں فضائی دفاع کے لیے اسٹریٹجک چیلنج

اگر PAC-3 میزائلوں کی کمی واقعی سامنے آتی ہے تو اس کے کئی اہم اثرات ہو سکتے ہیں:

  • پرانے PAC-2 میزائلوں پر زیادہ انحصار

  • THAAD اور دیگر دفاعی نظاموں کے استعمال میں اضافہ

  • انسداد ڈرون ٹیکنالوجی کی فوری ضرورت

  • میزائل انٹرسیپٹر کی تیز رفتار پیداوار

ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ میزائل ذخائر اور سپلائی چین بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  شام کے بشار الاسد کازوال، اثرات لیبیا اور وسیع تر بحیرہ روم تک پھیل گئے

مختصر فرق:

  • PAC-2: پرانا میزائل، دھماکہ خیز وارہیڈ، طیاروں اور کروز میزائل کے خلاف استعمال

  • PAC-3: جدید میزائل، براہ راست ٹکر سے تباہی، بیلسٹک میزائل دفاع کے لیے بنایا گیا

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین